مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا پہلا مؤقف (دعوت ذوالعشیرہ)…

مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا پہلا مؤقف (دعوت ذوالعشیرہ) نبوت کے تیسرے سال حضرت علی کی خلافت کا اعلان ہوگیا تھا اور وہ مشہور بھی ہو گیا۔(قسط 2)

  علامہ علی شیر رحمانی

صفحہ 2 از 3

یعنی اے بنی عبد المطلب! میں اللہ تعالی کی طرف سے تمہارے پاس بشیر اور نذیر ہو کر آیا ہوں تم اسلام لاؤ اور میری اطاعت کرو تو ہدایت یافتہ ہو جاؤ گے، پھر فرمایا کون ہے جو اس (دین کے) معاملے میں میرا بھائی اور میرا بازو بنے تو وہ میرے بعد میرا ولی اور میرا وصی اور میرے اہل میں میرا خلیفہ ہوگا؟ اور میرا قرض اتارے گا؟ تو پوری قوم خاموش رہی لیکن ہر بار حضرت علی نے ہی جواب دیا کہ میں آپ کا بازو بننے کے لئے تیار ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ میر اوصی اور خلیفہ ہے جس پر لوگوں نے ابو طالب کو کہا

’’اطع ابنک فقد امر علیک‘‘

کہ اپنے بیٹے کی اطاعت کر تحقیق تیرے اوپر بھی حاکم بنایا گیا۔

(البرهان فی تفسیر القرآن ، ج ۳ ، ص ۱۹۱۔ ۱۹۴۔)

[۸] تفسیر نور الثقلين : 

مصنف الحدث الجليل العلامة الخبير الشيخ عبد على بن جمعه العروي المتوفی ۱۲!!، الطبعة الثانية، العلميه القم (ایران)۔

شیعہ مذہب کے اس محدث جلیل نے بھی دعوت ذوالعشیرۃ کے موقع پر علی کی خلافت کے تقرر کا ذکر کیا ہے اور آگے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علی کو اپنے قریب کیا اور ان کے منہ میں اپنا لعاب مبارک ڈالا تو ابولہب نے کہا ’’بئس ماحبوت به ابن عمك ان اجابك فملئت فاه ووجهه بزاقا‘‘ یعنی تو نے اپنے چچا کے بیٹے کو بری چیز دی (برا سلوک کیا) اس نے آپ کی بات کو مانا تو پھر آپ نے اس کے منہ اور چہرے کو تھوک سے بھر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ملئتہ حکمتا و علما‘‘ میں نے اس کو حکمت اور علم سے بھر دیا۔

(تفسیر نور الثقلین، ج ۴، ص ۲۷۔۲۸۔)



[۹] تفسیر کبیر منبج الصادقین فی الزام المخالفين: 

از تصنیفات عارف ربانی ملا فتح الله بن شکر الله کاشانی با مقدمه و تصحیح کامل آقائے الحاج میر مرزا ابوالحسن شعرانی التوفی ۹۸۸ ھ ۔

شیعہ مذہب کے اس عارف ربانی نے بھی دعوت ذوالعشیرہ میں دوسرے مفسرین و محققین کی طرح حضرت علی کی خلافت کا اعلان ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ:

وگفت بابوطالب از روئے استهزاء اطع ابنك فقد امر عليك؛

يعنی لوگوں نے ابو طالب کو شرم دلاتے ہوئے کہا کہ ”لو تو بھی اپنے بیٹے کی اطاعت کر تحقیق تیرے او پر (بھی) حاکم بنایا گیا (اس کے بعد فرمایا) 
’’ادن منی‘‘ نزديك من آی پس علی نزديك وے رفت و آنحضرت دهن وی را گشوده و آب دهن خود را در دهن او کرد و بین هر دو دوش و هر دو دست او تفل فرموده؛ ابو لهب گفت ’’بئس ما حبوت به ابن عمك ان اجابك و ملئت فاه و وجهه بزاقا‘‘ بد چیزے بہ پسے عم خودبخشیدی که اجابت تو کرد تو دهن و روی او را باب دهن تر ساختی ! پیغمبر فرمود ’’ ملئتہ حکمتا و علما‘‘۔
یعنی آپ ﷺ نے فرمایا میرے قریب آؤ پس علی آپ  ﷺ کے قریب آئے تو آنحضرت ﷺ نے ان کا منہ مبارک
کھول کر اپنا لعاب مبارک انکے منہ میں ڈالا اور دونوں شانوں کے درمیان اور دونوں ہاتھوں پر لگایا تو ابو لہب نے کہا کہ آپ نے اپنے چچا کے بیٹے کو بری چیز دے بخش دی کہ اس نے تیری بات کو قبول کیا اور تو نے اس کے منہ اور چہرے کو تھوک سے بھر دیا! پیغمبر ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اس کو علم و حکمت سے بھر دیا۔

(تفسیر منہج الصادقین فی الزام المخالفین ، ج ۶، ص ۴۸۸۔)
[۱۰] مجمع البيان في تفسير القرآن: 
تالیف علامة المحقق قدوة المفسرین وامین اللہ والدین الشيخ ابن علی الفضل بن الحسن الطبرسی المتوفی ۵۴۸ھ ۔

شیعہ مذہب کے اتنے بڑے محقق اور امین الملۃ والدین نے بھی یہی روایت جو تفسیر منہج الصادقین میں ہے کہ دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر علی کے وصی اور خلیفہ ہونے کا اعلان ہوا تو لوگوں نے ابو طالب کو شرم دلاتے ہوۓ کہا کہ ”لو“ تم بھی اپنے بیٹے کی اطاعت کرو تیرے بھتیجے نے اس کو تیرے اوپر بھی حاکم بنادیا ہے ، پھر آپ ﷺ نے علی کو قریب کر کے اس کا منہ کھول کر اپنا لعاب مبارک ڈالا تو ابو لہب نے کہا کے تو نے اپنے چچا کے بیٹے کو بری چیز دی یہ کہ اس نے تیری بات کو مان لیا اور تو نے اس کے منہ اور چہرے کو تھوک سے بھر دیا، تو پیغمبر ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اس کو علم و حکمت سے بھر دیا۔

( تفسیر مجمع البیان ، ج ۷، ص ۲۰۶، ناشر مکتبه علمیه اسلامیه تهران(ایران)) 


[۱۱] کتاب تلاش حق: 

تالیف حضرت علامہ سید شرف الدین موسوی مترجم سید محمد نجفی، نظر ثانی سید محمد تقی نقی، ناشر : موسى امام المنتظر قم ایران، اشاعت جنوری ۲۰۰۳۔

اس کتاب کے صفحہ نمبر ۹۴ پر بھی یہی روایت ہے کہ دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر حضرت علی کی خلافت کا اعلان کیا گیا اور اس دن سے علی نبی کریم ﷺ کے خلیفہ مقرر ہو گئے۔


[۱۲] ترجمه فرمان علی شیعہ۔
شیعه مترجم و مفسر السید فرمان علی نے بھی اس آیت کی تفسیر میں دعوت ذوالعشیرہ کا ذکر کرتے ہوئے یہی روایت نقل کی ہے کہ حضرت علی کی خلافت کا اعلان دعوت ذوالعشیرہ میں کیا گیا۔

(ترجمہ فرمان علی شیعه ، ص۴۴۹،۴۵۰)

[۱۳] تفسیر المیزان: 
مصنف علامہ فقید (یکتا موتی) سید محمد حسین طباطبائی مترجم فارسی سید محمد باقر موسوی ہمدانی، ناشر : حوزہ علمیہ قم (ایران)۔

شیعہ مذہب کے اس بڑے محقق و مفسر نے بھی تفسیر المیزان میں وہی روایت نقل کی ہے جو منہج الصادقین میں موجود ہے کہ علی کی خلافت کے اعلان پر لوگوں نے ابو طالب کو شرم دلاتے ہوۓ کہا کہ ”لو“ اب اپنے بیٹے کی اطاعت کرو، اس کے بعد علی کو قریب کر کے لعاب ڈالنے پر ابولہب کا اعتراض کہ تو نے اپنے چچا کے بیٹے کو بری چیز دے دی، یہ کہ اس نے تیری دعوت کو قبول کیا اور تو نے اس کے منہ اور چہرے کو تھوک سے بھر دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اس کو علم اور حکمت سے بھر دیا۔

(تفسیر المیزان، ج ۱۵، ص ۴۷۵-۴۷۶۔)

( تفصیل کے ساتھ یہ عبارت موجود ہے)۔

[۱۴] علل الشرائع: 
مصنف شیخ الجليل الاقدم الصدوق ابي جعفر محمد بن علی بن حسن بابویہ القمی المتوفی ۱۳۸۱ ھ۔

اس میں بھی دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر علی کی خلافت کا اعلان کیا گیا... موجود ہے۔

(علل الشرائع ، ج ۱، ص ۱۷۰۔)

[۱۵] شیعیت کا مقدمہ: 

صفحہ 2 از 3