فرضی امام مہدی کا خوف قتل، جان بچا کر غائب ہونا اور خیر طلب…

فرضی امام مہدی کا خوف قتل، جان بچا کر غائب ہونا اور خیر طلب کے دلائل کا رد

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 4 از 5

آیت انفاق میں اس جملے کا آنا اس طرف اشارہ ہے کہ انفاق میں نیکی کی مکمل تصویر اور مہربانی کا پورا اظہار ہونا چاہیے اور ہر قسم کے احسان جتلانے اور جن امور سے اس شخص کو رنج پہنچے جس سے نیکی کی گئی ہے ‘ بچنا چاہیے۔

اس ذیل میں کئی تفاسیر سے یہی مطالب دکھائے جاسکتے ہیں ، اختصار کے پیش نظر صرف دو حوالے دئے گئےہیں۔

اس کے بعد خیر طلب نے خوف کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے۔

1️⃣ میدان جنگ میں خوف زدہ ہونا

2️⃣ میدان جنگ سے باہر اپنی جان کی حفاظت کرنا اور اس کے ضیاع کا خوف ہونا۔

1️⃣ میدان جنگ میں خوف زدہ ہونا

میدان جنگ میں اس وقت خوفزدہ ہونا یقیناً برا عمل ہے جب جنگ شروع ہوچکی ہو ، لیکن اگر حالات موافق نہ ہوں اور جنگ سے پہلے حقائق دیکھتے ہوئے اور نتیجہ کا سوچ کرکچھ دیر کے لئے کہ خوف آجائے تو یہ کوئی معیوب بات نہیں ہےا۔ جب سامنے یقینی موت ہو تو فطرت انسانی کے مطابق  خوف و ڈر آ سکتا ہے۔

اصل بات ہوتی ہے میدان جنگ میں موجود رہنا ، آخری گھڑی تک ثابت قدم رہنا ، جنگ لڑنا، اپنی بہادری کے جوہر دکھانا اور شہادت یا غازی کے مرتبہ پر فائز ہوجانا۔

♦️ باعث مذمت فعل یہ ہیں۔

1️⃣ آخری گھڑی تک جنگ میں موجود نہ رہنا

2️⃣ خوف زدہ ہوکر لڑائی سے پرہیز کرنا

3️⃣ میدان جنگ سے فرار

خیر طلب اگر واقعی اپنے اعتراض میں سچے ہیں تو انہیں ثابت کرنا پڑے گا کہ یہ تینوں قابل مذمت فعل صحابہ کرام سے سرزد ہوئے ہیں، بصورت دیگر شروع جنگ کے خوف سے اس کا نتیجہ نکالنا جہالت ہے اور اس قبیح فعل سے وہ  اپنے بغض صحابہ کو تو تسکین دے سکتے ہیں لیکن شان صحابہ میں کوئی کمی نہیں کر سکتے۔

2️⃣ میدان جنگ سے باہر اپنی جان کی حفاظت کرنا اور اس کے ضیاع کا خوف ہونا۔

اس معاملہ میں شریعت نے چھوٹ دی ہے کہ انسان چاہے تو بحالت مجبوری غیر شرعی، قبیح فعل یا برے قول وغیرہ کہہ کر اپنی جان کی حفاظت کرسکتا ہے ، لیکن افضل عمل اس معاملہ میں بھی یہ ہے کہ انسان حق پر ڈٹ جائے اور ذرا برابر بھی اس سے انحراف نہ کرے چاہے اس کی جان ہی چلی جائے، اگر وہ مارا گیا تو شہید کہلایا جائے گا اور اللہ رب العزت کے ہاں شہید کی قدر و مزلت سب کے ہاں مسلم ہے۔

  اگر کسی کو شک ہو تو شروع اسلام میں حضرت بلال کی تکالیف ، میدان کربلا اور موجودہ دور تک حق کی راہمیں تکالیف برداشت کرنے والوں کے حالات زندگی کا مطالعہ کرسکتا ہے، وہ اگر چاہتے تو بظاہر حق سے ہاتھ اٹھاکردنیاوی تکالیف سے بچ سکتے تھے لیکن انہوں نے قربانیاں دینا ، اپنا مال، خاندان، اپنی جانیں دین کی راہ میںنچھاور کرنا زیادہ بہتر سمجھا اور یہی اصل حق ہے۔   

سورت القصص میں حضرت موسی کا خوف اور فرضی امام مہدی کے خوف کا تقابلی جائزہ

آگے خیر طلب نے سورت القصص سے حضرت موسی کے خوف کا ذکر کیا ہے تاکہ اپنے فرضی امام مہدی کے غائب ہونے کو درست قرار دے سکیں۔

پہلے حضرت موسی کے قصے کو مختصرآ سمجھتے ہیں۔

امن خلق سورہ القصص : آیت 21

فَخَرَجَ مِنۡہَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ ۫ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۲۱﴾

پس موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے خوفزدہ ہو کر دیکھتے بھالتے نکل کھڑے ہوئے کہنے لگے اے پروردگار! مجھےظالموں کے گروہ سے بچا لے۔

تفسیر: یہ خبر سنتے ہی موسیٰ (علیہ السلام) ڈرتے سہتے نکل کھڑے ہوئے ، اور انھوں نے دعا کی اے میرے رب مجھ کو ظالموں سے بچا لے ، اب قتل خطا تو کوئی بڑا جرم ہے نہیں ۔ بالکل simple سیدھی بات ہے کہ ایکسیڈنٹ ہوگیا ، اب ایکسڈنٹ میں تو کوئی کسی کو جیل میں نہیں ڈال دیتا یا سزا نہیں دیتا ، لیکن موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کو جانتے تھے ان کو فرعون سے کوئی امید نہیں تھی کہ وہ ان کی کوئی بات سنے گا ، وہ سمجھ گئے کہ اس نے فیصلہ پہلے کرلیا ہے ، اب وہ کوئی بات سننے والا نہیں، اور یہ ظالم حکمرانوں کا طریقہ ہوتا ہے کہ وہ فیصلہ پہلے کرتے ہیں اور مقدمہ بعد میں قائم کرتے ہیں۔ پہلے decide کرلیا ہوتا ہے کہ کرنا کیا ہے پھر ایسے ہی لوگوں کو دکھانے کے لیے مقدمہ بھی چلا دیا جاتا ہے مقدمے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہم کنکریٹ facts کو دیکھیں گے اور انصاف فراہم کریں گے ، مقدمے کا تو ایک بس ڈرامہ ہی ہوتا ہے تاکہ اپنا من پسند فیصلہ نافذ کیا جاسکے ، یہ فرعون کا بھی طریقہ تھا۔

اس آیت میں اسی واقعہ کا ذکر ہے، موسیٰ (علیہ السلام) کی داستان بیان کی جا رہی ہے ان سے ایک قتل ہوگیا قتل خطا۔

مصر میں فرعون کی سزا کی ان کو خبر ملی کہ فرعون ان کی جان کا دشمن ہوگیا ہے ان کو قتل کرنا چاہتا ہے تو موسیٰ چونکہ معصوم تھے بےقصور تھے ، کوئی جان بوجھ کر ان سے یہ خطا نہ ہوئی تھی لیکن فرعون کے پاس اگر جاتے تو فرعون بات نہ سنتا ، اس نے فیصلہ تو پہلے ہی کرلیا تھا کہ مجھ کو قتل تو کرنا ہی ہے موسیٰ (علیہ السلام) کو ، تو موسیٰ (علیہ السلام) اپنی جان بچانے کی خاطر مصر چھوڑ کر نکل پڑے ، اور انھوں نے مدین کا رخ کیا۔

مزید تفصیل مختلف تفاسیر میں موجود ہے۔

یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ حضرت موسی کا خوف قابل معیوب ہرگز نہیں ہے۔یہ بالکل وہی معاملہ ہے جب مکہ کے کفار نے نبی کریم ﷺ کو قتل کرنے کیپلاننگ کی تھی تو اللہ عزوجل نے انہیں ہجرت کا حکم دیا تاکہ ان کی جان کاخطرہ ٹل جائے۔ اب اگر کوئی جاہل یہ کہے کہ نبی کریمﷺ نے معاذاللہ خوف زدہہوکر مکہ سے ہجرت کی انہیں جان جانے کا ڈر تھا تو یہ اس کے عقل و فہم کاقصور سمجھا جائے گا۔

جس طرح میدان جنگ میں فریق آگے بڑھ کر وار کرتا ہے تو کبھی پیچھے کی طرف بھی ہوجاتا ہے تاکہ حملہ کیڈائریکشن بدلی جاسکے یا حکمت عملی تبدیل کی جاسکے، کوئی بھی عقلمند اس پیچھے ہٹنے کو خوف، ڈر یابزدلی نہیں کہے گا۔ نتیجہ بیچ جنگ میں نہیں نکالا جاتا بلکہ آخر میں جب جنگ اختتام پذیر ہوجائے تب ہی نتیجہنکالا جاتا ہے۔

اسی طرح عملی زندگی میں مقاصد کے حصول کی خاطر جان کی حفاظت کرنا ایک ضروری امر ہے تاکہ بوقت ضرورت بہتر حکمت عملی سے مطلوبہ ہدف حاصل کیا جاسکے۔

حضرت موسی علیہ السلام کا خوف ہو یا نبی کریمﷺ کی ہجرت یہ معاملات باعث مذمت نہیں ہیں۔

صفحہ 4 از 5