اجماع امت اور عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم - دفاعِ اہلِ سنت |…

اجماع امت اور عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم

  جعفر صادق

صفحہ 5 از 6
ترجمہ: علامہ سبکی المتوفی 771ھ کہتے ہیں کہ فیصلہ کن بات یہ ہے کہ ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت کے قطعیت کے ساتھ قائل ہیں اور بکواسیوں کی بکواس اور باطل پرستوں کی گمراہی کی طرف ذرہ توجہ نہیں کرتے۔ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ ہمارے جیسے ایک آدمی کے تزکیہ کرنے سے راوی عادل سمجھا جاتا ہے پس وہ لوگ کیسے عادل نہ ہوں جن کا تزکیہ اس علام الغیوب نے کئی آیات میں کیا ہے جس کے علم سے ذرہ برابر کوئی چیز زمین یا آسمان میں مخفی نہیں۔
ملا علی قاریؒ المتوفی 1014ھ شرح فقہ اکبر میں فرماتے ہیں:
ولذلک ذہب جمہور العلماء إلی أن الصحابۃ کلہم عدول قبل فتنۃ عثمان وعلی وکذا بعدہا ولقولہ علیہ السلام أصحابی کالنجوم بایہم اقتدیتم اہتدیتم۔
ترجمہ: اسی لیے جمہور علماء کا یہی مذہب ہے کہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں سیدنا عثمانؓ سیدنا علیؓ کے فتنہ سے پہلے والے بھی اور اسی طرح بعد والے بھی اور نیز اس لیے بھی کہ حضورﷺ نے فرمایا ہے میرے ساتھی ستاروں کی مثل ہیں جس کی بھی پیروی کروگے ہدایت پائوگے۔
علامہ ابنِ کمال الدینؒ المتوفی 806ھ اور کمال الدین بن شریف المتوفی 804ھ لمسامرہ شرح مسایرہ صفحہ، 313 میں لکھتے ہیں:
واعتقاد أہل السنۃ والجماعۃ تزکیۃ جمیع الصحابۃ رضی اللہ عنہم وجوبا باثبات العدالۃ منہم والکف عن الطعن علیہم اثنی اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ الیہم۔
ترجمہ: تمام اہلِ السنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یقینی طور پر تزکیہ شدہ اور عادل ہیں ان کی بدگوئی سے رکنا واجب ہے ان کی تعریف کرنی ضروری جیسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی ہے۔
علامہ ابنِ حجر ہیثمیؒ المتوفی 974ھ لکھتے ہیں:
معلوم ہونا چاہیئے کہ جس مسئلہ پر اہلِ السنت و الجماعت کا اجماع ہے وہ یہ ہے کہ ہر مسلم پر واجب ہے کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تزکیہ اور احترام یوں کرے کہ ان کے لیے عدالت کا اعتقاد رکھے ان کی بدگوئی سے رکے۔ ان کی مدح و ثنا کرتا رہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بہت سی آیات میں ان کی تعریف کی ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے اے صحابہ تم سب امت سے بہتر ہو جو لوگوں کی ہدایت کے لیے بنائی گئی ہے پس اللہ تعالیٰ نے تمام امتوں پر ان کی فضیلت ثابت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ان کی فضیلت پر اس شہادت کے برابر کوئی شہادت نہیں ہوسکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اور ان سے صادر ہونے والے جمیعِ اعمالِ حسنہ کو خوب جانتے ہیں بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں سب امتوں سے افضل ہونے کی گواہی دی تو ہر شخص پر واجب ہے کہ وہ اس پر اعتقاد رکھے اوراس پر ایمان لائے ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس خبر دینے میں تکذیب کرے گا اور بلاشبہ جو شخص بھی کسی ایسی چیز کی حقیقت میں جس کی خبر اللہ اور اس کے رسول نے دی ہے۔ شک کرے تو وہ تمام مسلمانوں کے نزدیک کافر ٹھہرے گا۔
(الصواعق المحرقۃ لاہل الزندقۃ)
قارئین کرام! خوف ہے کہ ایک ہی قسم کے اقوال آپ پڑھتے پڑھتے کہیں اکتا نہ جائیں بقول شاعر۔
اند کے پیش تو گفتم غم دل ترسیدم کہ دل آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار است۔
اس لیے ہر صنف کے علماء کے اقوال میں سے صرف دو چار کے لکھنے پر اکتفا کیا ہے اور عقل مند آدمی کے لیے یہی کافی ہیں اور ہٹ دھرم اور معاند کے لیے دفتر کے دفتر بھی بے کار ہیں ورنہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت اور ان کی عزت و تکریم کے ضروری ہونے پر اسی اکثیرت سے علمائے امت کی تصریحات موجود ہیں کہ ان کو جمع کرنے سے ایک ضخیم جلد تیار تو ہوجائے مگر وہ ختم نہ ہوں اس مختصر سے مضمون میں اتنی گنجائش ہی کہاں؟ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل و محامد پر مشتمل مواد کا عشر عشیر بھی سمیٹ سکے۔
دامانِ نگاہ تنگ گلِ حسن تو بسیار گل چین بہار تو ز دامن گلہ دارد۔
الغرض ہر مکتب فکر کے علمائے امت نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دربار میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ مفسرین و محدثین نے اس لیے کہ ذخیرہ حدیث و تفسیر کے راویان اول اور انہیں حدیث و تفسیر سے ربط آشنائی دینے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی ہیں۔فقہاء اور علماء اصول نے اس لیے کہا انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مرویات اور اقوالِ طیبہ سے خوش چینی کر کے اجتہاد و استنباط کا ملکہ پایا اور ان کے متعلق قوانین مدون کیے۔
متکلمین اور علمائے عقائد نے اس لیے بحث کی تاکہ قرآن و سنت کے ان پاسبانوں کو دشمن کے حملہ سے محفوظ رکھا جائے اوراہلِ حق کا اہلِ باطل سے امتیاز بھی ہو جائے۔ علماء رجال اور مؤرخین نے اس لیے مدح سرائی کی کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سوانحِ نگاری اوران کے پاکیزہ حالات نے ان کے فن اور خدمات کو جلا بخشی اور دنیا میں ان کا نام روشن کرایا بقول سیدنا حسانؓ۔
ما إن مدحتُ محمدًا بمقالتی لکن مدحتُ مقالتی بمحمد۔
میں نے اپنی نظم میں حضورﷺ کی تعریف نہیں کی ہاں آپﷺ کے ذکرِ خیر سے اپنی نظم کی تعریف کردی ہے۔
رضی اللہ تعالیٰ ورسولہ عنہم اجمعین۔
تمام علمائے اصول حدیث میں سے صرف صاحب تنقیح الازہار۔ جو شیعی زیدی مسلک کے ہیں اور اس کے شارح ابراہیم وزیر یعنی امیریمانی نے ایک دو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو عدالت سے مستثنیٰ کیا ہے چنانچہ الصحابۃ کلہم عدول سے استثناء کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
إلا من قام الدلیل علی أنہ فاسق تصریح۔
(توضیح الافکار: جلد، 2 صفحہ، 436)
سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں
مگر جس پر کوئی دلیل قائم ہو جائے کہ وہ صریح بے حکم تھا۔
صفحہ 5 از 6