اجماع امت اور عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم - دفاعِ اہلِ سنت |…

اجماع امت اور عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم

  جعفر صادق

صفحہ 4 از 6
تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت پر سب امت متفق ہے اورجو فتنہ میں مبتلا ہوئے اجماع میں قابلِ اعتماد علماء کے اجماع سے وہ بھی عادل ہیں ان پر حسنِ ظنی رکھتے ہوئے اور جو کچھ ان کے لیے فضائل منقول ہیں ان پرنظر رکھتے ہوئے یہ عقیدہ ضروری ہے گویا اللہ تعالیٰ نے ان کی عدالت پر اجماع قائم کرا دیا کیونکہ وہ شریعت کے نقل کرنے والے ہیں۔
(علوم الحدیث: صفحہ، 265)
علی بن محمد علامہ سخاویؒ المتوفی 663ھ فتح المغیث: جلد، 4 صفحہ، 35 پر رقم طراز ہیں:
إن للصحابۃ شرفا عظیما یمنع ما حبہا میزۃ خاصۃ وہی أن جمیع الصحابۃ عند من یعتد بہ من أہل السنۃ سواء من لابس الفتن منہم ولم یلابس عدول۔
(کما فی باعث المحیثث: صفحہ، 205)
ترجمہ: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے ایک بڑا شرف ہے۔ جو صحابی کو خاص امتیاز بخشتا ہے وہ یہ ہے کہ جمیع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قابلِ اعتماد علمائے اہلِ سنت کے نزدیک عادل ہیں خواہ فتنہ سے دوچار ہوئے ہوں یا نہ۔
علامہ محمد بن اسماعیل حسنیؒ (امیر یمانی) المتوفی 1182ھ لکھتے ہیں:
ومن مہمات ہذ الباب ای باب معرفۃ الصحابۃ القول بعدالۃ الصحابۃ کلہم فی الظاہر اعلم انہ استدل الحافظ بن حجر فی اول کتاب الإصابۃ علی عدالۃ جملۃ الصحابۃ اتفق أہل السنۃ علی أن الجمیع عدول ولم یعالو فی ذلک الاشذوذ من المبتدعۃ۔
(توضیح الافکار؛ جلد، 2 صفحہ، 234)
ترجمہ: معرفتہ الصحابہ کے باب کے اہم مسائل میں سے یہ مسئلہ بھی ہے کہ ظاہراً تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت کا اعتقاد رکھا جائے۔ جاننا چاہیئے کہ حافظ ابن حجر نے اصابہ کے شروع میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے کی عدالت پر آیاتِ قرآنیہ سے استدلال کیا ہے، تمام اہلِ سنت اس عقیدہ پر متفق ہیں کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں اور اس میں اہلِ سنت سے اختلاف صرف اہلِ بدعت کے چند افراد نے کیا ہے۔
مولانا عبدالعزیز فرہاروی المتوفی 1300ھ کوثر النبالنَّبِیﷺ: صفحہ، 79 میں لکھتے ہیں:
اجمع اہل السنت علی ان الصحابۃ کلہم عدول۔
ترجمہ: تمام اہلِ السنت و الجماعت کا اجماع ہے کہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں۔
علمائے اصولِ فقہ کی شہادت:
شیخ محمد خضریؒ کی کتاب اصول فقہ: صفحہ، 218 پر ہے۔
الصحابۃ کلہم عدول۔ 
ترجمہ: سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عدول ہیں۔
مسلم الثبوت: صفحہ، 194 میں علامہ بہاریؒ لکھتے ہیں:
الأکثر الأصل فی الصحابۃ العدالۃ۔
اکثر امت کا مذہب ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں عدالت اصل ہے۔
علامہ ابنث حاجبؒ کی تالیف شرح مختصرالمنتہیٰ: جلد، 2 صفحہ، 67 پر ہے۔
الأکثر علی عدالۃ الصحابۃ أقول أکثر الناس علی أن الصحابۃ عدول۔
ترجمہ: امت کی اکثریت عدالتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قائل ہے میں کہتاہوں کہ اکثر لوگوں کا مذہب یہ ہے کہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں۔
یہاں الاکثر اور اکثر الناس سے مراد جمیعِ امت کی اکثریت ہے اہلِ سنت کی اکثریت مراد نہیں کیونکہ اہلِ سنت تو سب کے سب عدالت جمیع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قائل ہیں۔
مسلم الثبوت کی شرح فواتح الرحموت: جلد، 2 صفحہ، 401 پر ہے:
إن عدالۃ الصحابۃ مقطوعۃ لاسیما أصحاب بدر و بیعۃ الرضوان کیف لا وقد اثنی اللّٰہ تعالیٰ علیہم فی مواضع عدیدۃ من کتابہ وبین رسول اللہﷺ فضائلہم غیر مرۃ۔
ترجمہ: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت قطعی ہے خصوصاً اصحابِ بدر اور بیعتِ رضوان والوں کی قطعی کیوں نہ ہو جب کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں بہت سے مقامات پر ان کی تعریف اور رسول اللہﷺ نے کئی مرتبہ ان کے فضائل بیان فرمائے ہیں۔
اسی کتاب میں دوسرے مقام پر بحث عدالتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں فرماتے ہیں:
جاننا چاہیئے کہ ان تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت قطعی ہے جو جنگِ بدر اور بیعتِ رضوان میں شریک رہے۔ کسی مومن کے لائق نہیں کہ ان کی عدالت میں شک کرے بلکہ جو لوگ فتحِ مکہ سے قبل ایمان لائے وہ بھی قطعی عادل اور مہاجرین و انصار میں داخل ہیں۔ البتہ فتحِ مکہ کے دن اسلام لانے والوں میں اشتباہ ہے کیونکہ کچھ ان میں مؤلفۃ القلوب جن کو مال دے کر اسلام کی طرف مائل کیا گیا ہیں اور انہی کے بارے میں اختلاف ہے ہمارے ذمے واجب ہے کہ انکا ذکر بھلائی ہی سے کریں، خوب سمجھ لو!
لیکن ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں کہ فتحِ مکہ کے دن اسلام قبول کرنے والوں کا معاملہ متوقف اور مشتبہ ہونا صحیح نہیں ہے کیونکہ سورۃ الحدید کی آیت کریمہ لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ الخ۔
(سورۃ الحدید آیت 10)
قطعیت سے ان کے جنتی ہونے پر دلالت کرتی ہے اور مؤلفۃ القلوب بھی کامل الایمان تھے۔
اولاً: اس لیے کہ اگر ان کو مذبذب یا مشکوک الایمان سمجھا جائے تو وہ زکوٰۃ کا مصرف کیسے ہوسکتے ہیں جب کہ مصارفِ زکوٰۃ کے لیے مسلم ہونا شرط ہے۔
ثانیاً: اس لیے کہ تالیفِ قلوب کے اس طرز نے ان کو مزید پختہ اوراسلام کا وفادار بناہی دیا ورنہ تالیف قلوب کی مشروعیت اوراس پر عمل درآمد کا کوئی فائدہ نہیں۔
(فعل الحکیم لا یخلو عن الحکمۃ)
علماء علمِ عقائد وکلام کی شہادت
اب علماء متکلمین وعقائد کے چند حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔
محقق ابن ہمامؒ کی تحریر الاصول اوراس کی شرح تقریر الاصول: جلد، 2 صفحہ، 260 پر ہے:
علی أن ابنِ عبد البرؒ حکی إجماع أہل الحق من المسلمین وہم أہل السنۃ والجماعۃ علی أن الصحابۃ کلہم عدول۔
ترجمہ: علاوہ ان دلائل کے علامہ ابنِ عبدالبرؒ نے ہی ہیں اس عقیدہ پر اجماع نقل کیا ہے کہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں۔
پر آگے لکھتے ہیں: وقال السبکی: والقول الفصل إنا نقطع بعدالتہم من غیر التفات الیٰ ہذیان الہاذین وزیغ المبطلین وقد سلف اکتفائنا فی العدالۃ بتزکیۃ الواحد منا فکیف بمن زکاہم علام الغیوب الذی لا یعزب عن علمہ مثقال ذرۃ فی الأرض ولا فی السماء فی غیر آیاتہ۔ 
صفحہ 4 از 6