اہل تشیع کا علم الدرایہ اور اہلسنت کا فن مصطلح الحدیث (قسط…

اہل تشیع کا علم الدرایہ اور اہلسنت کا فن مصطلح الحدیث (قسط 11)

  مولانا سمیع اللہ سعدی

صفحہ 2 از 3

2۔وضع ِحدیث پر علمی کام کے ساتھ  عملی طور پر موضوع احادیث کو حدیثی ذخیرے سے الگ کرنے کاکام بھی کیا اور الموضوعات کے نام سے بکثرت کتب لکھی گئیں ،جن میں حدیثی تراث میں موجود موضوع اور جھوٹی روایات کو الگ جمع کیا گیا ہے ، تاکہ ان کی طرف مراجعت کر کے  موضوع حدیث کی پہچان  ہوسکے ۔چنانچہ اس سلسلے کی اہم کتب یہ ہیں:

1۔کتاب الموضوعات محمد بن عمرو العقلی ، م ۳۲۲ھ

2۔تذکرۃ الموضوعات محمد بن طاہر مقدسی م ۵۰۷ھ

3۔ الاباطیل والمناکیر حسین بن ابرہیم الجوزقانی ، م ۵۴۳ھ

4۔ کتاب الموضوعات عبدالرحمن بن الجوزی ، م ۵۹۷ھ

5۔ المغنی عن الحفظ والکتاب عمر بن بد موصلی ، م ۶۲۳ھ

6۔الدر الملتقط فی تبیین الغلط حسن بن محمد صاعانی ، م ۶۵۰ھ

7۔اللألی المنشورۃ فی الاحادیث المشہورۃ حافظ ابن حجر عسقلانی ، م ۸۵۲ھ

8۔الکشف الخبیث عمن رمی بوضع الحدیث حافظ ابراہیم الحلبی ، م ۸۴۱ھ

9۔المقاصد الحسنۃ عبدالرحمن سخاوی ، م ۹۰۲ھ

10۔اللألی المضوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ جلال الدین السیوطی ، م ۹۱۱ھ

11۔الذیل علی الموضوعات جلال الدین السیوطی 

12۔ تحذیر الخواص من اکاذیب القصاص جلال الدین السیوطی

13۔الغماز علی اللماز نور الدین ابو الحسن سمہودی ، م ۹۱۱ھ 

14۔الدرۃ اللامعۃ فی بیان کثیر من الاحادیث الشائۃ  شہاب الدین احمد، م ۹۳۱ھ

15۔تنزیہ الشریعۃ عن الاحادیث الموضوعۃ ابوا لحسن علی بن محمد عراق ، م ۹۶۳ھ

16۔تذکرۃ الموضوعات محمد طاہر بن علی پٹنی ، م ۹۸۶ھ

17۔قانون الموضوعات محد طاہر بن علی پٹنی 

18۔موضوعات کبیر علی بن سلطان القاری ، م ۱۰۱۴ھ

19۔ المصنوع فی احادیث الموضوع علی بن سلطان ……………

20۔الفوائد الموضوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ مرعی بن یوسف الکرمی ، م ۱۰۳۳ھ

21۔کشف الالتباس فیما خفی علی کثیر من الناس غرس الدین خلیلی ، م ۱۰۵۷ھ

22۔ الاتقان ما یحسن من الاحادیث الدائۃ علی اللسن نجم الدین محمد بن الغزی ، م ۱۰۶۱ھ

23۔ کشف الخفا و مزیل الالباس اسماعیل بن محمد عجلونی ، م ۱۱۶۲ھ

24۔کشف الالہی عن شدید الضعف والموضوع الواہی محمد حسینی سندروسی ، م ۱۱۷۷ھ

25۔ الفوائد المجموعۃ فی ا لاحادیث الموضوعۃ محمد بن علی شوکانی ، م ۱۲۵۰ھ

26۔ الاثار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ عبدالحئ لکھنوی ، م ۱۳۰۴ھ

اس فہرست سے اندازہ ہوتا ہے کہ چوتھی صدی سے لیکر عصر حاضر تک بلا تعطل اہل سنت میں موضوع احادیث و روایات کی تنقیح کا کام جاری رہا  ،ان  کتب کی بدولت اہل سنت کا حدیثی تراث موضوع احادیث سے بلا شبہ  کافی حد تک پاک ہے ،نیز عہد بہ عہد گھڑی جانے والی روایات اور ان کے رواۃ کا بھی ایک واضح تعارف ان کتب سے ملتا ہے ،یوں اہل سنت کے حدیثی تراث میں موضوع روایت کا تعین  با آسانی ہوسکتا ہے ۔

اس کے برخلاف جب شیعی تراث ِحدیث کو دیکھا جاتا ہے تو وہاں اس قسم کی کوئی سر گرمی نظر نہیں آتی ، اس کا اقرار اہل تشیع محققین نے بھی کیا ہے ،چنانچہ معروف شیعہ محقق ہاشم  معروف بحرانی  اپنی کتاب

"الموضوعات  فی الاثار و الاخبار"

میں لکھتے ہیں:

"والذی لا یجوز لہ التنکیر لہ ان محدثی السنۃ من اوساط القرن الخامس کانو اکثر وعیا و ادراکا للاخطار التی احاطت بالحدیث الشریف من محدثی الشیعۃ فالفوا با لاضافۃ لی کتب الروایہ و احوال الرجال عشرات الکتب خلال القرنین  من الزمن حول الموضوعات و بعضہا یجعل ھذا الاسم بالذات"6

ترجمہ:اس بات کا انکار ممکن نہیں کہ پانچویں صدی ہجری  کے وسط سے ہی  محدثین اہل سنت بنسبت اہل تشیع محدثین کے ،حدیث شریف کو لاحق خطرات سے زیادہ آگاہ  اور باخبر تھے ،چنانچہ اہل سنت محدثین نے رجال و حدیث کی کتب کے ساتھ ساتھ دو صدیوں تک  بیسیوں کتب موضوعات سے متعلق لکھیں،اور بعض کتب موضوعات ہی  کے  نام سے  موسوم کر دی گئیں ۔

  آگے شیخ ہاشم بحرانی موضوعات سے متعلق اہل تشیع  محدثین  پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"اما الشیعہ فقد تجاہلوا ھذا الموضوع و کانہ لا یعنیہم من امرہ شیئ فی حین ان الموضوعات بین مرویاتہم لا تقل عددھا و اخطارھا عن الموضوعات السنیہ۔۔۔۔لکنھم  لم یحاولوا  خلال ھذا لقرون الطوال  ان یضعوا ولو کتابا واحدا یشتمل ولو علی نماذج من الموضوعات فی مختلف المواضیع"7

ترجمہ:بہرحال شیعہ اس موضوع سے بے خبر رہے ،ایسا لگتا ہے کہ ان کے نزدیک اس موضوع کی کوئی اہمیت نہیں تھی ،حالانکہ شیعہ مرویات میں موضوع احادیث اور ان مرویات  کے متنوع نقصانات سنی موضوع روایات سے ہر گز کم درجہ کی نہیں ہیں ۔۔۔لیکن شیعہ محدثین نے ان  صدیوں میں  بطورِ نمونہ بھی ایک ایسی کتاب نہیں لکھی ،جو مختلف موضوعات سے متعلق موضوع روایات پر مشتمل ہو ۔

چونکہ موضوع روایات کی تنقیح اور ذخیرہ حدیث سے اس کی علیحدگی تراث ِحدیث کو تشکیک و وضع سے بچانے کے لئے اہم ترین عامل ہے ،اس لئے   بعض معاصر شیعہ محققین   نے  شیعی تراث میں موضوعات سے متعلق کتب نہ ہونے کی کچھ توجیہات کی ہیں ،ہم بغرض افادہ ان توجیہات پر بھی ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں ۔

معاصر شیعہ محقق شیخ حیدر حب اللہ  نے شیعی تراث کی اس خامی پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے:

لكن الملاحظ ھنا أنّ الإماميۃ لم يتركوا كتاباً في الأحاديث الموضوعۃ، ولعلّ أول كتاب ـ كما يری بعض الباحثين المعاصرينـ ھو كتاب الأخبار الدخيلۃ الذي أنھی مؤلّفہ الشيخ محمد تقي التستري المجلّد الأول منہ عام 1369ھ، فيما أنھی المجلّد الرابع والأخير منہ عام 1401ھ ،يطرح ھذا الأمر تساؤلاً: لماذا لم تشتغل الإماميۃ علی التصنيف في الموضوعات كما اشتغل سائر المسلمين؟8

ترجمہ: ملاحظہ کرنے کی بات یہ ہے کہ امامیہ نے احادیث موضوعہ پر کوئی کتاب نہیں لکھی ،شاید اولین کتاب بعض محققین کے بقول محمد تقی تستری کی الاخبار الدخیلہ (یاد رہے یہ کتاب اصلا موضوعات پر نہیں لکھی گئی ،بلکہ یہ کتاب  شیعی  تراثِ حدیث میں  موجود اغلاط و اخطاء  کے تعین پر مشتمل ہے ، کتاب کی چار جلدوں میں موضوع روایات پر صرف ایک باب باندھا  گیا ہے )ہے،جس کی پہلی جلد 1369ھ اور آخری چوتھی جلد 1401ھ میں لکھی گئی ،یہاں ایک سوال  اٹھتا ہے کہ  امامیہ نے  دیگر مسلمانوں  طرح موضوع روایات  پر مستقل کتب کیوں نہیں لکھیں؟  

صفحہ 2 از 3