بازار میں قبائل عرب کے سامنے دعوت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

بازار میں قبائل عرب کے سامنے دعوت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

پھر اس نے مثنیٰ بن حارثہ کو اس میں شریک کرنے کے لیے کہا: یہ ہمارے شیخ اور جنگی رہنما مثنیٰ ہیں۔

اس پر مثنیٰ نے جو بعد میں مشرف بہ اسلام ہوئے، کہا: قریشی بھائی! میں نے آپ کی بات سنی، اپنا دین چھوڑنے اور آپ کا دین قبول کرنے کے سلسلہ میں میرا وہی جواب ہے جو ہانی بن قبیصہ کا جواب ہے۔ ہم دو حدوں کے درمیان مقیم ہیں۔ ایک یمامہ اور دوسرا سمامہ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں حدوں سے کیا مقصود ہے؟

اس نے کہا: سر زمین عرب اور سر زمین فارس وکسریٰ نے ہم سے یہ عہد و پیمان لے رکھا ہے کہ ہم کوئی بدعت ایجاد نہیں کریں گے اور نہ کسی بدعتی کو پناہ دیں گے اور جس بات کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں شاید یہ بادشاہوں کو گراں گذرے اور پسند نہ آئے۔ اگر عرب سے متصل علاقہ میں کوئی ایسی بات ہے تو عذر مقبول ہے اور قابل درگذر ہے اور اگر آپ عرب کے متصل علاقوں میں ہم سے مدد چاہتے ہیں تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ لوگوں نے سچی بات پوری صراحت سے کہہ دی، بڑا اچھا کیا۔ اللہ کے دین کی نصرت و تائید وہی کر سکتا ہے جو ہر طرح سے اس کا ساتھ دے، تمہارا کیا خیال ہے اگر تھوڑی ہی مدت میں اللہ تعالیٰ تمہیں ان کی سرزمین وملک کا وارث بنا دے اور ان کی خواتین تمہارے قبضے میں آجائیں تو کیا تم اللہ کی تسبیح وتقدیس کرو گے؟

یہ سن کر نعمان نے کہا: الہٰی ہم اس کے لیے تیار ہیں۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 3 صفحہ، 142 تا 144 سبیل الرشاد للصالحی: جلد، 2 صفحہ، 596 اور 597)

دروس و عبر:

اس واقعہ میں بے شمار دروس و عبر ہیں:

ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمہ وقت آپ کی صحبت میں رہتے تھے جس کی وجہ سے آپ پورے اسلام کو سمجھتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام میں آپ کو سب سے زیادہ دین کا علم عطا فرمایا تھا۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام کی حقیقت سیکھی اور اس کے معانی و مفاہیم کی تربیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پائی۔ دعوت کی حقیقت اور مزاج کا احاطہ کیا اور اس کے مختلف مراحل سے آپ گذرے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے استفادہ کیا، ربانی منہج آپ کے اندر جاگزیں ہو گیا اور اس الٰہی منہج کی روشنی میں اللہ عزوجل، حیات و کائنات کی حقیقت اور وجود کے راز کی معرفت آپ نے حاصل کی اور حیات بعد الممات، قضاء و قدر کا مفہوم، آدم وابلیس کے واقعہ کی حقیقت، حق و باطل، ہدایت و ضلالت اور ایمان وکفر کے مابین کشمکش کی حقیقت کو آپ نے اچھی طرح سمجھا۔ عبادات، قیام اللیل، ذکر الہٰی، تلاوت قرآن آپ کو انتہائی محبوب ہو گئیں، جس سے آپ کے اخلاق بلند ہوئے، نفس کی تطہیر اور روح کا تزکیہ عمل میں آیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبائل کو اسلام کی دعوت پیش کر رہے تھے… ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بڑا استفادہ کیا۔ اس رفاقت سے آپ کو یہ پتہ چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبائل کے سرداروں سے اسلامی دعوت کے لیے جس نصرت و تائید کا مطالبہ کر رہے تھے اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ لوگ ایسے ملکی معاہدات کے ساتھ بندھے نہ ہوں جو اسلامی دعوت سے متناقض ہوں اور وہ لوگ اس سے آزاد نہ ہو سکتے ہوں کیونکہ اس صورت حال میں اگر اسلامی دعوت ان کے تصرف میں چلی گئی تو یہ اس دعوت کے لیے مفید ہونے کے بجائے مضر ہو سکتا ہے اور ان ممالک کی طرف سے جن سے ان کا معاہدہ ہے اسلامی دعوت کو ختم کر دینے کا خطرہ ہے کیونکہ وہ ممالک اسلامی دعوت کو اپنے لیے خطرہ اور اپنے مصالح و مفادات کے لیے چیلنج محسوس کریں گے۔(الجہاد والقتال فی السیاسیۃ الشرعیۃ، محمد ہیکل: جلد، 1 صفحہ، 412)

مشروط یا جزوی حمایت و تائید سے مقصود حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس صورت میں اگر کسریٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کرنا چاہتا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر حملہ آور ہوتا تو بنو شیبان کے لوگ کسریٰ کے خلاف جنگ نہیں کر سکتے تھے اسی لیے یہ بات چیت ناکام رہی۔

(التحالف السیاسی فی الاسلام، منیر الغضبان: صفحہ، 53)

مثنیٰ بن حارثہ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مشروط و محدود حمایت کی پیشکش کی تو اس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ’’اللہ کے دین کی نصرت و حمایت وہی کر سکتا ہے جو ہر طرح سے اس کا ساتھ دے‘‘ یہ آپ کی دور اندیشی اور بالغ نظری پر شاہد ہے۔ (التحالف السیاسی فی الاسلام، منیر الغضبان: صفحہ، 64)

بنو شیبان نے جو مؤقف اختیار کیا اس سے ان کی مردانگی، اخلاق حمیدہ، خصائل حسنہ کا پتہ چلتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اس سے ظاہر ہوتی ہے۔ ان لوگوں نے بالکل واضح طور سے اپنی بات پیش کی اس میں کسی طرح کا غموض نہیں رکھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس قدر حمایت کر سکتے تھے اس کو واضح کر دیا اور یہ بھی واضح کر دیا کہ دعوت اسلامی کو امراء و ملوک ناپسند کرتے ہیں۔ تقریباً دس سال بعد اللہ تعالیٰ نے جب ان کے دلوں کو نور اسلام سے منور کیا تو وہ ملوک و سلاطین کے مقابلہ میں اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کا بطل جلیل اور جنگی قائد مثنیٰ بن حارثہ شیبانی خلافت صدیقی میں فتوحات اسلامی کے عظیم قائدین میں سے ہوا اور ان کی قوم اسلام لانے کے بعد اہل فارس سے جنگ میں سب سے بہادر ثابت ہوئی حالانکہ یہی لوگ دور جاہلیت میں اہل فارس سے ڈرتے تھے، ان سے جنگ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی حقیقت تسلیم کر لینے کے باوجود اہل فارس کے ڈر سے پیچھے ہٹ گئے کہ ان سے جنگ نہ کرنی پڑے، جس کے بارے میں وہ کبھی سوچ نہیں سکتے تھے۔ اس سے اسلام کی عظمت کا پتہ چلتا ہے کہ اس دین کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے کس طرح دنیا میں مسلمانوں کو عظمت عطا فرمائی اور انہیں قیادت وسیادت سے ہمکنار فرمایا اور آخرت میں جنت کی دائمی نعمتیں تو ان کے لیے ہیں ہی۔

(التاریخ الاسلامی للحمیدی: جلد، 3 صفحہ، 69 التربیۃ القیادیۃ: جلد، 2 صفحہ، 20)


صفحہ 2 از 2