اہل تشیع کا علم الدرایہ اور اہلسنت کا فن مصطلح الحدیث (قسط…

اہل تشیع کا علم الدرایہ اور اہلسنت کا فن مصطلح الحدیث (قسط 11)

  مولانا سمیع اللہ سعدی

صفحہ 3 از 3

شیخ حیدر حب اللہ نے اس سوال کے جواب پر  لمبی بحث کی ہے ،نکات کی  شکل میں  موصوف کی توجیہات  کاخلاصہ پیش  کیا جاتا ہے:

1۔پہلی توجیہ موصوف نے یہ  کی ہے کہ دور اموی میں خلافت پر قبضہ جمانے کے لئے سنی  تراث میں   وضع ِحدیث کی وبا چل پڑی ، جبکہ شیعی تراث کو اس قسم کی صورتحال سے واسطہ نہیں پڑا ،اس لئے شیعہ محدثین کو موضوعات الگ کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی ۔ اس توجیہ پر خود موصوف نے رد کیا ہے کہ کسی ایک کا سبب کا نہ ہونا دلیل نہیں ہے کہ وضع ِحدیث کے دیگر اسباب بھی منتفی ہوئے۔

2۔دوسری توجیہ موصوف نے شیعہ معاصر شیخ رضا سے نقل کی ہے کہ شیعہ تراث چونکہ چھانٹی کے دو مراحل سے گزرا ،پہلا مرحلہ  کتبِ اربعہ سے پہلے اصول اربعمائہ کی صورت میں ،دوسرا مرحلہ کتب اربعہ کی صورت میں ،اس لئے شیعہ محدثین کو   موضوع روایات الگ کرنے ضرورت پیش نہ آئی ( اصول اربعمائہ پر ہم اس سلسلے میں مفصلا بحث کر چکے ہیں کہ کیسے دو تہائی اصول محض فرضی ہیں ،نیز کتب اربعہ نے صحت حدیث کا جو معیار مقرر کیا تھا ،اس پر بھی ہم اس سلسلے میں نقدِ حدیث کے اصولی معیار کے تحت مفصلا بحث کر چکے ہیں ،اس لئے ہر دو مراحل  ہی  تراث ِ  حدیث میں موضوع روایات  کا سبب بنی ہیں ،کما مر)

3۔ تیسری توجیہ موصوف نے   یہ پیش کی ہے کہ  پانچویں صدی میں بعض شیعہ محدثین  وضع حدیث کو روکنے کی اہم ترین کوششیں کیں ،جیسے  قم کے  ایک محدث احمد بن محمد اشعری نے بعض کبار رواۃِ حدیث کو قم سے اس لئے نکالا کہ وہ وضاعین سے روایت کرتے تھے ،اس لئے بھی شیعہ محدثین  کو الگ سے موضوع روایات  مرتب کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی ۔(یہ توجیہ علمی  اعتبار سے لطیفہ ہی کہلائی جاسکتی ہے ،اس لئے کہ کسی  ایک یا زیادہ محدثین کا وضاعین و ضعاف رواۃ سے روایت نہ لینا  یا اس بارے میں تشدد سے کام لینا اس بات کی دلیل کیسے بن سکتی ہے کہ اب ان وضاعین  یا دوسرے  وضاعین کی موضوع روایات کو الگ سے مرتب کرنے کی ضرورت نہیں ہے  فافہم)

 4۔ ایک توجیہ موصوف نے یہ بھی پیش کی کہ چونکہ شیعہ حلقوں میں روایت من باب التقیہ بھی ایک جہت ہے ،اس لئے  بہت  سی روایات  کو  موضوع سمجھنے کی بجائے اسے تقیہ پر مبنی روایات  کہا جاسکتا ہے ۔(یہ توجیہ بھی موضوعات کے باب میں غیر متعلق ہے ،اس  لئے کہ  تقیہ کا تعلق روایت کے معنی و مفہوم  اور مدلول سے ہے ،جبکہ وضع ِروایت کا تعلق روایت کے سندی و رجالی اعتبار سے ثبوت و تیقن  سے ہے ، مدلولی اعتبار سے روایت کا تقیہ پر مبنی ہونا  اس کے سندی اعتبار سے ثبوت یا عدم ِ ثبوت میں کیونکر موثر ہوگا؟یا للعجب)9

ان توجیہات کی    کمزوری بلکہ غیر متعلق ہونا چونکہ کافی واضح ہے ،اس لئے شیخ حیدر موصوف بھی بحث کے آخر میں یہ لکھنے پر مجبور ہوئے:

المھم أننا نميل إلی رأي السيد ھاشم معروف الحسني، ونری أنّہ آن الأوان لعلماء الحديث الشيعۃ أن يفتحوا ھذا البحث، ويضبطوا قواعدہ. ولا يكتفوا بجھود السلف، مھما كانت الموضوعات قليلۃ، شرط أن لا يفرطوا في ذلك خارج إطار الدليل والحجّۃ10

ترجمہ: ہم اس بارے میں ہاشم معروف بحرانی کی رائے کی طرف میلان رکھتے ہیں  اور ہماری رائے  یہ ہے کہ  اب وہ وقت  آگیا کہ شیعہ محدثین  موضوع مرویات کی چھانٹی کا بند دروازہ کھولیں ،اس کے قواعد منضبط کریں ،اور اس سلسلے میں سلف کی کوششوں پر اکتفاء نہ کریں (سلف کی کونسی کوششیں اس با ب میں ہوئی ہیں ،جن کی طرف موصوف اشار ہ کر رہے ہیں ،ایک طرف خود شیعہ حلقوں میں اس دروازے کے بند ہونے  کی بات کر رہے ہیں ،دوسری طرف سلف کی  کوششیں بھی مان رہے ہیں ،یا للعجب)خواہ موضوع مرویات کتنی بھی قلیل ہوں ،بشرطیکہ اس باب میں دلیل و حجت  کے دائرے سے خارج  کوئی کام نہ کیا جائے ۔

ان موضوع روایات کی چھانٹی نہ ہونے کی وجہ سے  شیعی حلقے   اپنے عقائد و مذہب کے بارے میں مختلف مشاکل کا شکار رہے ہیں،اہل تشیع اہل علم کو بھی اس کا ادراک ہے ،چنانچہ شیخ ہاشم بحرانی لکھتے ہیں:

"انھم  لا یزالون یعانون مما ترکتہ  تلک الموضوعات من اثار سیئۃ علی المذہب الشیعی"11

اہل تشیع مسلسل ان   برے نتائج و آثار  کو جھیل رہے ہیں ،جو ان موضوع روایات کی وجہ سے مذہب شیعہ  پر پڑ رہے ہیں ۔

حواشی

    1.  نزھۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر ، حافظ ابن حجر ،ص 67

    2.  البدایہ فی  علم الدرایہ ،شہید ثانی ،انتشارات ِمحلاتی ،قم ،ص23

    3.  شرح البدایہ فی علم الدرایہ ،منشورات ضیاء الفیروز آبادی ،قم ،ص22

    4.  مقباس الھدایہ ،عبد اللہ مامقانی ،منشورات دلیل ما ،قم،ص124

    5.  اصول الحدیث و احکامہ  فی  علم الدرایہ ،جعفر سبحانی ،ص51

    6.  الموضوعات فی الاثار و الاخبار ،ہاشم بحرانی ، دار التعارف للمطبوعات ،بیروت ،ص88

    7.  ایضا:ص89

    8.  ظاہرۃ الوضع فی الحدیث الشریف ،حیدر حب اللہ ،ص62

    9.  ایضا:ص63 تا 69 

    10.  ایضا:ص 68

    11.  الموضوعات فی الاثار و الاخبار ،ہاشم بحرانی ،ص89

(جاری)


صفحہ 3 از 3