مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا پہلا مؤقف (دعوت ذوالعشیرہ)…

مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا پہلا مؤقف (دعوت ذوالعشیرہ) نبوت کے تیسرے سال حضرت علی کی خلافت کا اعلان ہوگیا تھا اور وہ مشہور بھی ہو گیا۔(قسط 2)

  علامہ علی شیر رحمانی

صفحہ 1 از 3

مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا پہلا دعوی

نبوت کے تیسرے سال حضرت علی کی خلافت کا اعلان ہو گیا تھا اور وہ مشہور بھی ہو گیا۔

وأنذر عشيرتك الأقربين

 ’’اور تو اپنے سب سے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا۔

 سورة الشعراء، آیت ۲۱۴

ترجمہ سید امداد حسین کا نظمی شیعہ۔

[1] القرآن المبين في تفسير المتقيين: 

تفسیر صافی جلد ۵ صفحہ نمبر ۳۵۲/۳۵۳ پر بحوالہ تفسیر قمی لکھا ہے کہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی اور جس وقت نازل ہوئی تو جناب رسول خدا ﷺ نے کل بنی ہاشم کو جمع کیا جو چالیس آدمی تھے اور ان میں سے ہر ایک پورا بکرا کھا جاتا تھا اور پوری پوری مشک پانی کی پی جاتا تھا، انکے لیے جو تھوڑا سا کھانا میسر ہوا تیار کیا اسی کو سب نے کھایا اور سیر ہوگئے پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا: کہ میرا وزیر ، میرا وصی اور میر اخلیفہ کون ہوگا؟ ابولہب نے کہا کہ محمد(ﷺ) نے تم پر یقیناً جادو کیا ہے اور سب وہاں سے چلے گئے، دوسرے دن بھی ایسا ہی ہوا ، تیسرے دن بھی دعوت کی اور رسول خدا ﷺ نے وہی سوال دہرایا تو علی المرتضی جن کی عمر سب سے کم اور پنڈلیاں سب سے پتلی اور مالی حیثیت بھی کم تھی ، کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یارسول اللہ ﷺ میں حاضر ہوں، آنحضرت ﷺ نے فرمایا بے شک تم ہی ہو۔


 تفسير القرآن المبين في تفسير التقين، ص۱۳۸۱،۴۸۷

از سید امداد حسین الکاظمی، ناشر شیعہ جنرل بک ایجنسی انصاف پریس لاہور۔

[۲] تفسیر قمی: 

یہ تفسیر شیعہ مذہب کی تمام تفاسیر کی بنیاد ہے، شیعہ محققین اس کو تفسیر الصادقین یعنی آئمہ کی تفسیر کہتے ہیں۔ شیعہ مذہب کی اس بنیادی تفسیر میں یہ بتایا گیا ہے کہ مذکورہ آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی المرتضی کی خلافت کا اعلان کر دیا۔

(تفسیر قمی ج ۲ عربی ص ۴۸۱ (دعوت ذوالعشیرہ) مصنف ابو الحسن علی بن ابراہیم قمی المتوفی ۳۵۷ ھجری۔)



[۳] ترجمه مقبول :

شیعه محقق و مفسر مناظر لاثانی سید مقبول احمد دھلوی نے بھی تفسیر مجمع البیان کے حوالے سے دعوت ذوالعشیرہ کے متعلق مذکورہ بالا روایت نقل کر کے آگے لکھا ہے کہ یہ سن کر کہ حضرت علی نبی کریم ﷺ کا خلیفہ ہے سب لوگ کھڑے ہو گئے اور ابوطالب سے کہنے لگے ’’لو‘‘ اب اپنے بیٹے کی اطاعت کرو کہ تمہارے بھتیجے نے اس کو تم پر حاکم بنا دیا۔

 ترجمه مقبول، ص ۴۵۰، سورۃ الشعراء

  آیت نمبر ۲۱۷ کی تفسیر میں۔

( اس روایت میں خلیفہ بمعنی حاکم لکھا ہے )

[۴] تفسیر صافی: 

شیعه محقق و مفسر محمد بن مرتضى الحسن الفیض کاشانی نے بھی مذکورہ آیت کی تفسیر میں یہی
روایت نقل کی ہے یعنی کہ دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی  کی خلافت کا اعلان کردیا۔

(تفسیر صافی ج ۲ ، ص۲۲۷، سورۃ الشعراء، آیت ۲۱۴۔)

[۵] تفسیر نمونہ: 

اس تفسیر میں ہے کہ تاریخ اسلام کی رو سے آنحضرت ﷺ کو بعثت کے تیسرے سال عام دعوت
(دعوت ذوالعشیرۃ) کا حکم ہوا، اب تک آپ کی دعوت مخفی طور پر جاری تھی اور اس مدت میں بہت کم لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا لیکن جب یہ آیتیں

 وأنذر عشيرتك الأقربين۔

(سورة الشعراء آیت نمبر ۲۱۴۔)

اور

 قاصدع بما تؤمر وأغراض عن المشرکین۔

(سورة الحجر آیت نمبر ۹۴۔)

نازل ہوئیں تو آپ ﷺ کھلم کھلا دعوت دینے پر مامور ہو گئے۔اس کی ابتداء قریبی رشتے داروں سے کرنے کا حکم ہوا (پھر یہی روایت ذکر کی ہے جو دوسرے مفسرین نے بھی ذکر کی ہے اور اس کے آخر میں ہے) کہ آنحضرت ﷺ نے اپنا ہاتھ علی کی گردن پر رکھا اور فرمایا:

”ان هذا اخی و وصی وخلیفتی فیکم و اسمعوله و اطیعو‘‘۔

ترجمہ! بے شک یہ (علی) تمہارے درمیان میرا بھائی، میرا وصی اور میرا جانشین ہے، اس کی باتوں کو سنو اور اس کے فرمان کی اطاعت کرو۔ یہ سن کر سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور تمسخر آمیز مسکراہٹ انکے لبوں پر تھی اور ابوطالب سے کہنے لگے کہ اب تم اپنے بیٹے کی باتوں کو سنا کرو اور اس کے فرمان پر عمل کیا کرو۔

(تفسیر نمونه ج ۸، ص ۵۹۱ مترجم اردو۔)

( تفسیر نمونہ کی پہلی جلد میں لکھا ہے کہ) یہ تفسیر حسب ذیل علماء و مجتہدین کی باہمی کاوش قلم کا نتیجہ ہے۔

  تفسیر نمونه مترجم اردو ج ۱ ،ص ۶ ، ناشر مصباح القرآن ٹرسٹ ۔


 


اور اس تفسیر کا اردو میں ترجمہ علامہ سید صفدر حسین نجفی نے کیا ہے۔

ا۔ حجة الاسلام والمسلمین آقائے محمد رضا آشتیانی 
۲۔ حجة الاسلام والمسلمین آقائے محمد جعفر امامی
۳- حجة الاسلام والمسلمین آقائے داؤد الہامی
 ۴۔ حجة الاسلام والمسلمین آقائے اسد اللہ ایمانی
۵۔ حجة الاسلام والمسلمین آقائے عبد الرسول حسنی
۶-حجة الاسلام والمسلمین آقائے سید حسن شجاعی
۷۔ حجة الاسلام والمسلمین آقائے نوراللہ طباطبائی
 8- حجة الاسلام والمسلمین آقائے محمود عبدالہی
9۔ حجة الاسلام والمسلمین آقائے محسن قرائتی
 ١٠۔ حجة الاسلام والمسلمین آقائے محمد محمدی

نوٹ! شیعہ مذہب کے ان دس علماء و مجتہدین اور آقاؤں کی بھی یہی تحقیق ہے کہ حضرت علی المرتضی کی خلافت کا اعلان بعثت کے تیسرے سال دعوت ذوالعشیرہ پر کیا گیا تھا اور اس پر لوگوں نے ابو طالب کو طعنہ دیتے ہوۓ کہا کہ اب تم اپنے بیٹے کی اطاعت کرو۔

[۲] تفسیر التبیان: 

یہ تفسیر شیعہ مذہب کے بڑے محقق شیخ الطائفۃ کی لکھی ہوئی ہے۔ جس کا تعارف تفسیر التبیان کی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر ۶ پر یوں کرایا گیا ہے۔

شیخنا وشیخ الکل فی الکل العلامة الآفاق شیخ وطائفة ...... هوالشیخ ابو جعفر محمد بن الحسن بن علی بن الحسن طوسی المتوفی ۴۲۰ ھجری۔

اس شیخ الکل و شیخ الطائفۃ نے بھی دعوت ذوالعشیرہ کا یہی قصہ نقل کر کے آگے لکھا ہے۔“والقصة بذالك مشهورۃ‘‘ یعنی دعوت ذوالعشیرہ اور علی کے وصی اور خلیفہ ہونے کے اعلان کا قصہ مشہور ہو گیا۔

(تفسير التبیان، ج۸ ص ۶۱ ۔)


[۷] البرهان في تفسير القرآن : 

مصنف علامة، الثقہ، الثبت، المحدث الخبير والناقد البصیر، السید ہاشم بن السید سلیمان بن السید اسماعیل بن السید عبد الجواد الحسینی البحرانی المتوفی ۱۱۰۷ھ۔

شیعہ مذہب کے اس محدث الخبیر نے بھی یہی قصہ نقل کیا ہے اور لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"يا بني عبد المطلب اني انا نذیر الیکم من اللہ عزوجل و البشیر فاسلموا و اطیعون تهتد و اثم قال من یواخینی ویواز رنى على هذا الامر يكون ولی و وصی بعدی و خلیفتی فی اهلی و یقضی دینی“۔

صفحہ 1 از 3