مرض الموت کا آغاز - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مرض الموت کا آغاز

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

(البخاری: الاذان صفحہ، 712 رسول اللہﷺ مرض کی شدت کے باوجود وفات سے چار دن پہلے جمعرات تک نمازیں خود ہی پڑھایا کرتے تھے، اس روز بھی مغرب کی نماز آپﷺ ہی نے پڑھائی تھی اور اس میں سورۃ المرسلات کی تلاوت فرمائی۔ (البخاری: المغازی ۸۳، جلد، 83 صفحہ، 4429) لیکن عشاء کے وقت مرض کی شدت اتنی بڑھ گئی کہ مسجد میں جانے کی طاقت نہ رہی، آپﷺ پر بار بار بے ہوشی طاری ہو رہی تھی، بالآخر آپﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم فرمایا۔ اس کے بعد سیدنا ابوبکرؓ نماز پڑھاتے رہے۔ ہفتہ یا یک شنبہ کو نبیﷺ نے اپنی طبیعت میں قدرے تخفیف محسوس کی، چنانچہ دو آدمیوں کے سہارے چل کر مسجد میں تشریف لائے، اس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز شروع کر چکے تھے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے (الرحیق المختوم: صفحہ، 624/628) (مترجم)

نبی کریمﷺ نے اپنی طبیعت میں قدرے تخفیف محسوس کی، دو آدمیوں کے سہارے چل کر مسجد میں تشریف لائے، تکلیف سے آپﷺ کے پیر گھسٹ رہے تھے، آپﷺ کی آمد محسوس کر کے سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیچھے ہٹنا چاہا، آپﷺ نے اشارے سے ان کو اپنی جگہ رہنے کا حکم دیا، پھر آپﷺ آکر حضرت ابوبکرؓ کے بائیں پہلو میں بیٹھ گئے۔

اعمشؒ سے پوچھا گیا: کیا آپﷺ نماز پڑھا رہے تھے، اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپﷺ کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکرؓ کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے؟

تو اعمشؒ نے اپنے سر کے اشارے سے کہا ہاں۔

(البخاری: الاذان صفحہ، 713)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ برابر لوگوں کو پنج وقتہ نماز پڑھاتے رہے، یہاں تک کہ حیاتِ طیبہ کا آخری دن دو شنبہ آیا۔ مسلمان نماز فجر میں صف بہ صف کھڑے تھے، نبی کریمﷺ نے اپنے حجرے کا پردہ ہٹایا، مسلمانوں پر نظر ڈالی وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے تھے۔ آپﷺ نے دیکھا کہ آپﷺ کی دعوت و جہاد نے کیا اثر دکھایا ہے اور کس طرح وہ امت وجود میں آئی جو آپﷺ کی موجودگی اور عدم موجودگی میں نماز پر ہمیشگی کر رہی ہے، اس حسین و دلکش منظر اور نجاح و کامیابی کو (جو آپﷺ سے قبل کسی نبی و داعی کو میسر نہ آئی) دیکھ کر آپﷺ کی آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور آپﷺ کو اطمینان حاصل ہو گیا کہ اس امت کا تعلق اللہ اور دین سے دائمی ہے۔ نبیﷺ کی وفات سے منقطع ہونے والا نہیں۔ اس سے آپﷺ کو اس قدر خوشی حاصل ہوئی جس کی انتہا اللہ ہی کو معلوم ہے اور آپﷺ کا چہرہ انور روشن ہو گیا۔

(السیرۃ النبویۃ للندوی: صفحہ، 401)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بیان کرتے ہیں نبی کریمﷺ نے حجرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا پردہ ہٹایا، اور کھڑے ہو کر ہمیں دیکھنے لگے، آپﷺ کا چہرہ انور قرآن کا صفحہ (چمکدار، صاف شفاف) معلوم ہو رہا تھا، پھر آپﷺ مسکرا کر ہنسنے لگے۔ ہم اس قدر خوش ہوئے کہ ارادہ کر لیا کہ نماز کے اندر ہی فتنے میں پڑ جائیں (یعنی نماز توڑ دیں) اور ہمیں یقین ہو گیا کہ آپﷺ نماز کے لیے تشریف لا رہے ہیں لیکن آپﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ اپنی نمازیں پوری کر لو، پھر حجرے کے اندر تشریف لے گئے اور پردہ گرا لیا۔

(البخاری: المغازی صفحہ، 4448)

اس کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو قدرے اطمینان ہو گیا اور بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے کاروبار میں مشغول ہو گئے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی بیٹی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور رسول اللہﷺ کی صحت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ رسول اللہﷺ کی تکلیف ختم ہو گئی اور آج بنت خارجہؓ (آپﷺ کی زوجہ محترمہ) کی باری ہے۔ وہ مقام سنح میں رہتی تھیں۔ آپؓ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور ان کے پاس چلے گئے۔

(السیرۃ النبویۃ لابی شہبۃ: جلد، 2 صفحہ، 593)

نبی کریمﷺ پر سکرات کی کیفیت تیز ہو گئی، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپﷺ کے پاس آئے، آپﷺ کلام پر قادر نہ تھے، اپنے دونوں ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھایا اور پھر سيدنا اسامہؓ پر رکھا، اس سے وہ سمجھ گئے کہ آپﷺ ان کے لیے دعا فرما رہے ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپﷺ کی اپنے سینے سے ٹیک لگوا دی۔ سيدنا عبد الرحمٰن بن ابی بکرؓ تشریف لائے ان کے ہاتھ میں مسواک تھی۔ آپﷺ مسواک کی طرف دیکھنے لگے۔

ام المؤمنین فرماتی ہیں میں نے پوچھا آپﷺ کے لیے لے لوں؟

آپﷺ نے سر سے اشارہ فرمایا کہ ہاں۔

میں نے مسواک لے کر آپﷺ کو دی تو آپ کو سخت محسوس ہوئی۔

میں نے کہا اسے آپﷺ کے لیے نرم کر دوں؟

آپﷺ نے سر کے اشارے سے کہا ہاں۔

میں نے مسواک کو دانتوں سے کوچ کر نرم کر کے آپﷺ کو دی، آپﷺ نے نہایت اچھی طرح سے مسواک کی، اس دوران میں آپﷺ اللہم فی الرفیق الاعلی

ترجمہ: اے اللہ مجھے رفیق اعلیٰ میں پہنچا دے۔

(البخاری: المغازی صفحہ، 4438)

کہتے رہے۔ آپﷺ کے بغل میں کٹورے میں پانی تھا، آپﷺ پانی میں دونوں ہاتھ ڈال کر چہرے پر پونچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے لا الہ الا اللہ موت کے لیے سختیاں ہیں۔ پھر آپﷺ نے اپنا دست مبارک کھڑا کیا اور فرمانے لگے۔

اللہم فی الرفیق الاعلی

ترجمہ: پھر آپﷺ کی روح پرواز کر گئی اور ہاتھ جھک گیا۔

(البخاری: المغازی صفحہ، 4449)

اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ آپﷺ فرما رہے تھے اللہم أعنِّی علی سکرات الموت۔

ترجمہ: اے اللہ موت کی سختیوں پر میری مدد فرما۔

(الترمذی: الجنائز صفحہ، 978)

ایک روایت میں ہے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریمﷺ کی وفات سے قبل جبکہ آپ ام المؤمنینؓ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، کان لگا کر سنا تو آپﷺ فرما رہے تھے

اللہم اغفرلی وارحمنی والحقنی بالرفیق الاعلی۔

ترجمہ: اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے۔

(البخاری: المغازی صفحہ، 4440) 

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب نبی کریمﷺ کی بیماری میں شدت آ گئی اور آپﷺ پر بے ہوشی طاری ہونے لگی، یہ منظر دیکھ کر سيده فاطمہؓ نے کہا

واکرب اباہ!

ہائے ابا جان کی پریشانی۔

تو رسول اللہﷺ نے فرمایا

لیس علی ابیک کرب بعد الیوم

ترجمہ: آج کے بعد تیرے باپ پر کوئی پریشانی نہیں آئے گی۔

پھر جب رسول اللہﷺ کی وفات ہو گئی تو سيده فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرط غم سے فرمایا

صفحہ 2 از 3