دین الہٰی کے پاسبان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

دین الہٰی کے پاسبان

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 2

یہ بات اس زمانہ کے زندیقوں نے پھیلائی اوراس کے قبول کرنے والے کچھ لوگ ہوگئے پھر سلسلہ آگے بڑھتے بڑھتے شیعیت اور رافضیت ایک مذہب بن گیا، ان کے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے بغض رکھنا اوران کو گالیاں دینا اور ان سے بیزاری کا اعلان کرنا ہی سب سے بڑا دین ہے۔ زندیقوں نے جو یہ بات چلائی تھی درحقیقت اس میں بہت بڑا راز پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی کتاب اللہ کے نقل کرنے والے ہیں اور انہوں نے ہی حضور اقدسﷺ کی احادیث نقل کی ہیں، کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ ہی سارے دین کی بنیاد ہے ان دونوں چیزوں کے نقل کرنے والوں پر اگر بالفرض اعتماد نہ ہو اور ان کو کافر مان لیا جائے جیسا کہ روافض کہتے ہیں تو ان کی نقل کی ہوئی کتاب اور سنت پر کیا بھروسہ ہوگا۔ جب کتاب وسنت ہی محفوظ نہ رہی تو دین کہاں رہا؟ دینِ حقیقی سے ہٹانے کے لیے اور اسلام کی جڑیں اکھاڑ پھینکنے کے لیے درحقیقت یہ بڑا حربہ ہے جو دشمنوں نے اختیار کیا۔

آج کل کے جو مصنّفین اپنی تحقیق کے جواہر اس میں دکھاتے ہیں کہ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مطعون کریں اور ان کی لغزشوں کو جمع کریں۔ یہ لوگ اگرچہ یوں نہیں کہتے کہ ہم دشمنانِ اسلام ہیں لیکن دشمنوں کے ہاتھ میں تاریخ کی کتابوں سے مواد تلاش کر کے ہتھیار دے رہے ہیں اور دین کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ چونکہ ان لوگوں نے دین اور علم دین اسلامی ذہن رکھنے والے اساتذہ سے حاصل نہیں کیا صرف مطالعہ کا علم رکھتے ہیں اور قرآن و حدیث کی نصوص سے بے خبر ہیں یا قصداً قرآن و حدیث کی تصریحات کو دیکھنے سے گریز کرتے ہیں تاکہ اس کے محقق اور ناقد ہونے پر اثر نہ پڑے اس لیے آزادی کے ساتھ جو چاہتے ہیں لکھ دیتے ہیں جب ان کو احساس دلایا جاتا ہے کہ یہ طریقہ درست نہیں ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے تاریخ کی کتابوں میں دیکھ لیا ہے حالانکہ تاریخ کی کتابیں ہر قسم کے رطب یابس سچی جھوٹی باتوں اور روافض و خوارج کی روایتوں سے بھرپور ہیں، ان پر اعتماد کرنا کسی طرح بھی درست نہیں۔ پھر جب حضور اقدسﷺ نے منع فرما دیا کہ اس دنیا سے رخصت ہو جانے والوں کو بُرا مت کہو تو اس ارشاد کی خلاف ورزی کرنا کونسی دینداری اور سمجھداری ہے۔ یہ لوگ تو کتابیں لکھ کر دنیا سے چلے جائیں گے تحقیق اور تصنیف کے نام سے ان کی شہرت بھی ہوجائے گی اور اس طرح سے پیسے بھی بہت کچھ کمالیں گے لیکن دشمنانِ دین ان ہی کی کتابوں کے حوالے دیتے رہیں گے اور بے پڑھے مسلمانوں کو حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بدظن کرکے ان کے دلوں میں اسلام کے عقائد اور اعمال اور ارکان و احکام میں تذبذب اور شک پیدا کرتے رہیں گے۔ بے پڑھے لوگ صرف ہل بیل چلانے والے ان پڑھ ہی نہیں پڑھے لکھے لوگ بھی بے پڑھوں میں شامل ہیں جو قرآن و حدیث سے بے بہرہ ہیں مگر ڈگریاں بڑی بڑی لیے پھرتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس طرح کا ذوق تنقید رکھنے والے اپنے کو خادمِ اسلام اور اقامت دین کا داعی بھی کہتے ہیں لیکن اپنی تحریرات سے اسلام کو جو نقصان پہنچا رہے ہیں اس سے غافل یا متغافل ہیں۔ یہ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ ایک مسلمان مؤرخ ہونے کے وقت بھی مسلمان ہی ہے تاریخ لکھتے وقت اس کو قرآن و حدیث کی نصوص کو سامنے رکھنا لازم ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ جو بات کسی کی شخصیت کے متعلق ہو اس کے راویوں کو جرح وتعدیل کے اصول پر پرکھ لیں۔ مجروح رواۃ کی روایت تورد کی ہی جاتی ہے ثقہ راویوں کی کوئی روایت اگر نصوص قرآن و احادیث مشہورہ اور اجماع امت کے خلاف پڑتی ہو تو اس کو بھی رد کیا جاتا ہے۔ یہ اصولی بات ہے جس سے یہ محققین آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ ممکن ہے کہ ان لوگوں کے ہم نوا یہ بات اٹھائیں کہ پرانے مؤرخین جنہوں نے عربی میں کتابیں لکھیں، انہوں نے ایسی باتیں کیوں جمع کیں جن سے حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی کی شخصیت پر حرف آتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جن حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے تاریخ کی کتابیں لکھی ہیں انہوں نے ان حضرات کی بہت زیادہ صحیح تعریف لکھ کر ایک آدھ بات ایسی بھی لکھ دی ہے جس سے کوئی نقص کا پہلو نکلتا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ تاریخی روایات معتبر نہیں یعنی جو چیز جرح و تعدیل کے بغیر لکھی گئی ہو وہ لائق اعتبار نہیں۔ پھر ان حضرات نے یہ کتابیں عربی میں لکھی تھیں دورِ حاضر کے محقق اوّل تو حضرت محمد رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی لغزشیں ہی تلاش کرتے ہیں اور انہیں کو چھانٹ کر ایک جگہ جمع کرتے ہیں اور لکھنے کے بعد یہ نہیں لکھتے کہ یہ چیزیں بے سند ہیں یا غیر معتبر راویوں سے مروی ہیں؛ بلکہ حد تو یہ ہے کہ ان کو باور کرانے کے لیے پورا زور قلم خرچ کرتے ہیں جس سے امت میں حضراتِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بے اعتقادی بلکہ بد اعتقادی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ (العیاذ باللہ تعالیٰ)


صفحہ 2 از 2