رافضیوں کے مشہور فرقے - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

رافضیوں کے مشہور فرقے

  علامہ ڈاکٹر عبد اللہ الجمیلی

صفحہ 3 از 3

یہ لوگ موسیٰ بن جعفر [ابو الحسن موسیٰ الکاظم بن جعفر الصادق بن محمد الباقر ؛ امامیہ کے نزدیک بارہ اماموں میں سے ایک ہیں۔ ان کے کئی نادر قسم کے قصے ہیں۔ آپ کی پیدائش بروز منگل ۱۲۹ہجری میں پیدا ہوئے ؛ اور ۲۵ رجب ۱۸۳ ہجری میں انتقال ہوا۔ دیکھو: ابن خلکان : وفیات الأعیان (۵/ ۳۰۸) ۔] کے امام ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں، اور کہتے ہیں ان کے امام ہونے کے بارے میں نام کے ساتھ نص موجود ہے۔ صادق رضی اللہ عنہ نے کہا ہے :

’’ سابعکم قائمکم ‘‘

… ’’تمہارا ساتواں تمہارا قائم ہوگا۔‘‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے :

’’ صاحبکم قائمکم‘‘

…’’ تمہارا ساتھی تمہارا قائم ہوگا۔‘‘انہیں صاحب ِ تورات بھی کہا جاتا ہے۔

پھر جب موسیٰ بن جعفر کا انتقال ہوگیا ؛ تو ان میں سے بعض نے ان کی موت کے بارے میں توقف اختیار کیا؛ اور کہنے لگے : ’’ ہمیں پتہ نہیں ہے کہ وہ مر گئے ہیں یا نہیں مرے۔‘‘ انہیں ’’ممطورہ ‘‘(بارش میں بھیگے کتے )کہا جاتا ہے۔ ان کا یہ نام علی بن اسماعیل نے رکھا ہے۔ انہوں نے ان سے کہا تھا :’’ تم تو صرف بارش میں بھیگے ہوئے کتے ہو۔‘‘ ان میں سے بعض نے ان کی موت کے بارے میں قطعی یقین سے کہا کہ وہ مر گئے ہیں، ان کا نام ’’ قطعیہ ‘‘ پڑ گیا۔ اور ان میں سے بعض نے موت کے بارے میں توقف کیا اور کہنے لگے : آپ مرے نہیں ہیں، بلکہ غائب ہوگئے ہیں، اور عنقریب خروج کریں گے۔ انہیں ’’ واقفہ ‘‘ کہا جاتا ہے۔

ساتواں :… اثنا عشریہ :

جن لوگوں نے موسیٰ الکاظم بن جعفر الصادق کی موت کے قطعی(دو ٹوک اور یقینی ) ہونے کا کہا ؛ انہیں ’’ قطعیہ ‘‘ کہا جانے لگا۔ انہوں نے امامت کا سلسلہ اس کے بعد اس کی اولاد میں چلایا ؛ اور کہنے لگے : ’’موسیٰ کاظم کے بعد امام اس کا بیٹا علی رضا [ابو الحسن علی رضا بن موسیٰ الکاظم۔ شیعہ امامیہ کے اعتقاد کے مطابق یہ ان کے بارہ اماموں میں سے ایک ہے۔ مامون نے ان کی شادی اپنی بیٹی ام حبیب سے کردی تھی۔ ان کی پیدائش مدینہ میں ۱۵۳ ہجری کے کچھ ماہ گزرنے کے بعد جمعہ کے دن ہوئی۔ اور ۲۰۲ ہجری میں صفر کے آخر میں مدینہ میں ہی وفات ہوئی۔ ابن خلکان : وفیات الأعیان ۵/ ۳۰۸۔] ہوگا، اس کے بعد محمد تقی الجواد [ ابو جعفر محمد بن علی رضا، امامیہ شیعہ کے اماموں میں سے ایک امام۔ ایک وفد کے ساتھ خلیفہ معتصم کے پاس بغداد تشریف لائے ؛ ان کے ساتھ ان کو بیوی ام الفضل بنت مامون بھی تھی وہیں پر وفات پائی۔ ان کی بیوی کو اس کے چچا معتصم کے پاس اس کے قصر میں لے جایاگیا۔ آپ کی پیدائش ۵ رمضان ۱۹۵ ہجری میں ہوئی تھی۔ اور وفات ۵ ذو الحجہ ۲۲۰ ہجری میں ہوئی۔ دیکھو: ابن خلکان : وفیات الأعیان (۴/ ۱۷۵) ۔] ہوگا۔ پھر ان کے بعد ان کا بیٹا علی بن محمد تقی امام ہوگا۔ اور اس کے بعد حسن عسکری ہوگا [ ابو محمد الحسن بن علی بن محمد بن علی بن موسیٰ الرضا؛ امامیہ شیعہ کے اعتقاد کے مطابق اثنا عشریہ کے ائمہ میں سے ایک امام ہیں۔ یہ غار میں چھپے ہوئے امام منتظر کے والد ہیں۔ اور انہیں عسکری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ان کے والد علی کو بھی اسی نسبت سے جانا جاتا ہے۔ آ پ ۲۳۱ ہجری میں جمعرات کے دن پیدا ہوئے۔ اور بروز بدھ ماہ ربیع الاول کی آٹھ تاریخ کو ۲۶۰ ہجری میں انتقال ہوا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے :جو انہیں دیکھے گا خوش نصیب ہوگا۔‘‘ دیکھو: ابن خلکان : وفیات الأعیان (۲/ ۹۴) ۔] او راس کے بعد اس کا بیٹا محمد القائم [ابو القاسم محمد بن حسن العسکری امامیہ کے اعتقاد کے مطابق اثنا عشریہ کے بارہویں امام۔ جو ’’الحجۃ‘‘ کے نام سے معروف ہیں۔ ان کے بارے میں شیعہ کا گمان ہے کہ ان کا انتظار کیا جارہا ہے۔ اور یہی قائم اور مہدی ہے۔ اور ان کے ہاں غار والا امام یہی ہے۔ دیکھو: ابن خلکان : وفیات الأعیان (۴/ ۱۷۶) ۔ حقیقت میں اس مہدی کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، جس کی وضاحت آنے والے صفحات’’رافضیوں کے ہاں وجود ِمہدی کی حقیقت‘‘ میں ہوگی ؛ اور وہاں پر ان کے اس دعویٰ کا پر زور رد کیا جائے گا] ہوگا، جس کا انتظار کیا جارہا ہے، اور جس کے بارے میں کہا جاتا ہے، جو اسے دیکھے گا خوش بخت ہوگا۔ یہ بارہواں امام ہے۔

 [أنظر : الملل والنحل : ۱/ ۱۶۵- ۱۶۹۔] 

رافضیوں کے یہ فرقے شہرستانی نے ذکر کیے ہیں۔ پھر ان سے دوسرے فرقے بھی نکلے ہیں، جن کے بارے میں لکھنے والے دوسرے علماء نے تفصیل سے لکھا ہے۔ یہاں پر ان کی تفصیل کی گنجائش نہیں ہے۔ اس لیے کہ شہرستانی کے ذکر کردہ فرقے باقی تمام فرقوں کی اصل بنیاد ہیں۔


صفحہ 3 از 3