دلیل قرآن (رضی اللہ عنہ) اللہ ان سے راضی ہوا - دفاعِ اہلِ…

دلیل قرآن (رضی اللہ عنہ) اللہ ان سے راضی ہوا

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2
 احسان کا معنی ہوتا ہے کسی کام کو کمال حسن و خوبی سے انجام دینا یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ امت کے جن لوگوں نے مکمل اخلاص اور راست روی کے ساتھ صحابہؓ کی پیروی کی صحابہؓ ہی کی طرح اپنا مال نچھاور کیا اللہ کی رضا کو اپنا مقصد بنایا کسی موقع پر کسی مصلحت کا شکار نہ ہوئے نازک سے نازک موقع پر بھی قدم پیچھے نہ ہٹایا ہر قربانی بےدریغ پیش کی ان کا مقام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد ہے اللہ تعالیٰ دونوں کی تحسین فرما رہا ہے اور اپنی رضا کے سرٹیفکیٹ سے نواز رہا ہے۔
 کوئی آقا جب اپنے غلام سے اور کوئی افسر اپنے ماتحت سے خوش ہو کر جو کلمات تحسین کہتا اور اظہار خوشنودی کرتا ہے اس کا تمام تر تعلق اس غلام یا ملازم کی ظاہری محنت سے ہوتا ہے غلام یا ملازم در پردہ کیا ہے یا اس کے احساسات اپنے آقا کے بارے میں کیا ہیں آقا اس سے بالکل بےخبر ہوتا ہے اس لیے بہت ممکن ہے کہ آقا اور افسر اپنے غلام اور ماتحت کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہوں اور اس کے نفاق کو اس کی حقیقی زندگی قرار دے کر بیجا اظہار خوشنودی کر ڈالیں لیکن اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جاننے والا ہے وہ نیتوں سے بھی واقف ہیں اور ان کے محرکات سے بھی وہ دل میں چھپے ہوئے خیالات کو بھی جانتا ہے اور ان کے اسباب کو بھی اس لیے جب وہ کسی کی تحسین فرماتا اور اظہار خوشنودی کرتا ہے تو وہ ایک ایسا اظہار ہے جس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں اس سے آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے لوگوں کی بلند قسمت کا انداز ہ کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اظہار خوشنودی فرما کر انھیں کتنا بڑا اعزاز بخشا ہے۔
رضی اللہ عنھم و رضو عنہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے 
اللہ کے راضی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ان کے ایمان و اخلاص کو قبول فرمایا ان کی قربانیاں اور وفا شعاریاں صلہ حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہریں ان کا جہاد و قتال اس کی بارگاہ میں شرف قبولیت پا گیا گویا ان کی پوری زندگی ایمان و عمل اور اخلاص کی ایسی سچی تصویر ہے جس پر ریا کاری کی کوئی پرچھائیں نہیں۔
اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے انھیں جس حال میں رکھا وہ صابر و شاکر رہے جو ذمہ داری ان پہ ڈالی نہایت جان فشانی سے محض اللہ کی خاطر اسے ادا کیا کوئی مصیبت آئی تو آزمائش جان کر خندہ پیشانی سے برادشت کیا وہ ہرحال میں اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول رہے۔
 آخر میں فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی رضا حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور اللہ نے دنیا ہی میں اپنے کلام پاک میں ان کے لیے اظہار خوشنودی فرمایا اور خود بھی اللہ کے ہر فیصلے پر مطمئن اس کی ہر نعمت پر شکر گزار اس کی ہر آزمائش پر صابر اور ہر حال میں ان کا نفس "نفس مطمئنہ" بنا رہا یہ وہ لوگ ہیں جو کامیاب و با مراد ہوئے اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

صفحہ 2 از 2