فرضی امام مہدی کا خوف قتل، جان بچا کر غائب ہونا اور خیر طلب…

فرضی امام مہدی کا خوف قتل، جان بچا کر غائب ہونا اور خیر طلب کے دلائل کا رد

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 5

جب اللہ نے موسیٰ ع کو حکم دیا کہ وہ فرعون کے پاس جائیں جس سے بھاگتے ہوئے موسیٰ مصر سے آئے تھے اوراس کی حکومت سے خوفزدہ تھے تو اس وقت موسی نے کہ اے پروردگار اُن میں کا ایک شخص میرے ہاتھ سے قتلہوچکا ہے یعنی وہ قبطی اور آیت: سو مجھے خوف ہے کہ وہ (کہیں) مجھ کو مار نہ ڈالیں یعنی جب وہ مجھےدیکھیں۔

حوالہ:

تفسیر ابن کثیر، جلد ٦ ص ٢٣٦ طبع دار الطیبہ۔

ناظرین یہ دو آیات اس ذیل میں کافی ہے۔ اور امام زمانہ ع کا قتل کے خوف سے نہ آنا ان کی ہرگز توہین نہیں بلکہتوہین جب ہوتی جب تقاضہ شرع یہ ہوتا کہ آپ آئیں اور جنگ کیجئے اور پھر وہ خوفزدہ ہوتے جیسے کہ بدر میںبعض صحابہ خوفزدہ تھے اور احد میں کافی صحابہ رسول ص کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔

ناظرین خود فخرالزماں صاحب کے امام ابو حنیفہ نے ایک دفعہ کسی بری کاروائی سے بچنے کے لئے ایک حیلہ کیا، وہ بھی پیش خدمت کئے دیتا ہوں:

عبداللہ بن احمد بن حنبل نقل کرتے ہے:

حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ حَمَّادِ بْنِ أَبِي حَنِيفَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي حَمَّادُ بْنُ أَبِي حَنِيفَةَ، قَالَ: أَرْسَلَابْنُ أَبِي لَيْلَى إِلَى أَبِي فَقَالَ لَهُ: تُبْ مِمَّا تَقُولُ فِي الْقُرْآنِ أَنَّهُ مَخْلُوقٌ وَإِلَّا أَقْدَمْتُ عَلَيْكَ بِمَا تَكْرَهُ، قَالَ: فَتَابَعَهُ قُلْتُ: يَا أَبَهْكَيْفَ فَعَلْتَ ذَا؟ قَالَ: «يَا بُنَيَّ خِفْتُ أَنْ يَقْدُمَ عَلَيَّ فَأَعْطَيْتُ تَقِيَّةً»

حماد بن ابی حنیفہ کہتے ہے کہ ابن ابی لیلی نے میرے ابا (ابوحنیفہ) کے پاس ایک پروانہ بھیجا جس میں تھا کہ تماپنی بات سے توبہ کرو جو تم قرآن کو مخلوق کہتے ہو ورنہ میں وہ چیز کروں گا تمہارے ساتھ جو تمہیں بری لگےگی، تو ابوحنیفہ نے اپنے اس قول سے توبہ کرلی، تو میں نے اپنے باپ سے کہا یہ آپ کس طرح کرسکتے ہے، توابوحنیفہ نے جواب دیا بیٹا میں ڈر گیا تھا کہ وہ میرے ساتھ کیا کرتا ہے پس میں نے تقیہ سے کام لیا۔

حوالہ:

السنة جلد ١ ص ١٨٣ رقم ٢٣٨ طبع دار ابن القیم۔

اس روایت کے شواھد اور بھی موجود ہیں تو یہ ایک الزامی جواب قبول کیجئے۔

فائنل کمنٹ: ناظرین میدان جنگ میں دشمنوں کے خوف سے جنگ کی طرف نہ جانا ایک بات ہے اور نارمل حالات میںجب حکومت خلاف ہو اور وہ قتل کے درپے ہو اس صورت میں تحفظ جان کرنا اور اس کے ضیاع کا خوف ہونا بالکلمختلف ہے۔ دونوں کو ملانا ہی غلط ہے۔

خیر طلب۔


الجواب:

ناظرین۔۔۔ آپ نے خیر طلب کا جواب پڑھا۔

یاد رہے کہ انہیں جنگ بدر والی پوسٹ کا مدلل جواب دیا جاچکا ہے۔

انہوں نے دو اہم اعتراض کئے تھے۔

1️⃣ صحابہ کرام کو مال کی لالچ تھی۔

2️⃣ صحابہ کرام جنگ سے خوفزدہ تھے۔

دونوں کا رد اس طرح کیا گیا کہ

مال غنیمت اللہ عزوجل اور نبی کریم کا بھی اصل مقصد تھا یہ اگر لالچ ہے تو الزام براہ راست اللہ عزوجل اور نبی کریم پر عائد ہوتا ہے۔

غزوہ بدر کوئی باقائدہ جنگی تیاریوں اور پلاننگ کے بعد نہیں لڑی گئی تھی بلکہ مدینہ سے نکلتے وقت مدنی لشکر کااصل ٹارگیٹ وہ تجارتی قافلہ تھا جو شام سے واپس آ رہا تھا۔ صحابہ کرام جنگی تیاریوں سے نہیں نکلے تھے اور کئی صحابہ تو مدینہ میں رہ گئے تھے کہ تجارتی قافلہ صرف چالیس افراد پر مشتمل تھا۔

جب راستے میں صورتحال تبدیل ہوئی اور مکی لشکر جو ایک ہزار کے قریب تھا وہ پوری جنگی تیاری سے سامنے آیا تو صحابہ کرام کو اپنی انتہائی مختصر تعداد اور بے سر و سامانی کی وجہ سے مایوسی اور خوف ہوا جو کہ عین فطرت انسانی ہے، لیکن یہ خوف عارضی تھا  اس کے بعد اسی تین سو تیرا کے لشکر نے بغیر ساز و سامان اور جنگی تیاری کے جس بہادری سے کفار مکہ سے جنگ کی وہ تاریخ اسلام میں اظہر من الشمس ہے۔

اس اعتراض کا تفصیلی رد اس پوسٹ سے پڑھ کر خود نتیجہ نکالیں کہ رافضیوں کے دونوں اعتراض باطل اور بغض صحابہ کا شاخسانہ ہیں۔

اعتراض غزوہ بدر میں صحابہ کا خوف اور شیعہ رافضی خیر طلب کے دلائل

اب آتے ہیں ، خیر طلب کے موجودہ جواب پر۔

پہلی بات یہ سراسر جھوٹ ہے کہ صحابہ کرام کو قتال کا خوف تھا اور وہ جنگ کرنا نہیں چاہتے تھے۔

کسی صحابی نے جنگ سے منع نہیں کیا اور نہ میدان جنگ سے بھاگ کر جان بچائی۔

دوسری بات انسان کی فطرت کے مطابق سب سے عزیز قیمتی چیز اس کی جان ہے، اور ڈروخوف سے اپنی جان بچانا واقعی جائز ہے لیکن یہ عمل انفرادی نوعیت کا ہو تو قابل قبول ہےاگر سردار، لیڈر جان کے خوف سے بھاگ جائے یا ڈر کر چھپ جائے تو یہ عمل قابل مذمتہے نہ کہ قابل تحسین۔

فرضی امام مہدی شیعہ عقائد کے مطابق زمین پر اللہ عزوجل کی حجت ہے، منصوص مناللہ ہے اور اصل حاکم و خلیفہ ہے، اس کا جان بچا کرچودہ صدیوں سے غائب ہوجانادرحقیقت اللہ عزوجل کی قدرت کاملہ پر سوالیہ نشان ہے جوکہ قطعی طور پر درست  نہیںہے۔

خیر طلب نے سورت البقرہ آیت 195 پیش کرتے ہوئے اپنے فرضی امام مہدی کا دفاع کیا ہے کہ اس کا جان بچا کر غار میں چھپ جانا اور قتل ہوجانے کا ڈر عین قرآنی تعلیمات کےمطابق ہے۔

سیقول : سورۃ البقرة : آیت 195

وَ اَنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ ۚۖۛ وَ اَحۡسِنُوۡا ۚۛ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ

﴿۱۹۵﴾

اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو   اور سلوک و احسان کرو اللہ تعالیٰ احسانکرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

یہ آیت اس لئے نازل نہیں ہوئی کہ حق کے سامنے جان زیادہ اہمیت کی حامل ہے یا انسانمشکل حالات میں ایمان کا سودہ کرلے اور جان بچالے تو یہ عمل باعث تحسین ہے۔

تقریباً تمام سنی و شیعہ مفسرین نے  یہی لکھا ہے کہ اس آیت میں راہ خدا میں خرچ نہ کرنے والوں کو اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالنے کی نصیحت کی گئی ہے۔

آیت کریمہ کا شان نزول بھی یہی ہے۔

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے ایک موقعہ پر اس آیت سے جان کو ہلاکت میں نہ ڈالنے کی وضاحت بھی کردی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ خیر طلب کا استدلال اس آیت کے مفہوم کے برخلاف ہے۔

اسباب نزول قرآن :

قول خداوندی۔

وَاَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ ۔

صفحہ 2 از 5