اجماع امت اور عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم - دفاعِ اہلِ سنت |…

اجماع امت اور عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم

  جعفر صادق

صفحہ 6 از 6
پھر سیدنا ولید بن عقبہؓ اور سیدنا یسر بن ابی ارطاۃؓ کا ذکر کیا ہے اورامیر یمانی روض الباسم فی الذب عن سنتہ ابی القاسم: صفحہ، 120 پر بھی عدالتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: محدثین نے جو یہ کہا ہے کہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں تو ظاہری سیرت کے اعتبار سے ہے جیسے ہم بیان کر چکے ہیں اور یہ ظاہر کی قید اس لیے ہے تاکہ جس نے بغیر تاویل کبیرہ کا ارتکاب کیا وہ نکل جائے، جیسے سیدنا ولید بن عقبہؓ اور محدثین نے کہا ہے کہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین علی الاطلاق عادل ہیں اس لیے کہ تقریباً سبھی ایسے تھے اور بہت معمولی نادر اس سے مستثنیٰ ہو سکتے ہیں پس ایسا فاسق جس نے اس زمانہ میں اپنے عمل کی کوئی تاویل ظاہر نہیں کی وہ ایسا ہی ہے، جیسے سفید رنگ کے بیل میں ایک آدھا بال کالا بھی ہو۔
مگر ہم کہتے ہیں کہ ان کا یہ قول مردود ہے کیونکہ خلافِ جمہور خلافِ اجماع اہلِ حق ہے کسی نے بھی استثناء کو جائز قرار نہیں دیا اور سیدنا ولیدؓ یا سیدنا بسر بن ابی ارطاۃؓ کو جن تاریخی روایات کی بناء پر غیر عادل کہا جاتا ہے وہ روایات مخدوش ہیں بلکہ اکثر مواد دشمنانِ اسلام و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین روافض کی من گھڑت ہے نیز وہ نصوصِ قطعیہ قرآنیہ اور احادیث صحیحہ جو جمیع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت پر روشن دلیلیں ہیں کے مخالف ہونے کی وجہ سے مردود ہیں۔ اگر کوئی روایت قابلِ اعتماد بھی ہو تب بھی وہ مؤول اور مصروف عن الظاہر ہوگی اوراس کا کوئی جائز مصداق اور محمل ہوگا کیونکہ اس کے ظاہری و ظنی مفہوم کی بدولت قرآن وحدیث اور اجماع کے قطعی الثبوت و قطعی الدلالت مفہوم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
علاوہ ازیں ہمارے معاصر محققین بھی یہ ثابت کرچکے ہیں کہ سیدنا ولیدؓ بن عقبہ پر شراب نوشی کا الزام کوفہ کے شریروں نے انتقامی طور پر لگایا تھا اور سیدنا عثمانؓ کے سامنے انہوں نے گواہی دی تب ان پر حد جاری ہوئی بہرحال اصل الزام غلط ہے۔
(دیکھیئے عادلانہ دفاع حصہ اول از مولانا نورالحسن شاہ صاحب بخاری)۔
ایسے ہی بسر بن ابی ارطاۃؓ کے متعلق ظلم و ستم، بچوں کو قتل کرنے مسلمانوں کو اسیر بنانے کی روایات وضعی داستان سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتیں جن کے موجد شیعہ ہیں۔
ایسی غیر معتبر روایات پر اعتماد کرکے ہم کیسے ایک صحابی سے بدظن ہوں یا ان سے عدالت ساقط کر دیں جب کہ سب امت کا فیصلہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت کا ہے۔
مؤرخین کی ایسی ہی رطب ویابس روایات کے متعلق حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب دہلویؒ المتوفی 1239ھ فرماتے ہیں:
لان المؤرخینَ ینقلون ما خَبُثَ وطابَ ولا یُمَیِّزُوْن بین الصحیح والموضوع والضعیف وأکثرہم حَاطِبُ لیلٍ وَلَا یَدْرِی ما یَجْمَعُ فالاعتماد علی ذلک فی مثلِ ہذا المقامِ الخَطْرِ والطریقِ الوَعْرِ وَالمہمۃِ القَفَرِ التی تَضِلُّ فیہ القَطَا وتَقْصُرُ دونہ الخُطَا مما لا یلیق بشأن عاقل فضلا عن فاضل۔
(مختصر التحفہ الاثنی عشریہ: صفحہ، 282)
ترجمہ: سیدنا امیرِ معاویہؓ پر سبِ علی کے الزام کی طرف توجہ ہی نہ کی جائے کیونکہ مؤرخین پاک نا پاک سب نقل کرتے ہیں۔ صحیح، من گھڑت اور کمزور روایات میں فرق نہیں کرتے ان کی اکثریت رات کو لکڑیاں جمع کرنے والے کی طرح ہے جو نہیں جانتا کہ خشک و تر کیا جمع کر رہا ہے۔ ایسے پر خطر مقام، سنگین راستے اور بیاباں جنگل میں جس میں پرندے بھی گم ہوجاتے ہیں اور قدم وہاں پہنچنے سے قاصر رہتے ہیں۔ ایسی روایات پر اعتماد عقل مند کی شان نہیں چہ جائے کہ اہلِ علم و فاضل ایسا کرے۔
(واللہ الہادی)

صفحہ 6 از 6