فرضی امام مہدی کا خوف قتل، جان بچا کر غائب ہونا اور خیر طلب…

فرضی امام مہدی کا خوف قتل، جان بچا کر غائب ہونا اور خیر طلب کے دلائل کا رد

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 3 از 5

اور خدا کی راہ میں (مال) خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔







 

ہمیں سعید بن محمد الزاہد نے اسے ابوعلی بن ابوبکر الفقیہ نے اسے احمد بن الحسین بن الجنید نے، اسے عبداللہ بن ایوب نے اور ہشیم نے بحوالہ داؤد اس نے بحوالہ الشعبی خبردی الشعبی نے کہا کہ یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی انہوں نے اللہ کی راہ میں خرچ سے ہاتھ روک لیے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

ہشیم نے ان ہی اسناد کے ساتھ اسماعیل بن ابی خالد سے بحوالہ عکرمہ ہمیں یہ حدیث سنائی کہ یہ آیت اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بارے میں ہے۔

ہمیں ابوبکر المہر جانی نے اسے ابوعبداللہ بن بطہ نے اسے ابوالقاسم البغوی نے اسے ھدبہ بن خالد نے، اسے حماد بن سلمہ نے بحوالہ داؤد الشعبی الضحاک بن ابی جبیرہ خبر دی۔ ابن ابی جبیرہ نے کہا کہ انصار خوب صدقہ دیتے تھے اور دوسروں کو خوب کھلاتے تھے ان کے ہاں ایک سال قحط پڑگیا تو انہوں نے خرچ کرنے سے ہاتھ روک لیا اس پر اللہ نے یہ آیت نازل کی۔

ابومنصور البغدادی نے اسے ابوالحسن السراج نے اسے محمد بن عبداللہ نے اسے ھدبہ نے اسے حماد بن سلمہ نے سماک بن حرب سے اس نے نعمان بن بشیر سے اللہ کے اس قول ولاتلقوا بایدیکم کے بارے میں ہمیں خبر دی کہ ایک شخص کوئی گناہ کرتا اور کہتا کہ لایغفرلی یعنی اللہ مجھے معاف نہ کرے تو اللہ نے یہ آیت نازل کی۔

ہمیں ابوالقاسم بن عبدان نے اسے محمد بن حمدویہ نے اسے محمد بن صالح بن ہانی نے خبر دی اس نے کہا کہ ہم سے احمد بن محمد بن انس القریشی نے اسے عبداللہ بن یزید المقری نے اسے حیوۃ بن شریح نے حدیث بیان کی اس نے کہا کہ مجھے یزید بن ابی حبیب نے اسے اسلم ابوعمران نے خبر دی کہ ہم قسطنطنیہ میں تھے جب مصریوں پر عقبہ بن عامر الجہنی صحابی رسول امیر مقرر تھے اور اہل شام پر فضالہ بن عبید صحابی رسول امیر مقرر تھے تو روم سے ایک عظیم لشکر برآمد ہوا اور ہم مسلمانوں نے اس کے خلاف عظیم صف آرائی کی مسلمانوں میں سے ایک شخص نے رومی صف پر حملہ کیا یہاں تک کہ وہ ان کے اندر داخل ہوا پھر وہاں سے نکل کر ہمارے پاس آیا لوگوں نے بلند آواز سے کہا یا چیخ کر کہا کہ سبحان اللہ اس نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دیا اس پر صحابی رسول ابوایوب انصاری اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ اے لوگو تم اس آیت کی غلط تاویل کررہے ہو یہ آیت تو ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس کا شان نزول یہ ہے کہ جب اللہ نے اپنے دین کو عزت بخشی اور غلبہ دیا اور اس کے مددگاروں کی کثرت ہوگئی تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے کچھ لوگوں سے رسول اللہ سے پوشیدہ کہا کہ ہمارے مال تو ضائع ہوگئے اچھا ہوتا اگر ہم یہ مال سنبھالتے یعنی اس سے سرمایہ کاری کرتے اور ضائع شدہ مال کی کمی پوری کرتے تو اللہ نے اپنی کتاب میں یہ آیت نازل کی جس میں ہمارے ارادے کی تردید کی اللہ نے فرمایا

وَاَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ ۔

اس میں اللہ نے ہمیں وہ اموال خرچ کرنے کو کہا جسے ہم نے سنبھالے رکھنے اور اس سے اپنے معاملات سدھارنے کا ارادہ کیا تھا اور ہمیں جہاد کرنے حکم دیا حضرت ابوایوب مسلسل جہاد کرتے رہے تاآنکہ اللہ نے ان کی جان قبض کرلی۔

سیقول : سورۃ البقرة : آیت 195

وَ اَنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ ۚۖۛ وَ اَحۡسِنُوۡا ۚۛ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۹۵﴾

(تفسیر نمونہ (اہل تشیع :


 

تفسیر

جس طرح جہاد میں مخلص ‘ طاقتور اور تجربہ کار مردوں کی ضرورت ہے اسی طرح مال و دولت کی بھی احتیاج ہے کیونکہ جہاد میں روحانی و جسمانی آمادگی کی ضرورت ہے اور فوج کے لیے مناسب اسلحہ اور سامان جنگ کی بھی احتیاج ہے۔

یہ صحیح ہے کہ پہلے درجے کا عامل سر نوشت اور انجام جنگ کا تعین مجاہدوں اور جانبازوں ہی سے ہوتا ہے ۔ لیکن مجاہد کو وسائل کی بھی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت تاکید کررہی ہے کہ اس راہ میں خرچ نہ کرنا گویا اپنے تیئس ہلاکت و تباہی میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

خصوصاً اس زمانے میں تو بہت سے مسلمان جذبے اور عشق جہاد سے سرشار تھے لیکن فقیر و محتاج تھے اور اسباب جنگ مہیا کرنے کی سکت نہ رکھتے تھے جیسا کہ قرآن نقل کرتا ہے کہ وہ لوگ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کرتے تھے کہ ہمارے لیے سامان جنگ مہیا فرمائیں اور ہمیں میدان جنگ میں بھیجیں چونکہ اسباب مہیا نہ تھے لہٰذا وہ افسردہ اور غم گین روتی ہوئی آنکھوں سے پلٹ آتے :

تولوا واعینھم تفیض من الدمع غزناً الا یجدوا ما ینفقون “

آنکھوں میں اشک رواں لیے ہوئے لوٹ جاتے اور غم زدہ ہوتے کہ ان کے پاس مال کیوں نہیں جس سے وہ اسباب جنگمہیاکریں اور میدان جنگ میں حاضر ہوں۔

(توبہ۔ ٩٢)

خرچ کرنا معاشرے کو ہلاکت سے بچتا ہے۔

یہ آیت اگرچہ آیات جہاد کے ذیل میں آئی ہے لیکن اس سے ایک کلی و اجتماعی حقیقت معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ خرچ کرنا افراد معاشرہ کو ہلاکت سے بچانے کا باعث بنتا ہے۔ اس کے برعکس اگر انفاق اور خرچ کرنے کے عمل کو فراموش کردیا جائے اور دولت ایک ہی طبقے کے پاس جمع ہوجائے تو ایک محروم اور بےنوا اکثریت وجود میں آجائے گی۔ زیادہ دیر یہ حالت قائم نہیں رہے گی اور جلد ایک دھماکہ ہوگا جس کے نتیجہ میں انسان اور سرمایہ داروں کا مال جل کر خاکستر ہوجائے گا۔ اس سے خرچ کرنے اور ہلاکت سے بچنے کا باہمی رابطہ بھی واضح ہوجاتا ہے۔

اس بناء پر انفاق اور خرچ کرنا محروموں اور محتاجوں سے پہلے سرمایہ داروں کے لیے مفید ہے یعنی دولت و ثروت کا اعتدال دولت و ثروت کا محافظ ہے۔ چنانچہ حضرت علی (رض) اس حقیقت کی طرف اشارہ فرماتے ہیں :

” حصنوا اموالکم بالذکوۃ “

” زکوۃ دے کر اپنے مال کی حفاظت کرو “

” واحسنوا ان اللہ یحب المحسنین “

آیت کے آخر میں احسان اور نیکی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس طرح جہاد وانفاق کے مرحلے سے احسان و نیکی کے مرحلے کی طرف راہنمائی کی گئی ہے کیونکہ اسلام کی نظر میں احسان انسانیت کے تکامل وار تقاء کے بلند ترین مرحلے کا نام ہے۔

صفحہ 3 از 5