سنی و شیعہ حدیثی ذخیره قبل از تدوین(قسط 3) - ردِ رافضیت |…

سنی و شیعہ حدیثی ذخیره قبل از تدوین(قسط 3)

  مولانا سمیع اللہ سعدی

صفحہ 2 از 2

یعنی صرف شیخ کلینی کے ہی اولین احوال نامعلوم نہیں ہیں ، بلکہ ان کے والد یعقوب بن اسحاق ، جن کا مقبرہ آج کل مزار عام ہے ، ان کی سیرت کے بارے میں تاریخ ہمیں زیادہ تفصیلات نہیں بتاتی ۔
یہاں بجا طور پر سوال ہوتا ہے کہ جن کے والد و خاندان کے احوال نامعلوم ہیں ، اور خود ان کی ابتدائی زندگی پردہ خفا میں رہی ، ان کی لکھی ہوئی کتاب کا علمی و تحقیقی اعتبار سے کتنا وزن ہوگا؟ یہ قضیہ اہل علم پر مخفی نہیں ہے ، جبکہ اس کے بر خلاف امام بخاری ، امام بخاری کے والد اسماعیل کے نہ صرف اپنے احوال روز روشن کی طرح معلوم ہیں ، بلکہ ان کے آباء واجداد میں سے اولین اسلام لانے والے کے احوال بھی معلوم ہیں۔ 
امام کلینی کی اولین زندگی ہی مجہول نہیں ، بلکہ ان کے اسفار علمیہ کا بھی کوئی تذکرہ کتب تاریخ میں نہیں ملتا۔ چنانچہ شیخ عبد الحسن عبد الغفار شیخ کلینی کے اسفار کے بارے میں علمائے شیعہ کے اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

"اما متى جاء الى بغداد و متی رحل الى غيربا و الى اي مدينة سافر ،كل ذلك يبقى في طي الغموض (الکلینی و الکافی، ص162)

یعنی کلینی کب بغداد آئے ، کب اور کس شہر کی طرف اسفار کئے ، یہ سب امور پردہ خفا میں ہیں ۔
اس موقع پر ایک وضاحت کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اہل تشیع کے معاصر محققین الکلینی کو اپنے
زمانے کے ایک معروف شیخ ثابت کرنے کے لئے اہل سنت کے کتب تراجم میں سے کلینی کے احوال نقل کر کے لکھتے ہیں کہ اگر شیخ کلینی اپنے زمانے کے ابتداء ہی سے ایک معروف شخصیت نہ ہوتی تو مخالف فرقہ کے اہل علم میں ان کی شہرت کیسے پہنچتی؟ لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ شیخ کلینی کا تذکرہ ان کے ہم عصر اہل سنت علماء کی کتب میں نہیں ملتا، چنانچہ شیخ عبد الحسن الغفار لکھتے ہیں :

و بعض من عاصر الكليني في بغداد او في غيربا قد اهملواترجمته كالخطيب البغدادي ،و السمعانی و یاقوت و ابن الجوزی و امثالهم (الکلینی و الکافی، ص 165)

کہ کلینی کے بعض معاصرین جیسے خطیب بغدادی ، علامہ سمعانی ، یا قوت حموی اور ابن جوزی جیسے حضرات نے کلمینی کا ترجمہ تحریر نہیں کیا۔
اس لئے محقق مذکور کی رائے یہ ہے کہ کلینی اہل سنت کے علماء میں اس وقت معروف ہوئے، جب وہ اہل تشیع میں مشہور ہوئے ، لکھتے ہیں :

ان الكليني ما اشتهر عند المذاہب الاسلاميه الاخرى الا بعد ما اشتهر عند الطائفة المحقه (الکلینی و الکافی، ص164)

یہی وجہ ہے شیخ کلینی کا تذکرہ ہمیں چھٹی صدی ہجری کے ابن عساکر ، ساتویں صدی ہجری کے ابن اثیر اور آٹھویں صدی ہجری کے علامہ ذہبی کے ہاں ذرا تفصیل سے ملتا ہے ۔
احوال کے خفا کا معاملہ صرف شیخ کلینی کے ساتھ خاص نہیں ہے ، بلکہ اولین دور کے شیعہ محدثین میں تقریبا سب کا یہی معاملہ ہے ، کہ ان کی علمی زندگی کی زیادہ تفاصیل نہیں ملتیں ، چنانچہ مرکز بحوث قُم سے الکافی کا محقق شدہ نسخہ جو محققین کی ایک جماعت کی تحقیق کے ساتھ چھپا ہے ، اس کے مضخیم مقدمے میں کتاب کے محققین لکھتے ہیں :

"هنا الكثير من الامور الغامضه في الحياة الشخصيه لعباقره الشيعه ،لم تزل طرق البحث موصدة امام اكتشافها ، لعدم وجود ما يدل على تفاصيل تلك الحياة خصوصا بعد حرق مكتبات الشيعه في القرن
الخامس الہجری (الکافی، 1/31)

یعنی شیعہ کے اکابرین کی زندگیاں بوجوہ پردہ خفا میں ہیں ، اس راز کو کھولنے میں ابھی تک بحث و تحقیق کے دروازے بند ہیں ، کیونکہ ان زندگیوں پر دلالت کر نے والا مواد موجود نہیں ہے ، خصوصا پانچویں صدی میں شیعہ مکتبات کو جلانے کے بعد یہ مواد ختم ہو گیا۔
وجہ جو بھی ہو ، کم از کم اتنی بات ثابت ہے کہ پانچویں صدی سے پہلے کے اکابر محدثین کے احوال پردہ خفا میں ہیں ، جن میں سر فہرست اولین اور سب سے معتمد مصدر کے مصنف الکلینی کے احوال ہیں۔
اس ساری تفصیل سے معلوم ہوا کہ اہل تشیع کے ہاں حدیث کی تعلیم و تعلم ، حلقات درس حدیث اور مجالس حدیث کی اس روایت کا نام و نشاں نہیں ملتا، جو اہل سنت کے قبل ازمانہ تدوین کا خاصہ رہا ہے ، جس میں محدثین کے اسفار اور ان کی علمی درسگاہوں کا بالتفصیل تذکرہ موجود ہے ۔ اسی وجہ سے اہل تشیع کے اکابر محد ثین کی علمی نشو نما اور اسفار کے احوال نامعلوم ہیں۔ 


صفحہ 2 از 2