ابتلاء اور حبشہ کی طرف ہجرت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ابتلاء اور حبشہ کی طرف ہجرت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

2: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے نبی کریمﷺ کی سیرتِ طیبہ سے امت پر شفقت کا درس سیکھا تھا اور یہ شفقت ایامِ خلافت، عہدِ نبوی، اور سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے عہد میں نمایاں ہوئی۔ آپؓ نے اپنی بصارت و بصیرت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر نبی کریمﷺ کی شفقت و رحمت اور ان کے امن و راحت پر حرص شدید کا مشاہدہ کیا تھا، یہ آپؓ کی شفقت ہی تھی کہ آپﷺ نے عادل بادشاہ کے پاس انہیں چلے جانے کا اشارہ کیا جس کے یہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا۔ معاملہ ویسا ہی تھا جیسا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو امن و امان کے ساتھ دین پر عمل پیرا ہونے کی آزادی ملی اور بہترین جائے اقامت ملی۔

(الہجرۃ فی القرآن الکریم: صفحہ، 312)

رسول اللہﷺ ہی نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توجہ حبشہ کی طرف مبذول کرائی تھی اور آپﷺ ہی نے اپنی جماعت اور دعوت کے لیے پر امن جگہ کا انتخاب فرمایا تھا تاکہ اس کو تباہی و بربادی سے محفوظ رکھ سکیں۔ ہر دور میں مسلم قائدین کے لیے یہ نبوی تربیت ہے کہ وہ دعوت و داعیان حق کی حمایت کے لیے بڑی حکمت اور دور اندیشی سے منصوبہ بندی کریں اور پر امن سر زمین کا انتخاب کریں جو ایسے وقت میں دعوت اسلامی کا احتیاطی صدر مقام اور مرکز تحریک ثابت ہو جب کہ مرکز کو خطرہ لا حق ہو، داعیان حق ہی اصل ثروت ہیں، ان کی حفاظت و حمایت کے لیے تمام کوششیں صرف ہونی چاہییں، ان کے امن و راحت میں کوئی تفریط واقع نہیں ہونی چاہیے۔ ایک مسلمان پوری روئے زمین کے کفار و مشرکین کے برابر نہیں ہے۔

(التربیۃ القیادیۃ، منیر الغضبان: جلد، 1 صفحہ، 333)

3: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ہجرتِ حبشہ میں نبی کریمﷺ کے طرزِ عمل سے یہ سیکھا تھا کہ خطرات کے مواقع پر قائد کے مقربین، اس کے اہلِ و عیال اور خاندان پیش پیش ہوں۔ اگر اس کے برعکس قائد کے مقربین اور خواص خطرات کے موقع سے دور رکھے جائیں اور دوسرے لوگوں کو پیش پیش رکھا جائے تو یہ چیز نبوی منہج کے بالکل بر خلاف ہے۔

(التربیۃ القیادیۃ: جلد، 1 صفحہ، 333 السیرۃ النبویۃ للصلابی: جلد، 1 صفحہ، 348)

اسی لیے جب سیدنا ذوالنورین رضی اللہ عنہ نے خلافت کی باگ ڈور سنبھالی تو اپنے اقرباء کو اسلامی فوج میں پیش پیش رکھا۔ سیدنا عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کو افریقہ کو فتح کرنے کے لیے آگے بڑھایا، سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو مشرق کی فتوحات میں پیش پیش رکھا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو سمندری فتوحات پر روانہ کیا، ان کے ساتھ ان کی بیوی بھی تھیں، ان کی تفصیلات فتوحات کے بیان میں آئیں گی۔ 

4: اس امت میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی۔

(الصواعق المرسلۃ: جلد، 1 صفحہ، 314)

رسول اللہﷺ نے فرمایا: 

صحبھما اللہ، إن عثمان لأول من ھاجر إلی اللہ بأھلہ بعد لوط۔

(المعرفۃ والتاریخ: جلد، 3 صفحہ، 268 ضعیف الإسناد)

ترجمہ: ’’ان دونوں کے ساتھ اللہ ہو، یقیناً سیدنا عثمانؓ، حضرت لوط علیہ السلام کے بعد پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ ہجرت کی ہے۔‘‘

جب یہ افواہ پھیل گئی کہ مکہ والے اسلام لے آئے ہیں اور یہ بات مہاجرین حبشہ کو پہنچی تو وہ لوگ مکہ کے لیے روانہ ہو گئے اور جب مکہ سے قریب پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ خبر جھوٹی تھی چنانچہ بعض اہلِ مکہ کی ضمانت میں مکہ میں داخل ہوئے، ان واپس آنے والوں میں سیدنا عثمان اور سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہما بھی تھے۔

(السیرۃ النبویۃ، ابنِ ہشام: جلد، 1 صفحہ، 402)

اس کے بعد آپؓ نے مکہ میں اقامت اختیار کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم فرمایا۔ آپؓ نے جب سے اسلام قبول فرمایا نبی کریمﷺ کی صحبت کو لازم پکڑا صرف ہجرت کے وقت جدائی اختیار کی، اور وہ بھی نبی کریمﷺ کی اجازت سے یا پھر ایسی مہم کے موقع پر جہاں آپؓ ہی موزوں تھے آپؓ کا بدل کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ دیگر خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی طرح اس سلسلہ میں آپ کی بھی حالت رہی، گویا کہ یہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی ان بنیادی خصوصیات میں ہے جس کی بنیاد پر یکے بعد دیگرے خلافت کے مستحق بنے۔ (عثمان بن عفان، العقاد: صفحہ، 80)

سیدنا ذوالنورین رضی اللہ عنہ کا تعلق دعوت سے پہلے ہی سال سے مضبوط رہا۔ نبی کریمﷺ کی زندگی کے خاص و عام امور آپؓ سے فوت نہ ہوئے یا آج کی اصطلاح میں یوں کہہ لیجیے کہ اسلامی سلطنت کی تاسیس کے اعمال میں سے کسی عمل سے آپؓ پیچھے نہ رہے۔ (عثمان بن عفان، العقاد: صفحہ، 78)


صفحہ 2 از 2