۔من کنت مولاہ فعلي مولاہ ۔جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا…

۔من کنت مولاہ فعلي مولاہ ۔جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا

  الشیخ شفیق الرحمٰن الدراوی

صفحہ 1 از 3

’’ من کنت مولاہ فعلي مولاہ ۔‘‘

’’ جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا ہے ‘‘

شیعہ اعتراض:

اس موضوع میں تحقیق کرنے والا جب صرف حقیقت کا متلاشی ہو گا تووہ دیکھے گا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے حق میں وضاح اور جلی نصوص موجود ہیں ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان گرامی ’’ من کنت مولاہ فعلي مولاہ ۔‘‘’’ جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا ہے ‘‘ یہ جملہ آپ نے حجۃ الوداع سے واپسی پر ارشاد فرمایا۔ لہٰذا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مبارک دینے کے لیے ایک سٹیج تیار کیا گیا اور ان مبارک دینے والوں میں خود حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ وہ دونوں یوں کہہ رہے تھے: اے ابن ابو طالب! آپ کو مبارک ہو، آپ مومن مرد اورمومن عورت کے مولی قرار پائے ہیں ۔

یہ ایسی نص ہے جس پر شیعہ اور اہل سنت کا اجماع ہے اور میں نے اس بحث میں صرف اہل سنت و الجماعت کے مصادر پر اکتفا کیا ہے۔

علمائے کرام کا اس پر ردّ

٭حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں اہل سنت و الجماعت کا اختلاف ہے۔ ایک جماعت کا عقیدہ ہے کہ آپ کی خلافت نص سے ثابت ہے، خواہ اسے نص جلی تسلیم کیا جائے یا نص خفی۔ جبکہ اہل سنت کی ایک دوسری جماعت کا خیال ہے کہ آپ کی خلافت کا انعقاد اہل حل و عقد کی بیعت سے ہوا تھا۔ فریق اول نے وجود نص پر قوی دلائل پیش کیے ہیں ۔بہرحال دونوں صورتوں میں حق اہل سنت و الجماعت سے باہر نہیں ہے۔

٭تنقید نگار کا یہ کہنا کہ شیعہ خلافت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نص کا دعویٰ کرتے ہیں او اس سلسلہ میں کئی احادیث پر اعتماد کرتے ہیں یہ دعوی محل نظر ہے جبکہ دوسری جانب سے اگر فرض کریں کہ خلافت کے بارے میں وجود نص کا عقیدہ برحق ہے تو پھر بھی یہ شیعہ کے دعوی کی دلیل نہیں ہے۔ اس لیے کہ شیعہ کا

فرقہ راوندیہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی خلافت کا قائل ہے ۔ وہ ایسی ثابت نص کا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے حق میں دعویٰ کرتے ہیں جیسے شیعہ اثنی عشریہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں نصوص کے دعوے دار ہیں ۔

حقیقت ِدعوي :.... ’’ من کنت مولاہ فعلي مولاہ ۔‘‘’’ جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا ہے ۔‘‘

ردّ: ....اہل علم کا اس حدیث کے صحیح یا ضعیف ہونے کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض اہل علم نے اسے ضعیف کہا ہے اور بعض نے حسن۔

یہ دعوی کرنا کہ یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں نص جلی ہے.... الخ۔

ردّ: ....ہم کہتے ہیں خود یہ روایت ایسی کسی بھی نص کے وجود کے خلاف بہت بڑی دلیل ہے اس لیے کہ یہ نص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجۃ الوداع سے واپسی پر غدیر خم کے مقام پر سامنے آئی اور یہ بات معلوم شدہ ہے کہ حجۃ الوداع سے واپس تمام لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ نہیں پلٹے تھے۔ بلکہ آپ کے ساتھ صرف اہل مدینہ ہی تھے ۔اور جو کچھ شیعہ کا دعویٰ ہے؛ اگر واقعی ایسے ہی ہوتا تو آپ حجۃ الوداع کے موقع پر اس کا اعلان کرتے، کیونکہ اس وقت تمام مسلمان جمع تھے (یوں سبھی لوگوں کو اطلاع ہو جاتی) مگر حج کے موقع پر تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کسی بات کا ذکر تک نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے بارے میں نہ ہی وحی اتری اور نہ ہی کوئی نصوص پائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دین میں ایسی کوئی چیز نہیں اور نہ ہی اس کی تبلیغ کا حکم دیا گیا لہٰذا یہ روایت آپ کی خلافت کی دلیل نہیں ہو سکتی۔ چہ جائیکہ اسے واضح اور جلی کہا جائے۔

۳۔ جہاں تک مولاہ کلمہ کا تعلق ہے، تو اس سے مراد خلافت ہر گز نہیں اور مولیٰ کے متعدد معانی ہونے کے باوجود یہ لفظ اس معنی پر دلالت بھی نہیں کرتا۔ مختار الصحاح میں رازی نے کہا ہے: المولی سے مراد، آزاد کردہ، آزاد کرنے والا، ناصر و مددگار اور حلیف اور چچازادہوتے ہیں ۔ موالات کی ضد معادات آئی ہے اور ولایت (واؤ کے نیچے زیر کے ساتھ) سلطان اور حاکم کا معنی دیتی ہے۔ ولایت واؤ کے نیچے زیر اور اوپر زبر کے ساتھ پڑھا اور لکھا جاتا ہے۔ 

[ مختار الصحاح: ۷۴۰۔] 

فیروز آبادی نے کہا ہے: اَلْوَلِیُّ قربت اور نزدیکی کے معنی میں آتا ہے، اسی سے ’’الولی‘‘ آتا ہے جو کہ دوست اور مددگار کا معنی دیتا ہے: ولی الشیء و علیہ ولایۃ و ولایۃ کسرہ کے ساتھ یہ مصدر ہے

جو کہ امارت، خطہ اور سلطان کے معنی میں آتا ہے۔ مولی مالک کوبھی کہتے ہیں اور غلام کو بھی۔ آزاد کردہ غلام کو بھی اور آزاد کرنے والے کو بھی۔ دوست اور بیٹے کو بھی۔ چچا کو اور مہمان کو بھی اور شریک کو بھی اور بھانجے کو بھی مولیٰ کہا جاتا ہے اور الولی رب، ناصر، منعم اور منعم علیہ، محب، تابع اور سسرالیوں کو کہا جاتا ہے۔‘‘ 

[القاموس المحیط: ۱۷۳۲۔] 

یہاں سے یہ معلوم ہوا کہ لفظ مولی، نصرت کے علاوہ دوسرے معنوں میں بھی آتا ہے، جیسا کہ سابقہ تفصیل سے معلوم ہوتا ہے۔ اب اس معنی کو صرف سلطان کے ساتھ خاص کرنا دلیل واضح کا محتاج ہے۔ مزید برآں یہ کہ مولی کو والی کے معنی پر محمول کرنا بہت مشکل ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’اس کلام میں کوئی ایسی واضح چیز نہیں ہے جس سے معلوم ہوتاہو کہ اس سے مراد خلافت ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ لفظ مولی بھی ولی کی طرح ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

{ إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ }

 [المائدۃ: ۵۵] 

’’تمھارے دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، وہ جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ جھکنے والے ہیں ۔‘‘

اور فرمان الٰہی ہے:

{ إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ} 

[ التحریم:۴] 

صفحہ 1 از 3