اربعینِ حسینی کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اربعینِ حسینی کی حقیقت

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 2

♦️ مجمع فساق وفجار کا جمع ہونا،جس میں وہ فحش واقعات ہوتے ہیں کہ ناگفتہ بہ ہیں۔
♦️ نوحہ کرنا جس کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لعنت فرمائی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والے اور اس کی طرف کان لگانے والے کو۔روایت کیا اس کو ابو داود نے۔
♦️ مرثیہ پڑھنا،جس کی نسبت حدیث میں صاف ممانعت آئی ہے۔ابن ماجہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرثیوں سے منع فرمایا
♦️ کسی خاص لباس یا کسی خاص رنگ میں اظہار غم کرنا۔ابن ماجہ میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے ایک قصے میں منقول ہے کہ ایک جنازہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دیکھا کہ غم میں چادر اتار کر صرف کرتہ پہنے ہیں،یہ وہاں غم کی اصطلاح تھی۔آپ نہایت نا خوش ہوئے اور فرمایا کہ کیا جاہلیت کے کام کرتے ہو یا جاہلیت کی رسم کی مشابہت کرتے ہو،میرا تو یہ ارادہ ہوگیا تھا کہ تم پر ایسی بد دعا کروں کہ تمہاری صورتیں مسخ ہوجائیں(٭)۔پس فوراً ان لوگوں نے اپنی چادریں اوڑھ لیں اور پھر کبھی ایسا نہیں کیا۔اس سے ثابت ہوا کہ کوئی خاص وضع وہیئت اظہار غم کے لئے بنانا بھی حرام ہے۔
♦️  بعض لوگ اپنے بچوں کو امام حسین رضی اللہ عنہ کا فقیر بناتے ہیں اور ان سے بعضے بھیک بھی منگواتے ہیں۔اس میں اعتقادی فساد تو یہ ہے کہ اس عمل کو اس کی طول حیات میں مؤثر جانتے ہیں۔یہ صریح شرک ہے اور بھیک مانگنا بلااضطرارحرام ہے۔
♦️ حضرات اہل بیت کی اہانت بر سر بازار کرتے ہیں۔اگر ایام غدر کے واقعات جس میں کسی خاندان کی عورتوں کا ہتک ہوا ہو،اس طرح علی الا علان گائے جائیں تو اس خاندان کے مردوں کو غیظ و غضب آئے گا۔پھر سخت افسوس ہے کہ حضرات اہل بیت کے حالات اعلان کرنے میں غیرت بھی نہ آئے اور اس طرح کے بہت سے امور قبیحہ ہیں جو ان جلوسوں میں کئے جاتے ہیں،ان کا اختیار کرنا اور ایسے مجمع میں جانا سب حرام ہے۔اور یہی تمام تر فضیحتیں ایام محرم کے بعد چہلم کو دہرائی جاتی ہیں۔

نوٹ: 
بعض امور فی نفسہ مباح ہیں مگر بوجہ فساد عقیدہ یاعمل کے وہ بھی محرم اور اربعین کی وجہ سے ممنوع ہیں:
♦️ کھیرنی اور کچھ کھانا پکانا اوراحباب یا مساکین کو دینا اوراس کا ثواب حضرات امام حسین رضی اللہ عنہ کو بخش دینا اس کی اصل وہی حدیث ہے کہ جو شخص اس دن میں اپنے اہل و عیال پر وسعت دے اللہ تعالیٰ سال بھر تک اس پر وسعت فرماتے ہیں۔وسعت کی یہ بھی ایک صورت ہوسکتی ہے کہ بہت سے کھانے پکائے جائیں خواہ جدا جدا یا ملا کر۔
چنانچہ در مختار میں ہے ولا باس بالمعتاد خلطا بوجہ جب اہل و عیال کو دیا،کچھ غریب غرباء کو بھی دے دیا۔حضرت امامین رضی اللہ عنہما کو بھی ثواب بخش دیا۔مگر چونکہ لوگوں نے اس میں طرح طرح کی رسوم کی پابندی کرلی ہے گویا خود اس چہلم کو ایک تہوار قرار دے دیا ہے اس لئے رسم کے طور پر کرنے سے ممانعت کی جائے گی۔بلا پابندی اگر اس روز کچھ فراخی خرچ میں کھانے پینے میں کردے تو مضائقہ نہیں۔
♦️  شربت پلانا یہ بھی اپنی ذات میں مباح ہے، کیونکہ جب پانی پلانے میں ثواب ہے تو شربت پلانے کیا حرج ہے، مگر وہی ایام محرم اور اربعین حسینی کی رسم کی پابندی اس میں ہے،اور اس کے علاوہ اس میں اہل رفض کے ساتھ تشبیہ بھی ہے اس لئے یہ بھی قابل ترک ہے۔ تیسرے اس میں ایک مضمر خرابی یہ ہے کہ شربت اس مناسبت سے تجویز کیا گیا ہے کہ حضرات شہداء کربلا پیاسے شہید ہوئے تھے، اور شربت مسکّن عطش ہے اس لئے اس کو تجویز کیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے عقیدہ میں شربت پہنچتا ہے جس کا باطل اور خلاف قرآن مجید ہونا ثابت ہے،اور اگر پلانے کا ثواب پہنچتا تو ثواب سب یکساں ہے نہ کہ صرف شربت میں کہ تسکین عطش کا خاصہ ہے۔پھر یہ بھی اس سے لازم آتا ہے کہ ان کے زعم میں اب تک شہدائے کربلا نعوذ باللہ پیاسے ہیں، یہ کس قدر بے ادبی ہے، ان مفاسد کی وجہ سے اس سے بھی احتیاط لازم ہے۔


صفحہ 2 از 2