کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کا لشکر باغی ہے ؟…

کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کا لشکر باغی ہے ؟ بخاری حدیث نمبر 2812 کی وضاحت

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 3 از 4

ترجمہ: اگر اہل ایمان کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو تم لوگ دونوں کے درمیان صلح کرادو، پھر اگر کوئی ایک جماعت دوسری پر شرعی لحاظ سے زیادتی کرے تو اس سے لڑو جو زیادتی کر رہی ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کو تسلیم کرلے۔
 یہ آیت انصار کے آپسی مناقشے کے پسِ منظر میں نازل ہوئی تھی ، اولی الامر سے بغاوت کے تناظر میں نہیں۔ معلوم ہوا کہ لفظ " بغاوت کبھی آپسی تنازعات میں ناحق پر اصرار کرنے والی جماعت کے لیے بھی استعمال کر لیا جاتا ہے۔
حضرت امیر معاویہؓ کے سامنے بھی یہ حدیث پیش کی گئی مگر آپؓ کے ذہن میں اس کا مصداق دو جماعت تھی جس نے ایک متفقہ امیر المؤمنین یعنی سیدنا عثمانؓ کے خلاف کھلم کھلا بغاوت کر کے ان کو شہید کیا تھا اور پھر یہود و روافض پر مشتمل اہلِ فتنہ کا یہی سازشی گروہ یکے بعد دیگرے جنگ جمل اور جنگ صفین کا سبب بنا تھا، تو حضرت معاویہؓ یہ سمجھتے تھے کہ اصل باغی گروہ تو وہ ہے جو ان حالات کا  ذمہ دار ہے۔ اس لیے جب آپؓ کے سامنے یہ حدیث پیش کی گئی تو آپؓ نے اپنے علم گمان ہی کی بنیاد پر یہ بات فرمائی تھی کہ عمارؓ کو ہم نے کہاں قتل کیا ہے؟ ان کو تو ان کے لوگوں نے قتل کیا ہے جو ان کو یہاں لے کر آئے۔

  دعوهم إلى الجنة ويدعونه إلى النار“

کی زیادتی کی حقیقت 
 اور جہاں تک حدیث کے بعض طرق میں موجود اس زیادتی کی ہے

"یدعوهم إلى الجنة ويدعونه إلى النار " (صحیح بخارى: رقم 447)

 اس کے بارے میں دو باتیں قابل توجہ ہیں:
 (1) یہ زیادتی ایک دوسری حدیث سے یہاں خلط اور مدرج ہو گئی ہے۔ دراصل یہ دو الگ الگ حدیثیں ہیں ۔
 مکہ میں کفار کے ظلم و ستم کے زمانہ میں کسی موقع پر آپﷺ نے حضرت عمارؓ پر رحم کھاتے ہوئے ان کی حمایت میں فرمایا تھا

" مـالهـم ولـعمارؓ ؟ يدعوهم إلى الجنة ويدعونه إلى النار وذاك داب الاشقياء والفجار"
(فضائل الصحابة لأحمد: 1598) 

(2)مدینہ میں مسجدِ نبوی کی تعمیر کے وقت یا غزوۂ احزاب کے موقع پر خندق کھودتے ہوئے سید نا عمار بن یا سرؓ دو دو اینٹیں ایک ساتھ ڈھور ہے تھے۔ اس وقت آپﷺ نے فرمایا تھا:

ويح عمارؓ، تقبله الفئة الباغية"(مسلم: 2915) 

راوی حدیث عکرمہ سے ان دونوں میں خلط ملط ہو گیا اور انہوں نے دونوں کو ایک ساتھ ملا کر بیان کر دیا۔ اس دعویٰ کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ تقتله فئۃ الباغية والا مضمون 30 کے قریب صحابہؓ سے مروی ہے مگر کسی بھی صحابی کی روایت میں یہ زیادتی نہیں پائی جاتی، بظاہر اسی لیے امام مسلمؒ نے بھی اس کی تخریج نہیں فرمائی۔ 
(2) اور اگر بعینہ یہ حدیث مان بھی لی جائے تو اس کے بارے میں شارح بخاری حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں:
 یہاں جنت کی طرف بلانے سے مراد اس کے سبب یعنی طاعتِ امام کی طرف بلانا ہے جیسا کہ حضرت عمارؓ ان کو حضرت علیؓ کی اطاعت کی طرف بلا رہے تھے جو اس وقت اصل خلیفۂ بر حق تھے جبکہ دوسری جانب کے حضرات اس کے خلاف کے داعی تھے لیکن تاویل واجتہاد کی بناء پر وہ بھی معذور تھے کیوں کہ اپنے اجتہاد سے وہ بھی یہی سمجھ رہے تھے کہ ہم ہی ان کو جنت کی طرف بلا رہے ہیں لہٰذا اس ظن و اجتہاد کی وجہ سے ان پر کوئی طعن و تشنیع نہیں کی جائے گی۔
(فتح الباری: جلد 1 صفحہ 452)

  حیران کن انکشاف 
 کیا صحیح بخاری کی حدیث 2812 میں واقعی یہ الفاظ موجود ہیں کہ عمارؓ کو ( باغی) گروہ قتل کرے گا !
 سلطنت عثمانیہ کے آخری بادشاہ، سلطان عبد الحمید نے صحیح بخاری کا ایک نسخہ شائع کروایا تھا جسے "نسخہ سلطانیہ" کہا جاتا ہے۔ یہ آج کل "دار التاصیل" مصر سے شائع ہوتا ہے۔ یہ نسخہ پہلے سے موجود نسخوں کو دیکھ کر لکھا گیا تھا۔ اس میں لکھا ہے کہ "نسخہ ابی ذر" میں " تقتلہ الفئة الباغیة" کے الفاظ موجود نہیں تھے۔ واضح رہے کہ "ابو ذر" صحیح بخاری کے متعدد نسخوں کے مرکزی راوی ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سا نسخہ درست ہے؟ جو نسخہ قدیم ہوگا اور سند سے امام بخاری رح سے ثابت ہوگا، وہی درست نسخہ ہوگا۔ اس وقت جو سب سے پرانے نسخے محفوظ ہیں وہ آج سے تقریبا 900 سال پرانے "ابو عمران ابن سعادة" کے تین نسخے ہیں جو کہ ترکی کی استنبول میں واقع murad molla kütüphanesi ( library ) میں موجود ہیں۔ ان تینوں میں حضرت عمارؓ کا مسجد نبوی کی تعمیر کے وقت دو دو اینٹیں اٹھانے کا ذکر تو ہے، لیکن آگے "تقتلہ الفئة الباغیة" کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ میرے پاس نسخوں کی scanned copies  موجود ہیں، تصاویر نیچے لگا دی ہیں۔ یہ سب نسخے امام بخاری رح سے صحیح سند سے ثابت ہیں۔ سند یہ ہے

" کتب ابوعمران ابن سعادة عٙن الصدفی عٙن ابی الولید الباجی عٙن ابی ذر عٙن المستملی عٙن الفربری عٙن محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ"

لہذا ثابت ہوا کہ

"تقتلہ الفئة الباغیة"

کے الفاظ اصلاً ( originally ) صحیح بخاری میں نہیں ہیں،

بلکہ یہ بعد کا اضافہ

/ publishing mistake ہے۔

دوسرا سوال یہ بنتا ہے کہ اگر صحیح بخاری میں

"تقتلہ الفئة الباغیہ"

کے الفاظ موجود نہیں ہیں تو پھر اس کے بغیر بخاری کی حدیث کا ترجمہ کیا بنے گا؟

"يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ"

سے کیا مراد ہے؟ دیکھیں

"یدعو"

فعل مضارع واحد کا صیغہ ہے۔ مضارع کا ترجمہ by default حال ( Present indefinite ) میں کیا جاتا ہے، جب قرآئن سے واضح ہو تو ترجمہ مستقبل میں کیا جاتا ہے۔ اب قرائن سے واضح ہوتا ہے کہ

"تقتلہ الفئة الباغیہ"

کا ترجمہ یہ نہیں ہو سکتا کہ حضرت عمارؓ کو باغی جماعت قتل کرتی ہے، جبکہ حضرت عمارؓ زندہ ہیں۔ اس لئے اس کا ترجمہ مستقبل میں کیا جاتا کہ باغی جماعت قتل کرے گی۔ اب اسی کے سیاق (context ) میں

"يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ"

کا ترجمہ بھی مستقبل میں کیا جاتا ہے عمارؓ انہیں جنت کی طرف بلائیں گے اور وہ گروہ جہنم کی طرف بلائیں گے۔ لیکن میں ثابت کرچکا کہ

"تقتلہ الفئة الباغیة"
صفحہ 3 از 4