اجماع امت اور عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم - دفاعِ اہلِ سنت |…

اجماع امت اور عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 6

اجماع امت اور عدالت صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین:

ائمہ سلف و خلف اور تمام اہلِ السنت و الجماعت کا اس عقیدہ پر اجماع چلا آرہا ہے کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بغیر کسی استثناء کے عادل اور واجب التعظیم والاحترام ہیں، ان کی روایت بلا چون و چرا قابلِ قبول اور واجب التسلیم ہے، ان میں سے کسی پر بھی طعن کرنا جائز نہیں۔ ان کے آپس کے مشاجرات کی بحث سے رکنا چاہیے۔ ہاں ان کے دامن کی صفائی بیان کرنے کے ذکر میں کوئی مضائقہ نہیں جب کہ نیت صحیح ہو۔ ان کی اجتہادی خطائوں کی صحیح تاویلیں ہیں۔
نیز یہ کہ اس پر بھی وہ ماجور ہوں گے کیونکہ حدیث نبوی میں آیا ہے کہ جب مجتہد اجتہاد کرے اگر اجتہاد صحیح نکلے تو اس کو دو اجر ملیں گے اوراگر غلط ہوجائے تو اس کو ایک اجر ملے گا۔
(بخاری و مسلم)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ اور سیدنا براء بن عازبؓ کے صراحتاً اور بقیہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے احادیث نبویہ کے ضمن میں کئی ارشادات منقول ہیں، اس باب کا افتتاح ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود المتوفی 33ھ کے اس سنہری فرمان سے کرتے ہیں:
عن ابن مسعود قال من کان مستنًا فلیستن بمن قد مات فان الحی لا تؤمن علیہ الفتنۃ أولٰئک أصحاب محمدﷺ کانوا أفضل ہذہ الأمۃ وأبرہا قلوبا وأعمقہا علما وأقلہا تکلفًا اختارہم اللّٰہ لصحبۃ نبیہ ولإقامۃ دینہ فاعرفوا لہم فضلہم اتبعوہم علی أثرہم وتمسکوا بما استطعتم من أخلاقہم وسیرہم فإنہم کانوا علی الہدی المستقیم۔
(رواہ رزین: بحوالہ مشکوٰۃ صفح 32)
ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص سنت کا اتباع کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ فوت شدہ بزرگانِ دین کے نقشِ قدم پر چلے اس لیے کہ زندہ پر فتنہ کا اندیشہ رہتا ہے۔ ایسے بزرگانِ دین حضرت محمدﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی ہیں جو سب امت سے افضل، سب امت سے زیادہ پاکیزہ دلوں والے سب امت سے بڑھ کر گہرے اور ٹھوس علم والے اور سب سے کم تکلف والے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے نبی کی صحبت کے لیے اور دین کی اقامت اور سربلندی کے لیے چن لیا۔ ان کی فضیلت کو پہچانو، ان کے نقشِ قدم کی پیروی کرو اور ان کے اخلاق اور سیرت کو حتی الوسع اپنانے کی کوشش کرو کہ وہ سیدھی راہ پر گامزن تھے۔
چار مذاہب کے ائمہ کی شہادت:
اب حضرات ائمہ اربعہ متبوعینؒ کے اقوال ملاحظہ ہوں:
امام اعظم نعمان بن ثابت ابوحنیفہؒ المتوفی (150ھ)
قرآن و سنت کے بعد بلا استثناء صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال کو دین میں حجت سمجھتے تھے۔ کسی مسئلہ میں اگر کسی صحابی سے کچھ مروی ہوتا تو اپنا اجتہاد ورائے چھوڑ دیتے تھے۔
امام ابوحنیفہؒ کا یہ قول مشہور ہے:
اٰخذ بکتاب اللہ فإن لم أجد فبسنۃ رسول اللہ فإن لم أجد فبقول الصحابۃ اٰخذ بقول من شئت منہم ولا أخرج عن قولہم الیٰ غیرہم۔
(تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 450 و مناقب ابی حنیفہؒ للذہبی)
ترجمہ: میں پہلے کتاب اللہ سے استدلال کرتا ہوں اگر اس میں مجھے دلیل نہ ملے تو رسول اللہ ﷺ کی سنت کو لیتا ہوں اور اگر اس میں بھی مجھے دلیل نہ ملے تو میں حسبِ مرضی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال سے استدلال کرتا ہوں اور ان کا قول چھوڑ کر دوسروں کے قول کی طرف نہیں جاتا۔
امام شافعیؒ المتوفی 204ھ:
سنن الکبریٰ للبیہقی میں امام شافعیؒ المتوفی 204ھ سے منقول ہے:
امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ کسی مسئلہ میں جب تک قرآن و سنت میں دلیل موجود ہو تو اس کا علم رکھنے والے کو قرآن و سنت کی اتباع کے بغیر چارہ نہیں اور اگر قرآن و سنت میں دلیل نہ ہو تو ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سب اقوال کی طرف یا ان میں سے کسی ایک کے قول کی طرف رجوع کریں گے۔
کچھ آگے فرماتے ہیں جب ائمہ خلفائے راشدینؓ سے کچھ ثبوت نہ ملے تو رسول اللہﷺ کے دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دین کے امین ہیں، ہم ان کے اقوال لیں گے اور صحابہ کرام کی اتباع دوسروں کی اتباع کی بہ نسبت ہمیں زیادہ مناسب ہے۔
(ازالۃ الخفاء: جلد 1، صفحہ، 64 فصل دوم لوازم خلافت خاصہ)
امام مالکؒ المتوفی 176ھ:
حنفیہؒ کی اصول سرخسی جلد 2 صفحہ 106 پر امام مالکؒ المتوفی 176ھ کا بھی یہی مذہب بتایا ہے۔ امام مالکؒ کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تکریم کا خاص اہتمام تھا چنانچہ قاضی عیاض اور ملا علی قاریؒ شرح شفا میں فرماتے ہیں:
امام مالکؒ فرماتے ہیں جس نے رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی کو برا بھلا کہا خواہ سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ سیدنا علیؓ ہوں یا سیدنا امیرِ معاویہؓ اور سیدنا عمرو بن العاصؓ ہوں اگر یوں کہا کہ وہ کافر اور گمراہ تھے تو یہ واجب القتل ہے اور اگر عام لوگوں جیسی گالی دے تو اسے سخت سزا دی جائے۔
(شرح شفاء لملاعلی قاری: جلد 2 صفحہ 556)

امام احمد بن حنبلؒ المتوفی241ھ
الصارم المسلول علی شاتم الرسول، صفحہ 573 پر علامہ ابن تیمیہؒ امام احمد بن حنبلؒ المتوفی (241ھ) سے نقل فرماتے ہیں:
خیر الأمۃ بعد النَّبِیﷺ ابوبکرؓ و عمرؓ بعد أبی بکرؓ و عثمانؓ بعد عمرؓ و علیؓ بعد عثمانؓ و وقف قوم وہم خلفاء راشدون مہدیون ثم أصحاب رسولﷺ بعد ہؤلاء الأربعۃ خیر الناس لا یجوز لأحد أن یذکر شیئًا من مساوریہم ولا یطھعن علی أحد منہم بعیب ولا نقص فمن فعل ذلک فقد وجب تأدیبہ۔
(قال فی الرسالۃ التی رواہا ابوالعباس محمد بن یعقوب الاصطخری)
ترجمہ: حضورﷺ کے بعد سب سے افضل سیدنا ابوبکرؓ ہیں، سیدنا ابوبکرؓ کے بعد سیدنا عمرؓ ہیں، سیدنا عمرؓ کے بعد سیدنا عثمانؓ ہیں، سیدنا عثمانؓ کے بعد سیدنا علیؓ ہیں۔
آخری قول میں ایک جماعت نے توقف کیا ہے یہ ہدایت یافتہ خلفائے راشدینؓ تھے پھر چار حضرات کے بعد سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سب سے افضل ہیں کسی کو جائز نہیں کہ ان کی برائی کرے، کسی میں کوئی عیب اور نقص کی وجہ سے اعتراض نہ کرے جس نے ایسا کیا اسے سزا دینی واجب ہے۔
یہ تصریحات عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو متضمن اورمستلزم ہیں کما لا یخفی۔
صفحہ 1 از 6