اجماع امت اور عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم - دفاعِ اہلِ سنت |…

اجماع امت اور عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 6
کہ مازری کے اس قول کی کسی نے موافقت نہیں کی بلکہ محققین اور فضلاء کی ایک جماعت نے اس پر طعن کیا ہے، شیخ صلاح الدین علائی کہتے ہیں کہ مازری کا یہ قول نادر ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جو صحابیت اور روایت میں مشہور ہیں ان کو عادل نہ کہا جائے جیسے وائل بن حجر مالک بن الحویرث اور عثمان بن ابی العاص وغیرہم رضی اللہ عنہم۔ جو آپﷺ کی خدمت میں وفد کی صورت میں حاضر ہوئے تھے اور تھوڑی دیر ٹھہر کر چلے گئے تھے اور اسی طرح اس قول سے وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی عادل نہ ہوں گے جن کی روایت حدیث صرف ایک ہے یا آپﷺ کی خدمت میں ان کی مقدارِ صحبت معلوم نہیں جیسے عرب کے قبائل وغیرہ۔
والقول بالتعمیم ہو الذی صرح بہ الجمہور وہو المعتبر۔
(الاصابہ: جلد، 2 صفحہ، 11)
ترجمہ: تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو عادل کہنے کی ہی جمہور علمائے امت نے تصریح کی ہے اور یہی معتبر مسلک ہے۔
خطیب بغدادی:
الکفایہ فی علوم الروایہ میں عدالتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ نبویہ پیش کرنے کے بعد لکھتے ہیں: عدالتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے موضوع پر احادیث بہت کثرت سے مروی ہیں ان تمام کا تقاضا یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین منافی عدالت امور سے طاہر ہوں اور قطعاً عادل اور برائیوں سے منزہ ہوں اللہ تعالیٰ کی ان کی عدالت پر شہادت کے بعد جوان کے باطن سے واقف ہے۔
کوئی صحابی ثبوت عدالت میں کسی مخلوق کی تعدیل کا محتاج نہیں اور وہ اسی وصفت پر سمجھے جائیں گے تا آنکہ کسی سے ایسے جرم کا ثبوت ہو جائے جو نافرمانی کے قصد ہی سے بلا احتمال غیر ہو سکتا ہو اور تاویل کی کوئی گنجائش نہ رہے تو عدالت کی نفی تسلیم کی جائے گی مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے جرم کے ارتکاب سے بری اور ان کی شان کو اس سے برتر بنایا ہے علاوہ ازیں بالفرض خدا اور رسول خداﷺ کی جانب سے ان کی مذکورہ ثنا و تعدیل نہ بھی ہوتی تو بھی ان کی مندرجہ ذیل سیرت ان کے قطعی عادل اور گناہوں سے صاف ہونے پر قوی شہادت تھی۔ مثلاً ہجرت، جہاد فی سبیل اللہ، نصرتِ رسول اپنی جان و اموال کی قربانی، اپنے آبا و اجداد کو اور اولاد کو قتل کرنا، دین کی خیرخواہی اور ایمان میں قوت اور پختگی وغیرہ۔
خلاصہ کلام یہ کہ ان کے بعد آنے والوں میں جن جن کا تزکیہ اور شہادت عدالت دی جائے گی ان سب سے وہ افضل ہیں۔ یہی مذہب تمام علمائے امت اور قابلِ اعتماد فقہاء کا ہے۔
(اسد الغابہ فی معرفتہ الصحابہ: جلد، 1 صفحہ، 2)
پر علامہ جزریؒ لکھتے ہیں کہ
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سب امور میں عام رواۃ کی صفات حفظ اتقان وغیرہ میں شریک ہیں مگر جرح تعدیل میں نہیں کیونکہ وہ سب کے سب عادل ہی ہیں ان پر جرح کی کوئی سبیل نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ نے ان کو پاک صاف اور عادل قرار دیا ہے اور یہ مشہور چیز ہے جس کے ذکر کی حاجت نہیں۔
علامہ قرطبی مالکی محمد بن احمد الانصاریؒ المتوفی 611ھ لکھتے ہیں:
قلت فالصحابۃ کلہم عَدول أولیاء اللہ تعالیٰ وأصفیائہ وحیرتہ من خلقہ بعد أنبیائہ ورسلہ ہذا مذہب أہل السنۃ والذی علیہ الجماعۃ من أئمۃ ہذہ الأمۃ۔
ترجمہ: میں کہتاہوں سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل اللہ تعالیٰ کے دوست اس کے برگزیدہ بندے اور انبیاء اور رسول کے بعد اس کی سب مخلوقات سے افضل ہیں یہی اہلِ السنت و الجماعت کا مذہب ہے اور اس پر اس امت کے ائمہ کی ایک بڑی جماعت کا اعتقاد ہے۔
(تفسیر قرطبی: جلد، 14 صفحہ، 299)
علمائے اصولِ حدیث کی شہادت:
امام نوویؒ اور جلال الدین سیوطیؒ المتوفی 911ھ فرماتے ہیں:
الصحابۃ کلہم عدول مَن لَابَسَ الفِتَنَ وغیرہم فإجماع من یعتد بہ وقالت المعتزلۃ عدول إلا من قاتل علیہا وقیل اذا انفرد وقیل إلا المقاتل والمقاتل لہ وہذا کلہ لیس بصواب إحسانا للظن بہم وحملا لہم فی ذلک علی الاجتہاد الماجور فیہ کلہم منہم۔
(تقریب مع شرح تدریب الراوی: صفحہ 400)
ترجمہ: سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں فتنہ سے دو چار ہونے والے بھی اور دوسرے بھی اس پر معتمد ترین علماء کا اجماع ہے۔ معتزلہ کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ سے لڑنے والوں کے سوا سب عدول ہیں ایک قول یہ ہے کہ جب صحابی تنہا روایت کرے تو عادل شمار نہ ہوگا ایک قول یہ بھی ہے کہ آپس میں لڑائی کرنے والے عادل نہیں یہ سب اقوال درست نہیں تاکہ صحابی سے حسنِ ظنی باقی رہے اور ان مشاجرات کو اس خطِ اجتہادی پر محمول کیا جائے جس میں ہر ایک کو اجر و ثواب ملے گا۔
سید قاسم الامذجافی المصباح: متوفی 211ھ لکھتے ہیں:
والصحابۃُ کلہم عَدُولٌ رضی اللہ عنہم سواء في ذلکَ مَنْ لَابَسَ الفِتَنَ ومن لم یُلَابِسْہا وذلک مما لا یشتبہُ أحدٌ من المسلمین الذین انتہت علیہم زِعامۃ وعنہم تَصْدُر الاراء والحُجَج۔
ترجمہ: سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں خواہ فتنہ میں شریک ہوئے ہوں یا نہ اور یہ وہ عقیدہ ہے جس میں کسی ایسے مسلمان کو اشتباہ نہیں جن پر مسلمانوں کی قیادت ختم ہے اورانہی سے شرعی دلائل اور آراء منقول ہوتی ہیں۔
علامہ ابنِ صلاح ابو عمر و عثمان بن عبد الرحمٰنؒ المتوفی 643ھ اپنے رسالہ علوم الحدیث المعروف بمقدمہ ابنِ صلاح: صفحہ، 264 میں لکھتے ہیں۔
الثانیۃ للصحابۃ بأسرہم خصیصۃ وہی أنہ لا یُسئل عن عدالۃ أحد منہم بل ذلک أمر مفروغ عنہ لکونہم علی الإطلاق معدلین بنصوص الکتاب والسنۃ وإجماع من یعتد بہ فی الاجماع من الامۃ۔
ترجمہ: دوسرا فائدہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک خصوصیت ہے وہ یہ کہ کسی کی عدالت کے متعلق باز پرس کا سوال پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ مسئلہ طے شدہ ہے کیونکہ وہ مطلق کتاب و سنت کی نصوص اور تصریحات اور امت کے قابلِ اعتماد علماء کے اجماع سے عادل ہیں۔
پھر چند احادیث اور آیاتِ قرآنیہ پیش کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔
صفحہ 3 از 6