کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کا لشکر باغی ہے ؟…

کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کا لشکر باغی ہے ؟ بخاری حدیث نمبر 2812 کی وضاحت

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 2 از 4

کے الفاظ کیوں استعمال فرمائے؟ 
(6) اگر حضرت عمارؓ کی شہادت کے بعد یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ حضرت معاویہؓ کی جماعت ہی قاتل اور باغی ہے تو پھر حضرت ابو ایوب انصاریؓ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت ابن عمرؓ اور حضرت ابو سعید خدریؓ وغیرہ کیوں قتال سے الگ رہے؟ ان کو تو باغیوں کے مقابلے میں صف آرا ہونا چاہیئے تھا۔
اسی طرح جو صحابہؓ حضرت علیؓ کے ساتھ تھے ان میں سے کسی سے بھی صحیح سند کے ساتھ یہ ثابت نہیں کہ اس حدیث کی بناء پر حق و باطل کا اندازہ لگایا ہو اور پھر حضرت علیؓ کا ساتھ دیا ہو یا دوسرے فریق کو باغی کہا ہو، جبکہ ابو قتادهؓ 54 ہجری اور ابو ایسر کعب بن عمروؓ 55 ہجری تک زندہ رہے۔
نیز حضرت علیؓ کی طرف سے متعدد صحابہؓ جیسا کہ  جابر بن عبد اللہؓ، عبید السلمانیؓ اور ابوسلیم خولانیؓ صلح کی بات چیت کے لیے حضرت معاویہؓ کے پاس آئے لیکن کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ حضرت عمارؓ ہمارے لشکر میں موجود ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپؓ کے لشکر کے ہاتھوں شہید ہوں اور آپؓ فرمانِ رسالت کے مطابق باغی گروہ قرار پائیں۔ 
اور عشرہ مبشرہ میں سے حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیر بن العوامؓ بھی حضرت معاویہؓ کے ہم خیال تھے تو وہ کیسے باغی اور مجرم ہو سکتے ہیں؟ اسی طرح جریرؓ جیسے جلیل القدر صحابی اور دیگر بعض صحابہؓ کیوں حضرت معاویہؓ کے ساتھ رہ گئے ؟
حضرت عمارؓ کو شہید کرنے والے درحقیقت خارجی ہی تھے اور انہوں نے اس کو حضرت امیر معاویہؓ کی طرف منسوب کر دیا اور ایسا اس لیے کیا تاکہ لوگ ان سے بدظن ہو جائیں۔

(7)"يدعوهم إلى الجنة ويدعونه إلى النار"

کو صرف عکرمہ عن ابی سعید کی روایت میں ہے، دوسرے صحابہؓ سے مروی نہیں، ابنِ عمرؓ کی روایت میں ہے لیکن اس کی سند میں عبد النور متہم بالوضع ہے ۔عکرمہ کے علاوہ یہ روایت کئی صحابہؓ سے مروی ہے لیکن یہ ٹکڑا ثابت نہیں ہے، معلوم ہوا کہ یہ راوی حدیث عکرمہ کا ادراج ہے اور عکرمہ پر ثقاہت کے باوجود خارجیت کا الزام ہے۔ 

کتاب المعرفة والتاریخ للیسوی جلد 2 صفحہ 7
المغني في الضعفاء: 43812/
تہذیب الکمال: جلد 20 صفحہ 278 

اور خوارج کو اصل مخالفت حضرت معاویہؓ سے تھی کیونکہ وہ قصاصِ عثمانؓ کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن جب حضرت علیؓ نے ان سے مصالحت کیلئے حکم بنایا تو آپؓ کی بھی مخالفت پر اتر آئے۔ 
(8) ممکن ہے کہ حدیث کے اس ٹکڑے میں "جنت" سے مراد "صلح" ہو اور "نار" سے مراد "جنگ" ہو کیوں کہ قرآن میں حرب کو نار کیا گیا ہے

"كُلَّمَآ أَو٘قَدُوا نَارًا لِّل٘حَر٘بِ أَطَفَاَهَا اللّٰهُ"

تو مطلب یہ ہوا

"يدعوهم إلى الجنة أي الصلح ويدعونه إلى النار أي الحرب"

حاکم نے مستدرک میں واقدی کی سند سے روایت کیا ہے کہ عقبہ بن عامر الجہنی، عمرو بن الحارث الخولانی اور شریک بن سلمہ، ان تینوں نے بیک وقت حملہ کر کے حضرت عمارؓ کو شہید کیا۔ (مستدرک :8654 )
یہ روایت واقدی کے متروک اور متہم بالکذب والوضع ہونے کی وجہ سے صحیح نہیں ہے۔ (تقریب التہذيب)
علامہ ذہبیؒ نے بعض محدثین سے ان کی توثیق اور متعدد محدثین سے ان کا متروک، کذاب اور واضع الحدیث ہو نا نقل کیا ہے۔
میزان الاعتدال صفحہ 6652 جلد3)
اشکال: ابن مسعود سے مرفوعاً روایت ہے:

"إذا اختلف الناس كان ابن سميه مع الحق المعجم الكبير للطبراني: رقم 1071)

ترجمہ: جب لوگوں میں اختلاف ہوگا تو ابن سمیہ (عمارؓ) حق کے ساتھ ہوگا،
 اور وہ حضرت علیؓ کے ساتھ تھے معلوم ہوا کہ حضرت علیؓ کی جماعت حق پر تھی۔ 
جواب: اس کی سند میں ضرار بن صرد اور ابو نعیم کوفی متروک الحدیث اور کذاب راوی ہیں۔

(الضعفاء والمتروكون لابن الجوزي :جلد 2 صفحہ 60)
  وقال البخاری متروک و قال ابن معين كذابان بالكوفة هذا وأبو نعیم (المغنى للذهبی:312)

  اعتراض کو مانتے ہوئے 
اس حدیث کی بنیاد پر جمہور اہل السنۃ والجماعۃ نے مشاجراتِ صحابہ‌ؓ میں سید نا علیؓ کے موقف کو راجح قرار دیا ہے اور حضرت امیر معاویہؓ کے اجتہاد کو خطا پر محمول کیا ہے لیکن واضح رہے کہ اس اجتہاد اور خطا کی بحث آپؓ کے اندر اجتہادی شان کو تسلیم کرنے کے بعد ہی پیدا ہوتی ہے، جیسا کہ صحیح بخاری(رقم:3765) میں آپؓ کے تفقہ اور اجتہاد کے بارے میں حضرت ابن عباسؓ کا اعتراف بھی موجود ہے ورنہ ہر ایرے غیرے کے اس طرح کے اختلاف کو اجتہاد پر نہیں محمول کیا جاتا بلکہ ان کا مبنی عموماً کم علمی اور خود پسندی ہوتی ہے۔
    بہر حال چوں کہ اہل حق کے یہاں دیگر احادیث کی بناء پر یہ بات طے شدہ ہے کہ مجتہد خاطی معذور ہوتا ہے بلکہ ایک امر کے ذریعے ماجور ( مستحق اجر ) بھی ہوتا ہے۔ اس لیے جب وہ طلبِ حق کی سعی، حسنِ نیت اور جذبہ صالح کی بناء پر مورد اجر و ثواب ٹھہر رہا ہو تو اس پر سب وشتم اور تنبیہ و تبصرہ کے کیا معنی؟
(مستفاد از نووی و فتح الباری)

 الباغیہ کی تشریح 
اولاً حضرت معاویہؓ کی جماعت باغی نہیں تھی کہ ان حضرات نے حضرت علیؓ سے بیعت ہی نہیں کی تھی کیونکہ حضرت معاویہؓ کا اجتہاد یہ تھا کہ حضرت علیؓ کی فوج میں باغی موجود ہیں یعنی وہ لوگ جنہوں نے عثمانؓ کے خلاف بغاوت کی تھی، جب تک ان کا قلع قمع نہ کیا جائے حضرت علیؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
دوسرا  یہ کہ یہاں لفظ " باغیہ" طاعتِ امام سے عدول اور شقاق ونفاق کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ وہ بغاوت ہے جس کا تذکرہ قرآن کی اس آیت میں ہے:

وَ اِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَاۚ فَاِنۡۢ  بَغَتۡ اِحۡدٰٮہُمَا علی الۡاُخۡرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیۡ تَبۡغِیۡ حَتّٰی تَفِیۡٓءَ  اِلٰۤی  اَمۡرِ اللّٰہِ (حجرات:- 9)
صفحہ 2 از 4