سیرت سیدہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیرت سیدہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا

  محقق کبیر مولانا نافع رحمہ اللہ

صفحہ 4 از 4
  1.  سیدہ ہندؓ بنت عتبہ کی رشتہ داری کا تعلق رسولﷺ کے مبارک خاندان کے ساتھ یہ ہے کہ سیدہ ام حبیبہؓ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہ ام المؤمنین ہیں اور سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد حضرت ابو سفیانؓ حضرت ہند کے زوج ہیں۔ تو سیدہ ہند رضی اللہ عنہا ام حبیبہؓ کے والد کی زوجہ ہیں، اس طرح سے رشتہ داری کا دائمی تعلق موجود ہے۔
  2. سیدہ ہندؓ قبیلہ قریش کی سردار اور عقل مند عورتوں میں سے تھیں اور اپنے قبیلہ کی خواتین میں ایک نمایاں حیثیت کی حامل تھیں۔
  3. قریش مکہ کی باعزت خواتین کے ساتھ مل کر مشرف بہ اسلام ہوئیں اور ان کا اسلام منظور و مقبول ہوا۔ اور سابقہ خطاؤں کی معافی کا سامان ہو گیا۔
  4. ایمان و اسلام کی روشنی سے جب سیدہ ہند رضی اللہ عنہا بنت عتبہ کا قلب منور ہوا تو خود تراشیدہ خداؤں کو اپنے ہاتھوں سے ریزہ ریزہ کر ڈالا اور مسئلہ توحید کی اپنے کردار و عمل سے تصدیق کر دی۔
  5. پھر رسولﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور ان کو آنجنابﷺ کی جانب سے مرحبا کا اعزاز نصیب ہوا اور خوش آمدید کے کلمات سے سرفراز ہوئیں۔
  6. نبی کریمﷺ کی خدمت اقدس میں انہوں نے بڑے اخلاص کے ساتھ اظہار مودت کیا اور ان کو جواب میں ازدیاد محبت کی بشارت حاصل ہوئی جو ان کے حق میں خوش نصیبی کی علامت ہے اور خوش بختی کی دلیل ہے ۔
  7. پھر ان کو دیگر خواتین کی معیت میں بیعت نبویﷺ کا شرف عظیم حاصل ہوا جو ایک نعمت غیر مترقبہ ہے اور اخروی نجات کے لیے بہترین زریعہ ہے۔
  8. بیعت کے بعد ان کو اپنے زوج کے مال سے بقدر ضرورت مصارف کی خصوصی اجازت فرمائی گئی۔
  9. اسلام کے احیاء اور دین متین کی اشاعت کے لیے ان کو اپنے گھرانے سمیت اسلامی جنگوں میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔ یہ ان کے اخلاص ایمان کی واضح دلیل ہے ۔
  10. احادیث نبویﷺ کو نقل کرنا اور دوسروں تک پہنچانا یہ بھی ایک مستقل کارِ خیر ہے، اس میں بھی سیدہ ہند رضی اللہ عنہا بنت عتبہ نے حصہ لیا اور اشاعت دین و تبلیغ مذہب کے ثواب میں شامل ہوئیں۔

یہ تمام چیزیں سیدہ ہندؓ بنت عتبہ کی دیانت و امانت، صداقت و شرافت اور ایمان کی پختگی کی واضح علامات ہیں۔ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا)

اسلام کی ایسی نامور خواتین کو ان کی جاہلی دور کی خطاؤں اور لغزشوں کے پیش نظر برے القاب کے ساتھ یاد کرنا اور نازیبا کلمات سے ذکر کرنا مسلمانوں کے لیے ہرگز زیبا نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے

وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ‌ؕ بِئۡسَ الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِيۡمَانِ‌ ۚ وَمَنۡ لَّمۡ يَتُبۡ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ۞

(سورۃ الحجرات: آیت نمبر 11)

ترجمہ: یعنی ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو۔ ایمان لانے کے بعد برا نام گنہگاری ہے، جو کوئی توبہ نہ کرے وہی ہیں ظلم کرنے والے۔

اللہ تعالیٰ نے جب ان کو ایمان کی دولت نصیب فرمائی تو ان کی سابقہ تمام غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف فرما دیا اور جنت کی خوشخبری عطا فرمائی۔

قوله تعالىٰ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ يُذۡهِبۡنَ السَّيِّاٰتِ

(سورۃ ھود: آیت نمبر، 114)

ترجمہ: یعنی ضرور نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔

اور ارشاد نبویﷺ ان الاسلام يـهـدم مـا كـان قـبـلـه

ترجمہ: یعنی اسلام لانے سے سابقہ چیزیں ختم ہو جاتی ہیں اور ساقط ہو جاتی ہیں۔

نیز سردار دو عالمﷺ کا امت مسلمہ کے لیے فرمان ہے اذكـروا مـوتـا كـم بـالـخـيـر (یعنی اپنے موتی (مردوں) کو خیر کے ساتھ یاد کیا کرو)

نیز رسولﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ:  اذا ذکر اصحابی فامسكوا یعنی جب میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذکر آئے تو اپنی زبان کو روک لو۔ یعنی برائی سے یاد نہ کرو۔

اس بناء پر بھی حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف صالحین کو خیر کے بغیر کسی دوسری چیز کے ساتھ یاد نہیں کرنا چاہیے۔ ان کی خوبیوں کو ذکر کرنا مناسب ہے اور خامیوں کو نظر انداز کرنا لازم ہے۔ چنانچہ صحابہ کرامؓ کے حق میں علمائے عقائد نے یہ ہدایت فرمائی ہے کہ لانـذكـرهـم الابـخير یعنی ہم ان کو خیر سے ہی یاد کرتے ہیں۔

ان فرمودات کے پیش نظر سیدہ ہندؓ بنت عتبہ کو بھی خیر کے ساتھ یاد کرنا چاہیے۔ اسلام ہمیں یہی ہدایات دیتا ہے۔


صفحہ 4 از 4