حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن و سنت کی نظر میں -…

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن و سنت کی نظر میں

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3

قارئین گرامی قدر! قرآن و سنت سے ثابت ان تمام فضائل ومناقب اور خصوصیات کے باوجود دشمنانِ خدا اسلام اور مسلمانوں سے حسد رکھنے والے بالخصوص یہود و نصاریٰ کو جب اسلام کی ہمہ جہت ترقی اور اہلِ اسلام کا عروج ہضم نہ ہوسکا اور ان شیطان کے چیلوں، خدائی دشمنوں کو سو فیصد یقین تھا کہ اسلام کی صداقت و حقانیت، عالم گیر حیثیت اور غلبہ کے سامنے باطل کے لیے ٹھہرنا ممکن نہیں ہے لہٰذا مذہبِ اسلام اور مسلمانوں میں کم زوری اور ضعف پیدا کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے ان میں افتراق و تشتت پیدا کرنا ان میں غلط فہمیاں پیدا کر کے خلفشار و انتشار پیدا کرنا لہٰذا یہودی شاطروں نے مسلمانوں میں تفرقہ اندازی کرکے اپنے شیطانی مشن میں کامیابی حاصل کی اور اپنی مسلسل ناکامیوں اور شکستوں کا بدلہ بھی لے لیا کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ اور اہلِ بیتِ نبیﷺ کی حق تلفیوں، مظلومیت اور محرومیوں کی جھوٹی سچی داستانیں سنا سنا کر مسلمانوں کے دلوں میں شکوک وشبہات پیدا کیے، مزید کام منافقین نے جھوٹے پروپیگنڈے کا وہ چکر چلایا کہ سادہ دل مسلمان بھی ان کے جال میں پھنس گئے یہیں سے افتراق و انتشار کے دہانے کھل گئے۔

چنانچہ مسلمانوں میں فرقے بننے لگے کوئی فرقہ محبتِ آلِ بیتؓ میں غلو کا مرتکب ہے تو کوئی حضراتِ صحابہ پر زبانِ لعن و طعن دراز کرتا نظر آتا ہے، کوئی حضراتِ شیخینؓ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کو غاصب خلافت اور سیدنا علیؓ کو خلیفہ بلا فصل گردانتا ہے کوئی دوسرا سیدنا علیؓ کو خارج از اسلام قرار دیتا ہے اسی طرح ان کے باہمی مشاجرات اور اختلافات کے حوالے سے بھی بہت سے حضرات افراط و تفریط کا شکار ہو جاتے ہیں کوئی سیدنا علیؓ کی حقانیت کو بیان کرتے کرتے سیدنا امیرِ معاویہؓ رضی اللہ عنہ کی تنقیص وتوہین پر اتر آتا ہے العیاذ باللہ، تو مدمقابل سیدنا امیرِ معاویہؓ کی براءت کرتے کرتے یزید بن معاویہ کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر فضیلت دیتا نظر آتا ہے۔ العیاذ باللہ۔ وغیرہ وغیرہ جب کہ خود حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تمام کے تمام حسنِ سلوک، باہمی تعاون، خانگی مراسم، نسبی تعلقات اور امور خلافت میں بھرپور ایک دوسرے کے معاون ومددگار تھے۔

لہٰذا مذہبِ اسلام اور قرآن و سنت کے ماننے والوں کو اس حوالے سے قرآن و سنت ہی کو بڑی مضبوطی سے تھامنے کی ضرورت ہے کہ جو داستانیں اور موضوع روایات قرآن و سنت کے خلاف یا معارض سامنے آئیں ان کو رد کرنا چاہیئے اور جو روایات اور واقعات قرآن وسنت کے موافق ہوں ان کو لینا چاہیئے، قرآن و سنت سے حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے جو اوصاف ثابت ہوتے ہیں وہ درج ذیل ہیں: 

  1. حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معصوم تو نہیں ہیں لیکن محفوظ ضرور ہیں۔
  2. حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خوفِ خدا اور تقویٰ والے تھے۔
  3. حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامنے والے تھے۔
  4. حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دینی و دنیاوی امور میں امانت دار تھے، خیانت کا تصور بھی گناہ سمجھتے تھے۔ 
  5. حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین باہم شیر و شکر رحماءُ بینہم کی واضح تصویر تھے۔
  6. دنیاوی نفع و نقصان سے قطعِ نظر عدل و انصاف کے خوگر تھے۔ 
  7. حضرت نبی پاک ﷺ اور آپﷺ کی آل و اولاد سے حد درجہ محبت والفت کو فلاحِ دارین تصور کرتے تھے جان ومال کی پرواہ کیے بغیر احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کو اپنا فرضِ منصبی اورنصب العین سمجھتے تھے۔
  8. حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان آراء کا اختلاف اجتہادی شان و حیثیت کا تھا مخالفت و عداوت کی رسائی ان کے قلوب تک نہ تھی، 9: حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بالاتفاق خلافت کی تقسیم من جانب اللہ تسلیم کرتے تھے اس میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہ تھا۔
  9.  حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معیاغر حق تھے۔

محترم قارئین! حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مذکور بالا اوصاف قرآن و سنت سے ثابت ہیں، صراحتاً یا دلالۃً قرآن و سنت کا علم رکھنے والا کوئی شخص ان کا انکار نہیں کرسکتا لہٰذا جب بھی جو روایات یا واقعات ان ارواحِ مقدسہ کے حوالے سے سامنے آئیں اگر وہ درج بالا اوصاف سے ہم آہنگ ہوں گی تو تسلیم کی جائیں گی اوراگر ان اوصاف سے متصادم اورمخالف ہوں گی تو وہ دشمنوں کی شاطرانہ چال اور دجل و فریب کا شاخسانہ ہوں گی، پس ان سے متاثر ہونے کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے جو شہادتیں ان برگزیدہ شخصیات کے لیے دی ہیں وہ کسی صورت بھی جھوٹی نہیں ہوسکتیں بلکہ یقیناً ان مقابل آنے والے واقعات اور روایات ہی من گھڑت اور جھوٹی ہوں گی خود محبوب کبریا حضرت نبی دوجہاںﷺ نے اسی کا احساس کرتے ہوئے فرمایا تھا:

13: عن أبی ہریرۃؓ عن النَّبِیﷺ انہ قال: سَیَاتَیْکُمْ عَنِّی أحَادِیْثُ مُخْتَلِفَۃٌ فَمَا جَائَکُمْ مُوَافِقًا لِکِتَابِ اللّٰہِ وَسُنَّتِی فَہُوَ مِنِّی وَمَا جَائَکُمْ مُخَالِفًا لِکِتَابِ اللّٰہِ وَسُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّی۔

ترجمہ: عنقریب تمہارے پاس میری جانب منسوب شدہ مختلف روایات پہنچیں گی جو کتاب اللہ اور میری سنت مشہورہ کے موافق اور مطابق ہوں تو وہ درست ہوں گی اور جو کتاب اللہ اور میری سنت کے معارض ہوں گی تو وہ صحیح نہیں ہوں گی۔

اسی اصل کو خلیفہ رابع حضرت شیرِ خدا علی المرتضیٰؓ نے بھی بیان فرمایا ہے۔

14: عَن أبی الطُّفَیْلِؓ عَنْ علیؓ قَالَ: حَدِّثُوْا النَّاسَ بِمَا یَعْرِفُوْنَ وَدَعَوْا مَا یُنْکِرُونَ اَتُحِبُّوْنَ أنْ یُّکَذَّبَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ۔

ترجمہ: معروف مشہور چیزیں بیان کرو اور منکر یعنی مشہور ومعروف کے خلاف عوام میں ذکر نہ کرو! کیا تمہیں پسند ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کی جائے۔

امام ذہبیؒ مذکورہ اصول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

صفحہ 2 از 3