حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جناب سیدہ الزہرا رضی اللہ…

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جناب سیدہ الزہرا رضی اللہ عنہا کا مکان جلادیا اور آپ کے پہلوئے مبارک میں تلوار کا کچوکا دیا کہ اس کے صدمہ سے آپ کا حمل ساقط ہوگیا۔(معاذاللہ)۔

  حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی

صفحہ 2 از 2

تو یہ فرق ہمارے نزدیک انتہائی حماقت نادانی اور بے عقلی کی بات ہے ، اس لئے کہ اہل سنت تو دونوں خلافتوں کو برابر سمجھتے اور برحق مانتے اور جانتے ہیں۔ خصوصا ایسے وقت کہ اعتراض حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ پر کیا جارہا ہے کیونکہ ان کے نزدیک تو جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حقیقت خلافت متعین ہوچکی تھی اور اس وقت جناب صدیق رضی اللہ عنہ کا کوئی ایسا مخالف اور ہمسر بھی میدان میں دعوائے خلافت کے ساتھ موجود نہ تھا۔ جس کی مخالفت کچھ بھی اہمیت رکھتی ہو تو منظم اور برحق خلافت کے خلاف سازشیں کرنا اور منصوبے بنانا خصوصا جبکہ جوش اسلام کی نشو نما ہو رہی تھی اور دین وایمان کے پودے نے جڑہی پکڑی تھی سزائے قتل کو واجب کرتا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایسے سازشیوں کو اس وقت قتل بھی کر دیتے تو یہ جائز اورحق تھا۔ انہوں نے ڈرا دھمکا کر ہی جان بخشی کر دی ! اور تعجب تو ان شیعہ فضلا پر ہوتا ہے جنہوں نے اس واقعہ کو نمک مرچ لگا کر اور بڑھا چڑھا کر اپنا خبث و بغض سب پر عیاں کر دیا ہے کہ جن جوانوں کو حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ڈرا دھمکایا تھا ان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی جناب زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ اور اس کے بعد جناب سیدہ زہراء رضی اللہ عنہا نے بنی ہاشم کے نوجوانوں اور زبیر رضی اللہ عنہ کو اپنے گھر پر مجلس  بر پا کرنے اور اکھٹے ہونے سے منع فرمایا ۔

سبحان اللہ ! کیا انوکھی منطق ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے خلاف جناب زبیر رضی اللہ عنہ فساد کے منصوبے بنائیں تو وہ معصوم بے خطا اور واجب التعظیم ہوں اور جب یہی زبیر رضی اللہ عنہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص طلب کرنے میں لہجہ تند و درشت رکھیں تو واجب القتل قرار پائیں ! جناب سیدہ زہراء رضی اللہ عنہ کے مکان میں جب لوگ فتنہ وفساد برپا کرنے کے منصوبے بنائیں ۔سازشیں کریں تو وہ مقبول و پسندیدہ ہوں ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب زوجہ  جو بلاشبہ ام المؤمنین تھیں ۔ کی قیادت و ہمرکابی میں قصاص کا دعوی یا قاتلین عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شکایت میں زبان کھولیں تونا مقبول اور مردود القول قرار دئے جائیں۔ ایسا لچر اور واہیات فرق اصول شیعہ ہی پر مبنی ہوسکتا ہے ۔ اگر وہ اہل سنت پر اپنے ہی اصولوں سے الزام تھوپنا چاہیں، تو سیدھا سیدھا کہیں،اس ایچ پیچ کی کیا ضرورت ہے ، جب رسول اللہ علیہ وسلم نے ترک جماعت پر جو سنت مؤکدہ تھی، اور اس کا فائدہ صرف مکلفین تک محدود تھا ۔ اس کے ترک سے عائمہ مسلمین کو کوئی خطرہ یا نقصان نہیں پہنچتا تھا۔ اس سبب کے باوجود ان تارکین جماعت کے گھروں کو جلانے کی تہدید فرمائی ۔ تو ایسے فتنہ و فساد پر جس سے پوری ملت اسلامیہ کے متاثر اور خونچکاں ہونے کا خطرہ ہو، اور دین کو ملیا میٹ کرنے کا سامان ہو ، تو ایسی سازش گاہ کو جلانے کی دھمکی کیوں جائز نہ ہو!

اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم جناب سیدہ زہرا رضی اللہ عنہا کے مکان میں اس وقت تک داخل نہ ہوں جب تک دروازہ منقش و باتصویر پرده نہ اتارلیا جائے ۔ یا خانۂ خدا حرم کعبہ میں اس وقت تک تشریف نہ لے جائیں۔  جب تک وہاں موجود حضرت ابراہیم حضرت اسماعیل علیہما السلام کے مجسے نہ نکلوادیں۔ تو اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کسی متبرک اور مکرم مقام کو جہاں فتنہ انگیر تدابیر سوچی جا رہی ہوں، حاضرین سمیت جلا دینے کی دھمکی دیں تو اس میں گناہ کی کیا بات ہے ۔ زیادہ سے زیادہ جو بات کہی جاسکتی ہے وہ ادب کی رعایت نہ کرنے کی ہو سکتی ہے تو یہ معلوم ہوگیا ایسے اہم اور مہتم بالشان امور میں ادب کی رعایت اور لحاظ نہیں کیا جاسکتا ،جناب امیر رضی اللہ عنہ کا اپنا رویہ اس کا ثبوت اور دلیل ہے ۔ کیا شیعہ لوگ دنیا کو یہ باور کرانا اور جناب امیر پر یہ الزام  رکھنا چاہتے ہیں کہ آپ محبوب رسول ام المومنین جناب عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ادب نہیں فرماتے تھے اور آپ کی نظر میں آپ کے لئے کوئی اعزاز کوئی احترام نہیں تھا۔ دنیا جانتی ہے کہ ایسا نہیں تھا۔ اور جناب امیر رضی اللہ عنہ کے کبھی خواب وخیال میں بھی یہ بات نہیں آئی تھی ۔ اس کے باوجود آپ کا رویہ جناب صدیقہ رضی اللہ عنہا اور آپ کے ہمراہوں کے ساتھ جو درشت ہوا تو وہ نظم مملکت کی حفاظت کا تقاضا تھا۔ اس کو اہانت و بے قدری صدیقہ پر محمول شیعہ ذہن ہی کر سکتا ہے ، لہذا جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایسا فعل سرزد ہوجو فعل معصوم سے ملتا ہو تو وہ کسی منطق سے محل طعن و تشیع ہوسکتا ہے ۔

تحفہ اثنا عشریہ

تالیف : حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی

( المتوفی ۱۲۳۹ھ)

ترجمہ : مولانا محمد عبدالمجید خاں


صفحہ 2 از 2