مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا پہلا مؤقف (دعوت ذوالعشیرہ)…

مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا پہلا مؤقف (دعوت ذوالعشیرہ) نبوت کے تیسرے سال حضرت علی کی خلافت کا اعلان ہوگیا تھا اور وہ مشہور بھی ہو گیا۔(قسط 2)

  علامہ علی شیر رحمانی

صفحہ 3 از 3

مؤلف حسین الامینی اس کتاب کو اول انعام یافته ۲۰۰۳ کہتے ہیں، اس کتاب کی تقریظ شیعہ مذہب کے مفکر اسلام جناب ڈاکٹر کلب صادق لکھنو (انڈیا) نے لکھی ہے کہ شیعت کا مقدمہ شیعہ عقائد و نظریات کو سمجھنے کے لئے ایک دل موہ لینے والی چیز ہے...... شیعیت کا مقدمہ شیعہ لائبریری کے لئے ایک قابل قدر اور ایک عمدہ اشاعت ہے بالآخر کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک مستند اور عمیق تحقیقی تالیف ہے جو مسلم ریڈرز کو شیعہ کے حقیقی عقائد کو سمجھنے میں مدد دے گی۔ شیعہ مذہب کے اتنے بڑے محقق نے بھی اپنی کتاب ”شیعیت کا مقدمہ” میں دعوت ذوالعشیرہ میں حضرت علی کی خلافت کے اعلان کا قصہ ذکر کیا ہے کہ پیغمبر اکرم ﷺ کی خلافت و جانشینی کے بارے میں شیعہ
نقطہ نظر ( یہ ہے کہ ) پیغمبر اسلام نے اپنے خلیفہ اور وصی کا اعلان پہلی دعوت اسلام میں ہی کر دیا تھا۔

(شیعیت کا مقدمہ، ص ۱۶۲۔ ۱۶۳، اشاعت نمبر بار چهارم ۲۰۰۴)



 

اس کے علاوہ یہی روایت:

[۱۶] تفسیر فرات کوفی: جلد اصفحہ ۱۰۹۔
[۱۷] تفسیر جوامع الجامع: جلد ۲، صفحہ ۱۹۳ میں بھی موجود ہے ۔

خلاصہ:
شیعہ محققین و مفسرین کی ان تمام عبارات میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ بعثت نبوی ﷺ کے تیسرے سال

وأنذر عشيرتك الأقربين

(الشعراء آیت نمبر ۲۱۴۔)

نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے اپنے قریبی رشتے داروں کی دعوت فرمائی جن کی تعداد۴۰ بتائی جاتی ہے، اس موقع پر آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ جو شخص بھی میرے اوپر ایمان لے آئے گا اور میرے کام میں میرا بازو یعنی مددگار بنے گا تو وہ میرا وزیر، وصی اور میرے اہل میں میرا خلیفہ ہوگا، تو تمام مجلس میں سب سے چھوٹے بچے، جو جسم میں بھی کمزور تھے یعنی علی نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ میں آپ پر ایمان لاتا ہوں اور آپ کا وزیر، وصی اور خلیفہ ہونے کے لئے تیار ہوں (گویا کہ حضرت علی نے ایمان ہی وزارت اور خلافت کے لیے قبول کیا) تو اس پر اہل مجلس نے ابوطالب کو شرم دلاتے ہوئے اس پر استہزاء کرتے ہوئے کہا کہ ”لو“ اب تم بھی اپنے بیٹے کی اطاعت کرو یہ تیرے اوپر بھی حاکم بنایا گیا ہے اور تیرے بیٹے کو تیرے اوپر حاکم بھی تیرے بھتیجے نے ہی بنایا ہے...... اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کو اپنے قریب کر کے اپنا لعاب مبارک اس کے منہ میں ڈال دیا تو اس پر ابولہب نے کہا کہ تو نے اپنے چچا کے بیٹے سے کیسا برا سلوک کیا یعنی کہ اس نے تو تیری دعوت کو قبول کیا اور تو نے اس کے منہ اور چہرے کو تھوک سے بھر دیا، تو اس کے جواب میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اس کو حکمت اور علم سے بھر دیا ہے۔ 
تبصرہ:
اس تحقیق سے ظاہر ہوا کہ حضرت علی دعوت ذوالشیرہ کے موقعہ پر مسلمان ہوئے اور یہ بات پورے مکہ میں پھیل گئی ہوگی کہ یہ دیکھو کہ علی نے محمد ﷺ کی دعوت کو قبول کیا اور محمد ﷺ نے اس کے چہرے اور منہ کو تھوک آلودہ کر دیا، تمام مخالفین اس چیز کو لوگوں کے سامنے بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہونگے تاکہ لوگ محمد رسول اللہ ﷺ سے نفرت کریں کہ یہی ان کا مقصود تھا لیکن دوسری طرف رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ماننے والے یعنی صحابہ کرام دفاع کرتے ہوۓ فرماتے ہوں گے کہ حضرت علی نبی کریم ﷺ کا وزیر اور خلیفہ ہے اس لئے آپ ﷺ نے علی کو علم وحکمت سے بھر دیا اور اسی طرح ابوطالب پر علی کو حاکم بنانے پر بھی طعنہ زنی ہوتی رہی ہوگی۔ ظاہر ہے کہ جتنا اس پر اختلاف بڑھتا رہا اتنا ہی یہ قصہ مشہور ہوتا گیا ہوگا اور علی کی خلافت مشہور ہوتی رہی ہوگی، اس لئے شیعہ مصنفین نے لکھا

’’و القصة بذالک مشہورۃ‘‘

 (تفسیر التبیان ، ج ۸، ص۲۱ ۔) 

نتیجہ:
شیعہ مذہب کے ان بڑے بڑے محققین و مفسرین علامہ وفہامہ کی اجتماعی تحقیق کا نتیجہ واضح طور پر یہ ہوا کہ بعثت نبوی ﷺ کے تیسرے سال آیت کریمہ

’’وأنذر عشيرتك الأقربين‘‘

نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے قریبی رشتہ داروں کی دعوت طعام کر کے اعلان فرمایا کہ میں تمہارے پاس بشیر و نذیر بن کر آیا ہوں تم میں سے جو میری بات کو مانے گا اور اس کام میں میرا بازو یعنی مددگار بنے گا تو وہ میرا وزیر ، وصی اور میرے اہل میں میرا خلیفہ ہوگا۔ آپ ﷺ نے تین دن ان کی دعوت طعام کر کے ایمان لانے اور خلیفہ ہونے کی دعوت دی لیکن دو دن تو کسی نے بھی اقرار نہیں کیا سارے چلے گئے، یہاں تیسرے دن علی نے عرض کیا کہ میں حاضر ہوں آپ نے تین بار اس جملے کو دہرایا ہر بار حضرت علی اٹھ کر عرض کرنے لگے کہ میں آپ ﷺ پر ایمان لانے اور خلیفہ بننے کے لئے حاضر ہوں جس کے نتیجے میں حضرت علی کی خلافت کا اعلان عام کیا گیا، اسی دن سے حضرت علی رسول اللہ ﷺ کا خلیفہ مشہور ہونے لگا۔ جیسے جیسے دعوت ذوالعشیرہ کا قصہ مشہور ہو تا گیا تو ویسے ہی علی المرتضی  کی خلافت کی شہرت عام ہوتی رہی اور جس طرح مصطفی کریم ﷺ کی رسالت کے مخالف طرح طرح کے اعتراضات کرتے رہے اور دوسری طرف مصطفی کریم ﷺ کی دعوت پر جو مسلمان ہوتے گئے مخالفین کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے عقیدہ رسالت کے پیغام کو مضبوط کرتے رہے۔اسی طرح حضرت علی کی خلافت پر بھی مخالفین کے اعتراضات تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ ابو طالب کے چھوٹے بچے کو خود ابوطالب جیسے اپنے قبیلے کی معتبر شخصیت پر حاکم بنایا گیا، اور دوسرا یہ کہ محمد ﷺ نے علی کی کس طرح توہین کی کہ علی نے اسکی دعوت کو قبول کیا اور محمد ﷺ نے اس کو بجائے شاباش دینے کے اس کے منہ اور چہرے کو تھوک سے بھر دیا، تو ان اعتراضات کا جواب بھی مسلمانوں کی طرف سے مخالفین کو ملتا رہا کہ اللہ اور رسول ﷺ کی طرف سے جو ہوا وہ برحق ہے اور رسول اللہ ﷺ جو اپنا لعاب مبارک حضرت علی کے منہ میں ڈالا تو آپ ﷺ نے اس کو حکمت اور علم سے بھر دیا۔
اس نتیجے کی بنیاد پر مذہب شیعہ میں علی المرتضی کو خلیفہ بلا فصل مانا جاتا ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت علی نبوت کے تیسرے سال ایمان لائے تھے اور خلافت کے لئے ایمان لائے تھے۔ بہرحال نبوت کے تیسرے سال حضرت علی کی خلافت مشہور ہوئی۔ 
یہ تھا شیعہ محققین کی تحقیق کا پہلا رخ / مؤقف/ دعوی، جس کو ہم نے باحوالہ نقل کیا، اس کے بعد ہم دوسرے رخ کو دیکھتے ہیں کہ اس میں کیا ہے ؟
(جاری ہے)


صفحہ 3 از 3