فرضی امام مہدی کا خوف قتل، جان بچا کر غائب ہونا اور خیر طلب…

فرضی امام مہدی کا خوف قتل، جان بچا کر غائب ہونا اور خیر طلب کے دلائل کا رد

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 5 از 5

دوسری طرف فرضی امام مہدی کا اس وجہ سے غائب ہوجانا اس لئے قابل مذمتہے کہ وہ چند دنوں، مہینوں یا سالوں کے لئے نہیں بلکہ صدیوں سے غائب ہیں!!

شیعہ عقائد کے مطابق ہر دور میں معصوم امام کی موجودگی لازم ہے لیکنفرضی امام مہدی چودہ صدیوں سے اپنی جان بچانے کے علاوہ امت مسلمہ کیکوئی مدد و رہنمائی نہیں کرسکے!

ایسے امام غائب کا امت کو کیا فائیدہ ؟؟ اور اس غیرحقیقی عقیدہ امامت سے دیناسلام کو کونسی تقویت ملی؟

اگر امام کو جان بچا کر غائب ہی رہنا تھا تو براہ راست نبی کریمﷺسے ہدایت لینے میں کیا خامی ہے۔؟

اہل سنت حیات النبیﷺ کے قائل ہیں۔ جس امت میں نبی کریمﷺ کی موجودگی ہو وہاں کسی اور غائب کیموجودگی کی ضرورت کیوں اور کس طرح ممکن ہے؟

اس کے بعد بھی خیر طلب نے مزید اسی نکتہ پرمختلف دلائل دئے ہیں ، لیکن کوئی نئی دلیل نہیں دی ۔

امام زمانہ کا قتل کے خوف سے نہ آنا اس لئے قابل مذمت ہے کہ یہ خوف چودہ صدیوں پر محیط ہے!!

کئی ادوار ایسے بھی آئے جب شیعہ برسر اقتدار آئے، ان کا غلبہ ہوا۔۔ لیکن فرضی امام غائب کا خوف پھر بھی کم نہ ہوا۔۔!!!

یہ خوف کس سے ہے؟ 

کیا چودہ صدیوں سے ان کا وہ دشمن بھی زندہ ہے اور ان کے انتظار میں ہے؟ 

یہ فلسفہ نہ سمجھ آسکتا ہے اور نہ سمجھایا جاسکتا ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جان بچانے کے لئے وقتی کوشش کرنا شریعت میں جائز ہونے کے باوجود حق کی راہمیں نکلنا اور جان قربان کردینا زیادہ فضیلت کا باعث ہے۔

آخر میں خیر طلب نے امام ابوحنیفہ کے خوف کو بھی بیان کرکے فرضی امام کے خوف کا جواز ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس کا جواب بھی وہی ہے کہ  بحالت مجبوری عارضی طور پر جان بچانا جائز ہے، لیکن اس کے باوجود امام ابوحنیفہ نے حق کی بات بھی بتادی، وہ غائب نہیں ہوگئے۔ منظر عام پر موجود رہے جبکہ فرضی امام غائب کا معاملہ قطعی مختلف ہے۔

فائنل کمنٹ:

ناظرین میدان جنگ میں دشمن کے خوف کا ہونا فطرت انسانی ہے، لیکن اس کے باوجود جنگ میں شریک ہونا، آخریگھڑی تک میدان میں موجود رہنا، لڑنا، شہادت یا غازی کا رتبہ پانا باعث تحسین عمل ہے اس عارضی خوف کےباوجود صحابہ کرام نہ صرف جنگ میں شامل ہوئے بلکہ آخر تک لڑائی میں حصہ بھی لیا اور کئی شہادت کے رتبہ پر پہنچے۔

انفرادی طور پر جنگ کے علاوہ کسی اور موقعہ پر جان بچانا جائز ہونے کے باوجود افضل عمل جان کی پروا نہ کرنااور شہادت کا رتبہ پانا ہے۔

فرضی امام مہدی اگر اپنے دور کی حکومت کے ڈر سے غائب ہوگئے تھے تو بعد کی حکومتوں میں ان کا ظہور ہوجاناممکن تھا تاکہ اپنی امامت کے وہ فرائض سرانجام دیں جن کے لئے انہیں منتخب کیا گیا ہے، لیکن مقام حیرت ہے کہامت کی رہنمائی و اصلاح کرنے کے بجائے چودہ صدیوں سے ان پر جان کا خوف و ڈر حاوی ہے اور غار میں چھپ کرزندگی گذار رہے ہیں۔۔!!! یہ عمل کسی بھی طرح قابل تعریف قرار نہیں دیا جاسکتا!!


صفحہ 5 از 5