رافضیوں کے مشہور فرقے - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

رافضیوں کے مشہور فرقے

  علامہ ڈاکٹر عبد اللہ الجمیلی

صفحہ 2 از 3

میں نے کیسانیہ فرقہ کے اقوال کی اس کثرت کے باوجود جانچ پڑتال کی۔ میں نے یہی پایا کہ وہ امامت کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد ان کے بیٹے محمد بن حنفیہ کے لیے مانتے ہیں۔ ان میں سے سوائے ایک فرقہ کے کوئی بھی حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی امامت کوتسلیم نہیں کرتا۔ یہ فرقہ بھی ان دونوں کے بعد امامت محمد بن الحنفیہ کا حق سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک امامت علی بن الحسین کے لیے نہیں ہے، خواہ جو بھی ہو۔ یہ لوگ اپنے اہم ترین اصولوں میں رافضی اجماع کے مخالف ہیں۔ ایسے ہی کیسانیہ اور رافضیہ کا بھی آپس میں بہت سے مسائل میں اختلاف ہے۔ ان میں سے کچھ کا ذکر شہرستانی نے کیاہے؛ وہ کہتے ہیں :

’’ان کا اس بات پر اجماع ہے کہ دین کسی آدمی کی اطاعت کا نام ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ وہ اپنے اس قول (عقیدہ ) کی وجہ سے ارکان ِ شریعت جیسے نماز؛روزہ ؛ زکواۃ؛ حج اور ان کے علاوہ باقی امور کو افراد پر تاویل کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اسی وجہ سے بعض لوگوں کا قیامت کے بارے میں عقیدہ بہت ہی کمزور 

ہوگیا۔‘‘

 [ الملل و النحل ۱/ ۱۴۷۔] 

جب کہ رافضہ کا ایسا عقیدہ نہیں ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کیسانیہ رافضی فرقوں میں سے نہیں ہیں۔ واللہ اعلم

اس طرح ہم شہرستانی کے قول کودوسرے فرق اور مقالات والوں پر ترجیح دے سکتے ہیں کہ اس نے ان فرقوں کو رافضیوں میں شمار نہیں کیا۔ بلکہ شیعہ کو پانچ قسموں میں تقسیم کیا ہے :

۱۔ کیسانیہ

۲۔ زیدیہ

۳۔ امامیہ

۴۔ غالی

۵۔ اسماعیلیہ

پھر ان میں سے ہر ایک فرقہ کی قسمیں علیحدہ علیحدہ ذکر کی ہیں، اس لیے میں رافضیوں کی تقسیم کے لیے شہرستانی کے قول پر اعتماد کرتا ہوں۔

شہرستانی نے امامیہ اور رافضہ کو سات قسموں میں تقسیم کیا ہے :

پہلا :… باقریہ، جعفریہ، واقفہ:

یہ لوگ محمد الباقر [ابو جعفر محمد بن زین العابدین علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم ؛ باقر کے لقب سے معروف ہوئے۔ امامیہ عقیدہ کے مطابق اثنا عشریہ کے ائمہ میں سے ایک امام ہیں۔ یہی جعفر الصادق کے والد ہیں۔ امام باقر، بڑے عالم، او ررہنما انسان تھے۔ آپ کو باقر اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ نے علم میں بہت ہی وسعت حاصل کی۔ بروز منگل تین صفر ۷۵ ہجری میں پیدا ہوئے ؛ اور ربیع الآخرکے آخر میں ۱۱۳ہجری میں انتقال ہوا۔ انہیں مدینہ منتقل کرکے بقیع میں دفن کیا گیا۔ وفیات الأعیان : ابن خلکان (۴/۱۷۴) ۔] بن علی بن زین العابدین کے پیرو کار ہیں۔ اور ان کا بیٹا جعفر الصادق ہے۔جنہیں وہ امام مانتے ہیں۔ اور ان کے والد زین العابدین کوبھی اپنا امام مانتے ہیں۔ بس یہ کہ ان میں سے بعض لوگوں نے ان میں سے ایک کے امام ہونے کے بارے میں مذہب اختیار کیا ہے ؛لیکن امامت کو ان کی اولاد میں منتقل نہیں کیا۔ اور بعض نے امامت کا سلسلہ ان کی اولاد کے لیے بھی جاری رکھا ہے۔ اسی لیے شیعہ میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے امام باقر پر پہنچ کر توقف (خاموشی ) اختیار کرتے ہوئے امام باقر کے لوٹ کر آنے کا کہا ہے؛بالکل ایسے ہی جیسا کہ ابو عبد اللہ جعفر بن محمد الصادق کی امامت ماننے والوں نے ان کے لوٹ کر آنے کا کہا ہے۔

دوسرا :… ناؤوسیہ :

یہ ایک ناؤوس نامی آدمی کے پیروکار ہیں۔ 

[ اس کا نام عجلان بن ناؤوس ہے۔ اہل بصرہ میں سے تھا۔ مقالات اسلامیین (۱/ ۱۰۰) ۔] 

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ لوگ ’’ ناؤوس [ یہ ہمدان کے قریب ایک گاؤں ہے۔ ابن فقیہ نے اس کا ذکر کیا ہے، اور اس کے بارے میں فارسیوں کا خرافات سے بھرپور قصہ بھی نقل کیاہے۔ اس کے بعد کہا ہے: یہ گاؤں ابھی تک اسی نام سے مشہور و موجود ہے۔ معجم البلدان : یاقوت الحموی (۵/۲۵۴) ۔] ‘‘ نامی گاؤں کی طرف منسوب ہیں۔

ان کا عقیدہ ہے کہ امام صادق ابھی تک زندہ ہیں اور انہیں موت نہیں آئی۔اور اس وقت تک ہر گز موت نہیں آئے گی جب تک کہ وہ ظاہر ہوں، اور ان کا مذہب غالب آجائے۔ اور وہی قائم اور مہدی ہیں۔ انہوں نے امام سے روایت کی ہے :’’ اگر تم دیکھو کہ میرا سر پہاڑ سے تم لوگوں کی جانب لڑھکا دیا جائے، تب بھی میری موت کا یقین نہ کرو؛ اس لیے کہ میں ہی تمہار ا تلوار والا ساتھی ہوں۔‘‘

تیسرا :… افطحیہ:

ان کا کہنا ہے کہ امامت الصادق کے بعد ان کے بیٹے عبد اللہ الافطح میں منتقل ہوگئی تھی۔ یہ اسماعیل کا سگا بھائی ہے اور اس کی ماں فاطمہ بنت الحسین بن الحسن بن علی ہیں۔ اور امام صادق کی اولاد میں سے سب سے بڑی عمر کے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ امام نے کہا ہے کہ ’’ امامت ان کے بعد ان کے بڑے بیٹے میں ہوگی۔‘‘

اور امام نے کہا ہے :’’ امام وہ ہوگا جو میری جگہ پر بیٹھے گا۔‘‘ اور یہی ان کے جگہ پر بیٹھے تھے۔ اور عبد اللہ اپنے والد کی وفات کے بعد ستر دن ہی زندہ رہے، پھر ان کا انتقال ہوگیا اور اپنے پیچھے کوئی نرینہ اولاد نہیں چھوڑی۔

چوتھا :… شمیطیہ :

یہ لوگ یحی بن ابی شمیط کے پیرو کار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ : ’’(امام) جعفر نے کہا ہے: 

(( إن صاحبکم إسمہ إسم نبیکم ))

 …’’ بے شک تمہارے ساتھی کا نام تمہارے نبی کا نام ہوگا۔‘‘

اور ان کے والد رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا تھا: ’’اگر تمہارے گھر بچہ پیدا ہو اور اس کا نام میرے نام پر رکھو، تو اس کے بعد اس کا بیٹا محمد امام ہوگا۔‘‘

پانچواں : اسماعیلیہ واقفہ

ان کا کہنا ہے کہ جعفر کے بعد امام اسماعیل ہے ؛ اس پر ان کی تمام اولاد متفق ہے۔ صرف یہ کہ ان کے والد کی زندگی میں ہی ان کی وفات کی وجہ سے ان میں اختلاف واقع ہوا ہے۔ ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ : ’’ آپ نہیں مرے۔‘‘بلکہ انہوں نے خلفاء بنی عباس کے خوف سے تقیہ کرتے ہوئے موت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایک اجتماع بھی منعقد کیا ہے جس پر مدینہ کے گورنر منصور کو گواہ بنایا ہے۔

چھٹا:… موسویہ مفضلیہ:

صفحہ 2 از 3