اجماع امت اور عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم - دفاعِ اہلِ سنت |…

اجماع امت اور عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 6
محدثین کرامؒ کی شہادت:
امام سفیان ثوریؒ المتوفی 167ھ سے منقول ہے:
قال عبد اللہ بن ہاشم الطوسی حدثنا وکیع قال سمعت سفیان یقول فی قولہ تعالیٰ قل الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ، قال ہم أصحاب محمدﷺ۔
(الاصابہ لحافظ بن حجر: جلد، 1 صفحہ، 13)
ترجمہ: عبداللہ بن ہاشم طوسی کہتے ہیں کہ ہم سے وکیع بن الجراح نے سفیان ثوریؒ سے یہ نقل کیا ہے کہ اس آیت کا مصداق حضرت محمدﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں آپ کہیے سب تعریفیں اللہ ہی کیے لیے ہیں اور اللہ کے پر سلامتی ہو جن کو اس نے پسند کرلیا ہے۔
سہل بن عبد اللہ تستریؒ المتوفی کہتے ہیں جو علم وزہد اور جلالۃ شان میں مشہور ہیں کہ جس نے حضورﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعظیم نہیں کی وہ صحیح طور پر حضورﷺ پر ایمان نہیں لایا۔
(رسالہ تائید مذہب اہلِ سنت: صفحہ، 52 از مجدد الف ثانیؒ)
علامہ مبارک بن محمد بن اثیر جزریؒ المتوفی 606ھ لکھتے ہیں:
الصحابۃ رضی اللہ عنہم أجمعین عدول بتعدیل اللہ عزوجل ورسولہﷺ لا یحتاجون إلی بحث عن عدالتہم وعلیٰ ہذا القول معظم المسلمین من الأئمۃ والعلماء من السلف والخلف۔
(جامع الاصول من احادیث الرسول: جلد، 1 صفحہ، 73)
ترجمہ: سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہﷺ نے ان کی تعدیل کر دی ہے ان کی عدالت کے متعلق بحث کرنے کی حاجت نہیں اسی اعتقاد پر مسلمانوں کے سربرآوردہ ائمہ کرام اور متقدمین متاخرین علماء کرام چلے آ رہے ہیں۔
حافظ محی الدین ابو زکریا بن شرف النوریؒ المتوفی 671ھ رقم طراز ہیں:
ولہٰذا اتفق أہل الحق ومن یعتد بہ فی الإجماع علی قبول شہاداتہم وروایاتہم وکمال عدالتہم رضی اللہ عنہم اجمعین۔
(شرح مسلم: جلد، 2 صفحہ، 272)
ترجمہ: اس لیے اہلِ حق جماعت اور جن کا اجماع معتبر ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مروی احادیث کی قبولیت ان کی شہادت کی صداقت اور کامل عدالت پر متفق ہیں اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہوچکا۔
حافظ ابو عمرو یوسف بن عبد اللہ المعروف بابن عبدالبرؒ المتوفی 463ھ الاستیعاب فی معرفتہ الاصحاب کے آغاز میں لکھتے ہیں۔
سنن نبویہ کی حفاظت اور معین اسباب میں سے ان حضرات کی معرفت بھی ہے جنہوں نے سنن نبویہ علی حبہا الصلوٰۃ والتسلیم کو اپنے نبی سے نقل کر کے سب لوگوں تک پہنچایا اور اس کی کما حقہ حفاظت اور تبلیغ کی ہے۔ وہ لوگ آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور حواری ہیں کہ انہوں نے سنت کو محفوظ کیا اور اسلام و مسلمانوں کی خیرخواہی سمجھ کر اس فریضہ کو ادا کیا حتیٰ کہ ان کی نقل اور روایت سے دین مکمل ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کی حجت مسلمانوں پر ثابت ہوگئی۔ یہی لوگ سب سے افضل اور سب امت سے بہتر تھے جو لوگوں کی تبلیغ کے لیے بھیجی گئی۔ ان تمام کی عدالت ثابت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے ان کی تعریف بیان کی ہے ان لوگوں سے بڑھ کر کوئی عادل نہیں ہوسکتا جن کو اللہ نے اپنے نبی کی صحبت اور مدد کے لیے چن لیا۔ اس سے بڑھ کر نہ کوئی تزکیہ کا مقام ہو سکتا ہے اور نہ ثبوتِ عدالت اس سے اکمل طریقے سے ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ الخ۔
(سورۃ الفتح: آیت، 29)
آگے اسی کتاب کے ،صفحہ 9 پر لکھتے ہیں۔
وإن کان الصحابۃ رضی اللہ عنہم قد کفینا البحث عن أحوالہم الجماع أہل الحق من المسلمین وہم أہل السنۃ والجماعۃ علیٰ أنہم عدول۔
ترجمہ: اگرچہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ہم کافی بحث کر چکے ہیں کیونکہ اہلِ حق مسلمانوں کا جو اہلِ السنت والجماعت ہی ہیں اس پراجماع ہے کہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عدول ہیں۔
حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ المتوفی 852ھ الاصابہ: جلد، 1 صفحہ، 10 پر لکھتے ہیں:
وقال أبو محمد ابن حزمؒ الصحابۃ کلہم من أہل الجنۃ قطعا۔ قال اللّٰہ تعالیٰ لا یستوی منکم من أنفق من قبل الفتح وقاتل الآیۃ وقال تعالیٰ إن الذین سبقت لہم منا الحسنٰی۔ أولئک عنہا مبعدون فثبت أن الجمیع لأہل الجنۃ لأنہم یخاطبون بالآیۃ السابقۃ۔
ترجمہ: علامہ ابو محمد حافظ بن حزمؒ کہتے ہیں کہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اہلِ جنت ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس نے فتحِ مکہ سے پہلے انفاق و قتال کیا، وہ اس کے برابر نہیں جس نے بعد میں انفاق و قتال کیا الآیہ نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جن لوگوں سے ہماری طرف سے بھلائی کا وعدہ ہوچکا ہے، یہ لوگ آگ سے دور رکھے جائیں گے، پس ثابت ہوا کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اہلِ جنت میں سے ہیں اس لیے کہ آیتِ سابقہ میں وہی فتحِ مکہ سے قبل اور بعد والے مؤمن مخاطب ہیں۔
اور یہ سوال کیا جائے کہ آیت مذکورہ میں انفاق اور قتال کی قید اور ایسے ہی احسان کی قید ہے کہ جو صحابی ان صفات سے موصوف نہ ہو یہ آیت اسے شامل نہ ہو حالانکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہونے کے لیے یہ صریح آیتیں ہیں اسی لیے تو مازری نے شرح برہان میں لکھا ہے کہ الصحابۃ عدول سے ہر وہ صحابی مراد نہیں جسے ایک دن یا کبھی ایک ساعت آپﷺ کی زیارت نصیب ہوئی یا کسی اور غرض سے آپﷺ کی خدمت میں آیا اور چلاگیا ہو بلکہ اس سے وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مراد ہیں جو کافی عرصہ آپﷺ کی خدمت میں رہے آپﷺ کی توقیر اور نصرت کی اور آپﷺ پر نازل شدہ نور کی پیروی کی تو علامہ بن حزمؒ اس کا جواب یہ دیتے ہیں:
والجواب عن ذلک ان التقییدات المزکورۃ أخرجت تحرج الغالب وإلا فالمراد بالإنفاق والقتال بالفعل والقوۃ۔
ترجمہ: اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ قیدیں تغلیبی طور پر لگائی گئی ہیں کہ اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین انفاق اور قتال کرتے تھے ورنہ انفاق وقتال سے مراد عام ہے بالفعل کیا ہو یا بالقوۃ کرنے کی طاقت رکھتے ہوں۔
اور حافظ ابنِ حجرؒ بھی اس قول کا تخطیہ یوں کرتے ہیں:
صفحہ 2 از 6