عزاداری (جواد محدثی کی کتاب پر ایک نظر) - ردِ رافضیت | دفاع…

عزاداری (جواد محدثی کی کتاب پر ایک نظر)

  آیت اللہ برقعی

صفحہ 3 از 5

قالَ الباقر عليه السّلام : بَلا فى اِثْنَيْنِ مِنْ اَصْحابِهِ قالَ: فَلمّا مَرَّبِها تَرَقْرَقَتْ عَيْناهُ لِلْبُكاءِ ثُمَّ قالَ: هذا مَناخُ رِكابِهِمْ وَ هذا مُلْقى رِحالِهِمْ وَهيهُنا تُهْراقُ دِماؤُهُمْ، طوبى لَكِ مِنْ تُرْبَةٍ عَلَيْكِ تُهْراقُ دِماءُ الا حِبَّةِ. 

امام باقرعلیہ السلام فرماتے ہیں: حضرت علیؑ اپنے دو اصحاب کے ہمراہ کربلا سے گزرے اور جب کربلا کی سر زمین پر پہنچے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور فرمانے لگے: اس سر زمین پر شہداء کی سواریاں رکیں گی اور اسی جگہ ان کا خون بہایا جائے گا، اے زمین! تو کتنی خوش نصیب ہے کہ تیرے اوپر شہداء کا خون بہایا جائے گا۔

بحارالانوار، ج 44، ص 258 

جعفر بن محمد بن عبیداللہ مجہول ہے۔

اس میں باب 31 میں یہ روایت نمبر 8 ہے جو کہ آیت اللہ محسنی کے مطابق غیر معتبر ہے۔

حدیث نمبر :20

قال الباقر عليه السّلام: ما مِنْ رَجُلٍ ذكَرَنا اَوْ ذُكِرْنا عِنْدَهُ يَخْرُجُ مِنْ عَيْنَيْهِ ماءٌ ولَوْ مِثْلَ جَناحِ الْبَعوضَةِ اِلاّ بَنَى اللّهُ لَهُ بَيْتاً فى الْجَنَّةِ وَ جَعَلَ ذلِكَ الدَّمْعَ حِجاباً بَيْنَهُ وَ بَيْنَ النّارِ. 

امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: جس شخص کے سامنے ہمارا ذکر کیا جائے اور اگر وہ مچھر کے پر کے برابر بھی آنسو بہائے تو خدا وند عالم اس کے بدلے جنت میں گھر عطا کرے گا اور یہ آنسو انسان اور دوزخ کی آگ کے درمیان حائل ہونگے۔

الغدير، ج 2، ص 202

یہ روایت کفایۃ الاطہار سے منقول ہے،اور یہ الورد بن کمیت سے منقول ہے جس کا ترجمہ کتب رجال میں نہیں آیا یعنی یہ مجہول ہے۔بحار الانوار میں جلد نمبر 36 صفحہ 391 پر یہ روایت ہے ،روایت نمبر 2 ہے باب 45 نصوص الباقر صلوات الله عليه عليهم عليهم السلام‏۔اس باب میں کسی معتبر روایت کی شیخ محسنی نے نشاندہی نہیں کی۔

حدیث نمبر :21

قالَ الصّادقُ عليه السّلام: بَكى عَلىُّ بْنُ الحُسَينِ عليه السّلام عِشْرينَ سَنَةً وَ ما وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ طَعامٌ اِلاّبَكى . 

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :امام زین العابدین علیہ السلام کربلا کی یاد میں بیس سال روئے اور جب بھی ان کے سامنے کھانا رکھا جاتا تو رونا شروع کردیتے تھے۔

بحارالانوار، ج 46، ص 108 

یہ ابن شہر آشوب نے بغیر کسی سند کے امام صادق ؑ سے نقل کیا ہے۔

یہ باب حزنہ و بکائہ میں موجود چار روایات میں سے پہلی روایت ہے لیکن آیت اللہ محسنی کے نزدیک اس باب میں چاروں روایت غیر معتبر ہے۔

حدیث نمبر :22

قالَ الصّادقُ عليه السّلام : لَمّا ماتَ اِبراهيمُ بْنُ رَسُولِاللّهِ صلّى اللّه عليه و آله حَمَلَتْ عَيْنُ رَسُولِاللّهِ بِالدُّمُوعِ ثُمَّقالَ النّبىُّصلّى اللّه عليه و آله : تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَ يَحْزَنُ الْقَلْبُ وَ لا نَقُولُ ما يُسْخِطُ الرَّبَّ وَ اِنّا بِكَ يا اِبراهيمُ لَمَحْزُونُونَ. 

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جب رسول خداۖکا بیٹا ابراہیم فوت ہوا تو آپۖ کی آنکھیں آنسو سے بھر آئیں اور پھر فرمایا:

آنکھیں روئیں گی اور دل غمگین ہوگا اور خدا سے شکوہ نہیں کریں گے، اے ابراہیم! ہم تیرے سوگ میں غمگین ہیں۔

بحارالانوار، ج 22، ص 157 

سہل بن زیاد ضعیف راوی ہے۔ عبد الله بن ميمون القداح‏ جیسے راوی بھی اس میں موجود ہیں جس پر اسماعیلی ہونے کا الزام ہے۔

اس باب میں صرف روایت 24 معتبر ہے جب کہ آیت اللہ محسنی نے روایت 16 جو اوپر والی روایت ہے غیر معتبر کہا ہے۔

حدیث نمبر :23

قالَ الصّادقُ عليه السّلام : مَنْ ذُكِرْنا عِنْدَهُ فَفاضَتْ عَيْناهُ حَرَّمَ اللّهُ وَجْهَهُ عَلَى النّارِ. 

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :جس انسان کے سامنے ہمارا ذکر کیا جائے اور اس کی آنکھیں اشکبار ہو تو خدا وند عالم اس کے چہرے پر دوزخ کی آگ حرام کردے گا۔

بحارالانوار، ج 44، ص 285 

یہ روایت نمبر 22 ہے جو آیت اللہ محسنی کے نزدیک غیر معتبر ہے۔

فضیل بن فضالہ مجہول ہے۔

حدیث نمبر :24

قال الصّادق عليه السّلام : تَزاوَرُوا وَ تَلاقُوا وَ تَذاكَرُوا و اَحْيُوا اَمْرَنا. 

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ایک دوسرے کی زیارت کیا کرو، ایک دوسرے کی ملاقات کو جائو، مذاکرہ کرتے رہو اور ہماری ولایت کو زندہ رکھو۔

بحارالانوار، ج 71، ص 352 

بحار میں باب 21 تزاور الإخوان و تلاقيهم و مجالستهم في إحياء أمر أئمتهم ع‏ میں یہ روایت نمبر 20 ہے جو آیت اللہ محسنی کے مطابق غیر معتبر ہے۔

حدیث نمبر :25

قال الصّادق عليه السّلام لِلفُضَيل: تَجْلِسُونَ وَ تُحَدِّثُونَ؟ فَقالَ: نَعَمْ، قالَ: اِنَّ تِلْكَ الْمَجالِسَ اُحِبُّها فاءَحْيُوا اَمْرَنا، فَرَحِمَ اللّهُ مَنْ اَحْيى اَمْرَنا. 

امام صادق علیہ السلام نے فضل سے پوچھا: کیا تم اکھٹے بیٹھ کر ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔

آپ نے فرمایا: میں ایسی مجالس پسند کرتا ہوں، ہماری امامت کو زندہ رکھو، خدا اس انسان پر رحم کرے جو ہمارے ذکر کو زندہ کرتا ہے ۔

وسائل الشيعه ، ج 10، ص 392

یہ شیخ صدوق کی مستدرک الاخوان سے لیا گیا ہے جس میں انہوں نے کوئی سند ذکر نہیں کیا ہے۔

یہ بحار جلد 44 میں باب بکاء میں روایت 15 ہے جو آیت اللہ محسنی کے مطابق غیر معتبر ہے۔

حدیث نمبر :26

قال الصّادق عليه السّلام: ....رَحِمَ اللّهُ دَمْعَتَكَ، اَما اِنَّكَ مِنَ الَّذينَ يُعَدُّوَنَ مِنْ اَهْلِ الْجَزَعِ لَنا وَالَّذينَ يَفْرَحُونَ لِفَرَحِنا و يَحْزَنُونَ لِحُزْنِنا، اَما اِنّكَ سَتَرى عِنْدَ مَوْتِكَ حُضُورَ آبائى لَكَ..... 

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا تیرے آنسو کو تیرے لئے رحمت قرار دے۔ آگاہ رہو ! تم ان افراد میں سے ہے جو ہماری خوشی میں خوشحال اور ہمارے غم سے غمگین ہوتے ہیں، آگاہ رہو ! تم حالت احتضار میں اپنے سرہانے میرے بابا کو پائے گا۔

وسائل الشيعه ، ج 10، ص 397 

المفید من معجم میں عبد الله بن عبد الرحمن الأصم‏ مجہول ہے۔ان کو حلی نے ضعیف غال بھی کہا ہے۔ ابن غضائری نے ضعیف غال کذاب کہا ہے۔

حدیث نمبر :27

صفحہ 3 از 5