سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر تہمت طرازی
علی محمد الصلابیسیدنا علی رضی اللہ عنہ پر تہمت طرازی
علامہ ابنِ کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابنِ جریر وغیرہ کی طرح بہت سے مؤرخین نے نا معلوم اور مجہول لوگوں سے جو یہ نقل کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے کہا: تم نے مجھے دھوکا دیا ہے، اور تم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس لیے خلیفہ مقرر کیا کہ وہ تمہارے سسرالی رشتہ میں آتے ہیں اور وہ اپنے امور میں روزانہ تم سے مشورہ لیتے رہیں یہاں تک کہ حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی:
إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللّٰه يَدُا للّٰهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللّٰهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا (سورة الفتح: آیت، 10)
ترجمہ: ’’جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ یقیناً اللہ سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے، تو جو شخص عہد شکنی کرے وہ اپنے نفس پر ہی عہد شکنی کرتا ہے، اور جو شخص اس اقرار کو پورا کرے جو اس نے اللہ کے ساتھ کیا ہے تو اسے عنقریب اللہ بہت بڑا اجر دے گا۔‘‘
یہ اور اس طرح کی دیگر روایات جو صحیح روایات کے خلاف ہیں یہ سب کی سب ان کے قائلین و ناقلین پر مردود ہیں۔ واللہ اعلم۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق ہمارا ایمان و یقین ان واہموں کے برعکس ہے جو روافض اور بے وقوف قصہ گو بیان کرتے ہیں، کہ جن کے پاس صحیح و ضعیف اور غلط اور صحیح کی کوئی تمیز نہیں ہے۔ اللہ ہی صحیح کی توفیق دینے والا ہے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 152)