شیعہ حدیثی ذخیره قبل از تدوین ( تحریری سرمایہ ) قسط 4 - ردِ…

شیعہ حدیثی ذخیره قبل از تدوین ( تحریری سرمایہ ) قسط 4

  مولانا سمیع اللہ سعدی

صفحہ 2 از 2

"و من هنا نجد ان التعاريف مستندة الى الظن و التخمين بل يحق ان نقول انهم اصطلحوا لمفهوم الاصل اصطلاحا جديدا۔

(دراسة حول الاصول الاربعمائتہ ، ص8)

ان تعاریف سے واضح ہوتا ہے کہ یہ سب تعاریف ظن پر بنی ہیں ، بلکہ حق بات یہ ہے کہ اصل کا ایک خاص مفہوم بیان کرنا جدید اصطلاح ہے ۔

لہند طوسی و نجاشی نے جو لفظ اصل ذکر کیا ، اس کا واقعی مفہوم کیا ہے؟ وہ کس قسم کی کتاب کو کہتے ہیں ؟ اس کے بارے میں بعد کے علمائے شیعہ نے ظن و تخمین پر مختلف تعریفیں کی ہیں ، جن میں سے بعض ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔

اسی طرح محقق فاضل جبوری اپنے پی ایچ ڈی مقالے “تراجم الاصول الار بعمائتہ" میں اصل کی آٹھ کے قریب تعریفات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

هذه التعاريف لاتخلوا من الاشكالات لأنها لم تحدد ظابطة دقيقة لمعنى الاصل۔

(تراجم رواۃ الاصول الاربعمائة ، ص15)

یہ سب تعریفات اشکالات سے خالی نہیں ہیں ، کیونکہ ان میں اصل کے مفہوم کی باریک و منضبط تحدید نہیں کی گئی ہے۔

اصول اربعمائتہ کی اصطلاح اور زمانہ تدوین

اصول اربعمائتہ کی اصطلاح کا تاریخی جائزہ لینے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ اصطلاح چھٹی صدی ہجری یا على الاقل پانچویں صدی ھجری میں (الکافی کی تصنیف کے تقریبا ڈھائی سو سال بعد ) یا اس کے بعد کی پیداوار ہے ، متقدمین اہل تشیع بشمول اصحاب کتب اربعہ و طوسی و نجاشی کے ہاں چار سو اصولوں کی اصطلاح کا کوئی تصور نہیں تھا، چار سو اصولوں کا سب سے پہلے ذکر ابن شہر آشوب مازندرانی (588ھ) نے اپنی کتاب

"معالم العلماء"

میں بیان کیا ہے ، چنانچہ لکھتے ہیں :

"صنفت الإمامية من عهد أمير المؤمنين إلى عصر أبي محمد الحسن العسكري أربعمائة کتاب، تسمى الأصول وهذا معنى قولهم :له أصل۔

(معالم العلماء ، ص 39 ۔)

 (نوٹ: یہ بات مازندرانی نے شیخ مفید سے نقل کی ہے ، لیکن شیخ مفید کی کتب میں چار سو اصولوں کا کوئی ذکر نہیں ہے فافہم )

کہ امامیہ نے حضرت علی رضی اللہ کے زمانے سے لے کر امام عسکری تک چار سو کتب لکھی ہیں ، جنہیں اصول کہا جاتا ہے ،لہ اصل کا یہی مفہوم ہے ۔ لیکن مازندرانی کے بر عکس دیگر علماء نے ان چار سو اصولوں کو خاص امام جعفر صادق کے تلامذہ کی تصنیف قرار دیا ہے ، چنانچہ امام طبرسی اپنی کتاب

اعلام الوراء باعلام الھدی

میں لکھتے ہیں :

روى عن الإمام الصادق من مشهوري أهل العلم أربعة آلاف إنسان و صنف من جواباته في المسائل أربعمائة كتاب تسمى الأصول رواها أصحابه وأصحاب ابنه موسى الكاظم۔

(اعلام الوراء باعلام الھدي ص 166)

یعنی امام جعفر صادق سے چار ہزار معروف اشخاص نے روایات لی ہیں ، انہوں نے آپ کے جوابات کو چار سو کتب میں جمع کیا ہے ، جنہیں اصول کہا جاتا ہے ، یہ کتب آپ کے شاگردوں اور آپ کے صاحبزادے امام موسی کاظم کے شاگردوں نے روایت کی ہیں ۔

یہی بات علامہ حلی اور شہید ثانی نے لکھی ہے ۔

(المعتبر شرح المختصر للحلى ،1/26 ، ذکری الشیعہ فی احکام الشریعہ للعاملی ، ص 6)

یہاں پر بجا طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ چار سو اصول ، جو شیعہ تراث حدیث کا بنیادی ماخذ و مصدر بنے ، ان کے زمانہ تدوین کے بارے میں علمائے شیعہ میں اتنا بڑا اختلاف کیسے اور کیوں پیدا ہوا کہ بعض اسے صرف امام جعفر صادق کے تلامذہ کی تصنیف قرار دیتے ہیں اور بعض حضرت علی کے زمانے سے لے کر امام عسکری کے ائمہ شیعہ کی تصنیف قرار دیتے ہیں ؟ شیعہ محقق حسین جلالی لکھتے ہیں :

تكاد الاراء في عصر التاليف تختلف اشد الاختلاف (دراسة حول الاصول الاربعمائمتہ ص 22)

یعنی ان اصولوں کی تالیف کے زمانے میں آراء کا شدید ترین اختلاف ہے۔

(جاری ہے)


صفحہ 2 از 2