آپ رضی اللہ عنہ کی پہلی ہجرت اور ابن الدغنہ کا مؤقف -…

آپ رضی اللہ عنہ کی پہلی ہجرت اور ابن الدغنہ کا مؤقف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

دعوتی زندگی میں آپ کا زاد راہ قرآن کریم تھا، اس لیے اس کے حفظ و فہم اور فقہ وعمل کا آپ نے بھرپور اہتمام کیا۔ قرآن کے ساتھ اس اہتمام کی وجہ سے اپنی دعوت کی تبلیغ میں مہارت وجمال، اسلوب میں حسن، فکر میں گہرائی اور موضوع کو پیش کرنے میں عقلی تسلسل، سامعین کے احوال کی رعایت، برہان و دلیل میں قوت آپ کو حاصل تھی۔ (تاریخ الدعوۃ الی الاسلام فی عہد الخلفاء الراشدین: 88)

قرآن کی تلاوت کے وقت آپ بے حد متاثر ہوتے اور روتے۔ اس سے آپ کے یقین کی پختگی اور اللہ تعالیٰ نیز اس کی آیات کی تلاوت کردہ معانی کے ساتھ پوری دلجمعی کا پتہ چلتا ہے۔ شدید حزن یا گہری خوشی کے ساتھ رونے سے قوت تاثیر پیدا ہوتی ہے۔ حقیقی مومن ایک طرف صراط مستقیم کی طرف اللہ کی دی ہوئی ہدایت سے خوش ہوتا ہے تو دوسری طرف صراط مستقیم سے معمولی انحراف کا خوف بھی اس کو دامن گیر ہوتا ہے۔ اور جب ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا زندہ احساس اور بیدار فکر کا مالک انسان ہو تو یہ قرآن اس کو اخروی زندگی اور اس میں ہونے والے حساب وکتاب، عقاب و ثواب کی یاد دلاتا ہے۔ جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ جسم پر خشوع اور لرزہ طاری ہوتا ہے، آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں اور یہ منظر مشاہدہ کرنے والوں کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتا۔ اسی لیے مشرکین ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اثر انگیز منظر سے پریشان ہو گئے اور ان کو اپنی عورتوں اور بچوں کی فکر لاحق ہو گئی کہ کہیں وہ اس سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل نہ ہو جائیں۔ (التاریخ الاسلامی للحمیدی ، جلد: 19، 20 صفحہ، 209)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی تھی، آپ نے قرآن کو حفظ کیا، اپنی زندگی میں اس کو عملی جامہ پہنایا اور انتہائی غور و فکر کیا، اور بغیر علم کے آپ کوئی بات نہ کرتے، جب آپ سے ایک آیت سے متعلق دریافت کیا گیا جس کو آپ نہیں جانتے تھے تو آپ نے فوراً فرمایا:

’’کون سی زمین مجھے جگہ دے گی اور کون سا آسمان مجھے سایہ دے گا، جب کہ میں کتاب الٰہی سے متعلق ایسی بات کہوں جو اللہ کا مقصود نہیں ہے؟‘‘ (تاریخ الخلفاء للسیوطی: 117 اس روایت میں انقطاع ہے۔)

قرآن کریم کے اندر تدبر و تفکر پر دلالت کرنے والے اقوال میں سے آپ کا یہ قول ہے:

’’اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کا ذکر کیا تو ان کے اچھے اعمال کا تذکرہ کیا اور ان کے گناہوں کو معاف کر دیا۔ بندہ کہتا ہے: ان لوگوں میں ہمارا شمار کیسے ہو سکتا ہے؟ تو کہنے والا کہتا ہے: میں ان میں سے نہیں ہوں، حالانکہ وہ انھی میں سے ہوتا ہے۔‘‘ (الفتاویٰ لابن تیمیۃ: جلد، 6 صفحہ، 212)

قرآن کی جس آیت سے متعلق آپ کو اشکال پیدا ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑے ادب و احترام کے ساتھ دریافت کرتے، چنانچہ جب یہ آیت نازل ہوئی:

لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللَّـهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا (سورۃ النساء: آیت، 123)

ترجمہ: ’’حقیقت حال نہ تو تمہاری آرزو کے مطابق ہے اور نہ اہل کتاب کی امیدوں پر موقوف ہے۔ جو برا کرے گا اس کی سزا پائے گا اور اپنے لیے اللہ کے علاوہ کسی کو حامی ومددگار نہیں پائے گا۔‘‘

اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آیت تو کمر توڑ ہے، ہم میں سے کون گناہ نہیں کرتا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یا ابا بکر! ألست تنصب؟ الست تحزن؟ ألست تصیبک اللأواء؟ فذلک مما تجزون بہ  (مسند احمد: جلد، 1 صفحہ، 11علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی تمام سندیں ضعیف ہیں لیکن کثرت طرق وشواہد سے یہ صحت کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے۔ دیکھیے: مسند احمد (68))

’’اے ابوبکر!کیا تمہیں تکلیف نہیں لاحق ہوتی ہے؟ کیا تم کو حزن وغم نہیں پہنچتا ہے؟ کیا تمہیں رنج و سختی نہیں پہنچتی ہے؟ اس طرح تم کو سزا مل جاتی ہے۔‘‘

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بعض آیات کی تفسیر بھی بیان فرمائی ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد:

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ (سورۃ فصلت: آیت، 30)

ترجمہ: ’’(واقعی) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے، پھر اس پر قائم رہے ان کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے) آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو، (بلکہ) اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعدہ دیے گئے ہو۔‘‘

اس آیت کریمہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یعنی انہوں نے ایمان سے سر مو دائیں اور بائیں التفات نہ کیا اور نہ اپنے دلوں کے ساتھ غیر اللہ کی طرف متوجہ ہوئے، نہ محبت کے ساتھ اور نہ خوف کے ساتھ، نہ رجا و امید اور نہ سوال، اور توکل کے ذریعہ سے۔ بلکہ اللہ ہی سے محبت کرتے ہیں، اس کے ساتھ کسی شریک سے محبت نہیں کرتے، صرف اسی سے محبت کرتے ہیں۔ نہ کسی نفع طلبی کی خاطر اور نہ کسی نقصان کے دور کرنے کی خاطر۔ اللہ کے سوا کسی سے خوف نہیں کھاتے، چاہے کوئی بھی ہو، اور نہ اللہ کے سوا کسی کے سامنے دست سوال دراز کرتے ہیں اور نہ اللہ کے سوا کسی کی طرف اپنے دلوں سے راغب ہوتے ہیں۔ (مجموع الفتاوی: صفحہ، 22 تا 28)

اس طرح دیگر آیات کی تفسیر بھی آپ سے وارد ہے۔

علماء و مبلغین کو ہمہ وقت قرآن کی صحبت میں رہنا چاہیے، اس کی تلاوت کریں اور اس میں غور و فکر اور تدبر کریں، اس کے علوم ومعارف اور خزانہ حکمت ومعرفت کو نکال کر لوگوں کے سامنے پیش کریں، اور قرآن میں جو علمی، تشریعی اور بیانی اعجاز ہے اس کو بیان کریں، اور حروب ومصائب میں گرفتار انسانیت کی نجات کا جو راستہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب حکیم کے اندر بیان کیا ہے اسے لوگوں کے سامنے عصری اسلوب میں پیش کریں، اور دور حاضر کے ترقی یافتہ وسائل دعوت و اعلان کو اختیار کریں۔

ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ مسجد میں قریش کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت دعوت الی اللہ کا مؤثر ذریعہ ہے۔

(تاریخ الدعوۃ الاسلامیۃ فی عہد الخلفاء: صفحہ، 95)


صفحہ 2 از 2