عبداللہ بن سبا کون تھا؟ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

عبداللہ بن سبا کون تھا؟

  حافظ زبیر علی زئی

صفحہ 2 از 2

اس روایت کی سند شیعہ اسماء الرجال کی رُو سے صحیح ہے ۔

محمد بن قولویہ القمی،سعد بن عبداللہ بن ابی خلف القمی،یعقوب بن یزید،محمد بن عیسیٰ بن عبید،علی بن مہز یار،فضالہ بن ایوب الازدی اور ابان بن عثمان

یہ سب راوی شیعوں کے نزدیک ثقہ ہیں۔
دیکھئے ما مقانی کی تنقیح المقال(جلداول)۔
2۔ہشام بن سالم سے روایت ہے کہ میں نے ابوعبداللہ کو اپنے شاگردوں کے سامنے عبداللہ بن سبا اور امیر المومنین علی بن ابی طالب کے بارے میں اس کے دعوی ربوبیت کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا:اس نے جب یہ دعویٰ کیا تو امیر المومنین ( رضی اللہ عنہ ) نے اس سے توبہ کرنے کامطالبہ کیا،اس نے انکار کردیاتو انھوں نے اُسے آگ میں جلادیا۔

(رجال کشی ص107 ،روایت:171،وسندہ صحیح عندالشیعہ)

اس روایت کی سندبھی شیعہ اصول کی رو سے صحیح ہے۔
3۔اسماء الرجال میں شیعوں کے امام کشی نے لکھا ہے:

"ذكر بعض أهل العلم أن عبد اللّٰه بن سبأ كان يهوديا فأسلم ، ووالى عليا عليه السلام ، وكان يقول وهو على يهوديته في يوشع بن نون وصى موسى بالغلو، فقال في إسلامه بعد وفاة رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم في علي مثل ذلك ، وكان أول من أشهر بالقول بفرض إمامة علي ، وأظهر البراءة من أعدائه وكاشف مخالفيه ، وكفرهم ، ومن هنا قال من خالف الشيعة ، إن التشيع ، والرفض ، مأخوذ من اليهودية"

’’بعض اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ عبداللہ بن سبا یہودی تھا پھر اسلام لے آیا اور علی رضی اللہ عنہ سے والہانہ محبت کی وہ یہودیت میں غلو کرتے ہوئے یوشع بن نون کے بارے میں کہتا تھا:وہ موسیٰ علیہ السلام کے وصی تھے،پھر مسلمان ہونے کے بعد وہ علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس طرح کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ وصی ہیں۔
سب سے پہلے علی کی امامت کی فرضیت والا قول اُسی نے مشہور کیا اور آپ کے دشمنوں سے براءت کا اظہار کیا،آپ کے مخالفین سے کھلم کھلا دشمنی کی اور انھیں کافر کہا،اس وجہ سے جو لوگ شیعوں کے مخالف ہیں وہ کہتے ہیں:شیعوں اور رافضیوں کی اصل یہودیت میں سے ہے۔‘‘

(رجال کشی ص108،109)

4،۔شیعوں کے ایک مشہور امام ابو محمد حسن بن موسیٰ النوبختی نے لکھا ہے:

"وحكى جماعة من أهل العلم من أصحاب علي عليه السلام ، إن عبد اللّٰه بن سبأ كان يهوديا فأسلم ، ووالى عليا عليه السلام ، وكان يقول وهو على يهوديته في يوشع بن نون بعد موسى عليه السلام بهذه المقالة ، فقال في إسلامه بعد وفاة النبي صلى اللّٰه عليه وسلم في علي عليه السلام بمثل ذلك ، وهو أول من أشهر القول بفرض إمامة علي عليه السلام ، وأظهر البراءة من أعدائه ، وكاشف مخالفيه ، فمن هناك قال من خالف الشيعة أن الرفض مأخوذ من اليهودية "

’’علی رضی اللہ عنہ کے شاگردوں(اور متبعین ) میں سے علماء کی ایک جماعت نے ذکر کیا ہے کہ عبداللہ بن سبا یہودی تھا ،پھر اسلام لے آیا اور علی رضی اللہ عنہ سے والہانہ محبت کی،وہ اپنی یہودیت میں موسیٰ علیہ السلام کے بعد یوشع بن نون کے بارے میں ایسا کلام کرتا تھا پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسی بات کہی،سب سے پہلے علی رضی اللہ عنہ کی امامت کی فرضیت کا قول اس نے مشہورکیا،اس نے آپ کے دشمنوں سے براءت کا اظہار کیا اور آپ کے مخالفین سے کھلم کھلا دشمنی کی، اس وجہ سے جوشیعہ کا مخالف ہے وہ کہتا ہے:رافضیوں کی اصل یہودیت سے نکالی گئی ہے ۔‘‘ (فرق الشیعہ لنوبختی ص22)
تنبیہ: یہ نسخہ سید محمد صادق آل بحرالعلوم کی تصیح وتعلیق کے ساتھ مکتبہ مرتضویہ اور مطبعہ حیدریہ نجف(العراق) سے چھپاہے۔
5۔شیعوں کے ایک مشہور امام مامقانی نے اسماء الرجال کی کتاب میں لکھا ہے:

"عبد اللّٰه بن سبأ ملعون حرقه علي "

’’عبداللہ بن سبا ملعون ہے،اسے علی رضی اللہ عنہ نے جلادیاتھا۔‘‘

(تنقیح المقال ج1ص 89 راوی نمبر 6872)

6۔ابوجعفر محمد بن الحسن الطوسی(متوفی 460ھ) نے لکھا ہے:

"عبد اللّٰه بن سبأ الذي رجع إلى الكفر وأظهر الغلو"

’’عبداللہ بن سبا جو کفر کی طرف لوٹ گیا اور غلو کا اظہار کیا۔‘‘

(رجال الطوسی ص51)

7۔حسن بن علی بن داود الحلی نے کہا:

"عبد اللّٰه بن سبأ رجع إلى الكفر وأظهر الغلو، كان يدعي النبوة وأن علياً عليه السلام هو الله....."الخ

عبداللہ بن سبا کفر کی طرف لوٹ گیا اور غلو کا اظہار کیا،وہ نبوت کادعویٰ کرتا تھا اور یہ کہتا تھا کہ علی رضی اللہ عنہ اللہ ہیں۔

(کتاب الرجال ص254،الجزء الثانی)

8تا10:دیکھئے

المقالات والفرق لسعد بن عبداللہ الاشعری القمی(ص 21 بحوالہ الشیعۃ والتشیع للاستاذ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ ص 59)
قاموس الرجال للتستری(ج5 ص 463 بحوالہ الشیعہ والتشیع)
معجم رجال الحدیث للخوئی(ج10ص 200

شیعت تصنیف ڈاکٹر محمد البنداری ،مترجم اردو ص 56)


خلاصۃ التحقیق:
معلوم ہوا کہ اہل سنت کی مستند کتابوں اور شیعہ اسماء الرجال کی رُو سے بھی عبداللہ بن سبایہودی کا وجود حقیقت ہے جس میں کوئی شک نہیں لہذا بعض گمراہوں اور کذابین کا چودھویں پندرھویں صدی ہجری میں ابن سبا کے وجود کاانکار کردینا بے دلیل اور جھوٹ ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔

وماعلینا الاالبلاغ


صفحہ 2 از 2