۔من کنت مولاہ فعلي مولاہ ۔جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا…

۔من کنت مولاہ فعلي مولاہ ۔جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا

  الشیخ شفیق الرحمٰن الدراوی

صفحہ 2 از 3

’’تم دونوں اگر اللہ کی طرف رجوع کرو توضرور تمہارے دل راہ سے کچھ ہٹ گئے ہیں اور اگر ان پر زور باندھوتو بیشک اللہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے، اور اس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں ۔‘‘

پس اس سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مومنین کے ولی ہیں او مومنین آپ سے محبت کرنے والے، آپ کے تابعدار اور دوست ہیں ۔ جیسا کہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ولی اور دوست ہیں اور اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے محب ، تابعدار اور دوست ہیں اور اہل ایمان آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔

پس موالات معادات کی ضد ہے یعنی دوستی دشمنی کا الٹ ہے۔ یہ دونوں اطراف سے ہوتی ہے۔ بھلے ان میں سے ایک فریق قدر ومنزلت کے اعتبار سے بہت بڑا ہو اور اس کی طرف سے دوستی احسان اور مہربانی ہو اور دوسرے کی طرف سے اطاعت اور عبادت گزاری ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے محبت کرتے ہیں اور اہل ایمان اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں ۔ اسی لیے کہ دوستی، دشمنی جنگ اور دھوکا بازی کا الٹ معنی دیتی ہے۔ کفار اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں کرتے وہ اللہ اور اس کے رسول کے نافرمان اور ان کے دشمن ہیں ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں اس قول نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب و موجب

اس میں کوئی اختلاف والی بات نہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے لیے نکلے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن میں تھے، آپ وہاں سے تشریف لائے مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی اور آپ کے ساتھ حج کیا۔ یمن میں آپ کے اور آپ کے ساتھیوں کے درمیان کئی امور پیش آئے جن کی وضاحت ان روایات سے ہوتی ہے:

۱۔ عمرو بن شماس اسلمی نے روایت کیا ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کیساتھ یمن میں تھا۔ بعض ترش رو لوگوں نے آپ کے ساتھ جفا کاری کا مظاہرہ کیا یہ بات آپ نے دل میں محسوس کی۔ جب مدینہ تشریف لائے تو اپنے ملنے والوں سے اس کی شکایت کی۔ ایک دن آپ تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا، حتیٰ کہ وہ آپ کے پاس بیٹھ گئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمرو بن شماس! تم نے مجھے اذیت دی ہے۔ میں نے کہا:

اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

میں اللہ تعالیٰ کی اور اسلام کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اذیت دی، اس نے مجھے اذیت دی۔ 

[ اعلام الوری: ۱۳۷۔ البحار: ۲۱؍۳۶۰۔] 

حضرت باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن مبعوث فرمایا اور پھر وہاں پر آپ کے ایک فیصلے کا قصہ سنایا، جس میں آپ نے کسی مقتول کا خون رائیگاں قرار دیا تھا مقتول کے ورثاء یمن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور ان کی بابت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کی شکایت کرتے ہوئے کہنے لگے:

’’ بے شک حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہم پر ظلم کیا ہے اور ہمارے آدمی کا خون رائیگاں قرار دیا ہے۔

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ بے شک علی ظلم کرنے والے نہیں ہیں ۔‘‘

 [ بحار الانوار: ۲۱؍۲۳۸۔ امالی الصدوق: ۳۴۸۔ الکافی: ۷؍۳۷۲۔] 

ایک دوسری روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حج کا ارادہ فرمایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن خط بھیجا کہ وہ بھی حج کی تیاری کریں ۔ تو آپ اس لشکر کے ہمراہ نکلے جو آپ کے ساتھ یمن میں تھا۔ آپ کے ساتھ وہ زیور بھی تھا جو اہل نجران سے وصول کیا تھا۔ جب مکہ کے قریب پہنچے تو آپ نے لشکر پر ایک آدمی کو اپنا جانشین مقرر فرمایا اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لشکر کی طرف لوٹ جانے کا حکم دیا۔ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ لوگوں نے وہ زیور پہن رکھا ہے جو ان کے پاس تھا۔ آپ نے اس بات کا انکار کیا اور وہ زیور ان سے واپس لے لیا۔ اس وجہ سے ان لوگوں نے اپنے دلوں میں کچھ تنگی محسوس کی۔ جب وہ مکہ میں داخل ہوئے تو کثرت کے ساتھ حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شکایات کرنے لگے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منادی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دے کہ اپنی زبانوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں روک لو، بے شک وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں سخت ہیں ۔ اپنے دین میں مداہنت کرنے والے نہیں ۔ 

[الارشاد: ۸۹۔ اعلام الوری: ۱۳۸۔ البحار: ۲۱؍۳۸۳۔ المناقب: ۲؍۱۱۰۔] 

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا جس کے امیر حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ اس سریہ میں چلتے رہے۔ آپ اس سریہ میں ایک باندی تک پہنچ گئے۔ لوگوں نے اس بات کا انکار کیا۔ ان میں سے چار اصحاب نے عہد کیا کہ جب ہماری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گی تو ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس فعل کے بارے میں بتائیں گے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان چاروں کی شکایت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روگردانی اور اس فرمان کا ذکر کیا:

مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ وَ ہٰذَا عَلِیٌّ مَوْلَاہُ۔

 [البحار: ۳۷؍۳۲۰۔۳۸؍۱۴۹۔]

 اس سے صورت حال واضح ہو گئی۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ میں مبعوث فرمایا۔ جب ہم واپس آئے تو آپ نے پوچھا: تم نے اپنے ساتھیوں کو کیسا پایا؟ کہا میں نے شکایت کی یامیرے علاوہ کسی دوسرے نے شکایت کی۔ فرماتے ہیں : میں سر جھکائے ہوئے تھا۔ جب میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور سرخ ہو گیا تھا اور آپ فرما رہے تھے:

 (( مَنْ کُنْتُ وَلِیُّہٗ فَعَلِیٌّ وَلِیُّہٗ ))

 ’’جس کا میں دوست ہوں علی رضی اللہ عنہ بھی اس کے دوست ہیں۔‘‘

 [ البحار: ۳۷؍۳۲۰۔] 

صفحہ 2 از 3