مرض الموت کا آغاز - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مرض الموت کا آغاز

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

یا ابتاہ اجاب اللّٰہ دعاہ، یا ابتاہ من جنۃ الفردوس مأواہ، یا ابتاہ الی جبریل ننعاہ۔

ترجمہ: ہائے ابا جان! جنہوں نے پروردگار کی پکار پر لبیک کہا۔ ہائے ابا جان! جن کا ٹھکانا جنت الفردوس ہے۔ ہائے ابا جان! ہم جبرائیلؑ کو آپﷺ کی موت کی خبر دیتے ہیں۔

اور جب آپﷺ کو دفن کر دیا گیا تو فرمایا

یا انس کیف طابت نفوسکم ان تحثوا علی رسول اللہ صلي الله عليه وسلم التراب۔

ترجمہ: اے انس! کیسے تم کو گوارا ہوا کہ رسول اللہﷺ پر مٹی ڈالو

(البخاری: المغازی صفحہ، 4462)

رسول اللہﷺ اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔ آپﷺ جزیرہ عرب پر حکمرانی کر رہے تھے اور بادشاہان عالم آپﷺ سے لرزاں و مرعوب تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنی جان، مال اور اولاد آپﷺ پر نچھاور فرما رہے تھے۔ وفات کے وقت آپﷺ نے نہ درہم و دینار چھوڑا اور نہ لونڈی و غلام۔ صرف ایک سفید خچر اور ہتھیار چھوڑے اور ایک زمین جسے امت کے لیے صدقہ کر دیا۔

(البخاری: المغازی: صفحہ، 4461)

 وفات کے وقت آپﷺ کی زرہ تیس صاع جو کے عوض ایک یہودی کے پاس رہن پر تھی۔

(السیرۃ النبویۃ للندوی: صفحہ، 403 نیز دیکھیے البخاری: المغازی صفحہ، 4467)

یہ واقعہ یوم دو شنبہ 12 ربیع الاوّل 11 ہجری بعد از زوال پیش آیا.

اس وقت آپﷺ کی عمر تریسٹھ (63) سال تھی۔

(مسلم: الفضائل جلد، 6 صفحہ، 825 البخاری: المغازی صفحہ، 4466)

آج کا دن مسلمانوں کے لیے انتہائی دلفگار، تاریک اور وحشت ناک تھا اور بشریت کے لیے بڑی آزمائش کی گھڑی تھی، جس طرح کہ آپﷺ کی ولادت کا دن سب سے زیادہ سعادت افزاء تھا۔

(السیرۃ النبویۃ للندوی: صفحہ، 404)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں جس روز رسول اللہﷺ مدینہ تشریف لائے تھے پورا مدینہ روشن ہو گیا تھا اور جس دن آپﷺ کی وفات ہوئی پورا مدینہ تاریک ہو گیا۔

(الترمذی: صفحہ، 3218 جلد، 5 صفحہ، 549)

اس حادثہ دلفگار پر سیدہ ام ایمنؓ سے رہا نہ گیا وہ رونے لگیں۔ پوچھا گیا نبی کریمﷺ پر کیوں رو رہی ہو؟ فرمایا میں پہلے سے جانتی تھی کہ رسول اللہﷺ کی وفات ہو گی لیکن میں آج وحی الٰہی کے منقطع ہو جانے پر رو رہی ہوں۔

(مسلم: جلد، 4 صفحہ، 1907)


صفحہ 3 از 3