سیرت سیدہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیرت سیدہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا

  محقق کبیر مولانا نافع رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 4

اس موقعہ کی گفتگو پر نظر کرنے سے سیدہ ہندؓ کی صلاحیتوں اور خوبیوں کا اندازہ ہوتا ہے کہ کیسی عقل مند خوددار اور زیرک خاتون تھیں۔ پھر رسولﷺ کی خدمت میں بڑے اخلاص کے ساتھ کیسے فصیح کلام میں معروضات پیش کیں؟ اور بیعت کنندہ خواتین کی کیسے عمدہ طریق سے نمائندگی کی؟

اس کے ساتھ ساتھ شرف بیعت کے ساتھ مشرف ہوئیں اور بار گاہ نبوت سے استغفار نبوی جیسی عظیم فضیلت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔(سبحان الله)

تنبیہ: بیعت کے موقع پر سیدہ ہندؓ بنت عتبہ کا کلام جو ہم نے اپنی کتابوں سے ذکر کیا ہے۔ اسی طرح ہند کا کلام رسالت مآبﷺ کی خدمت اقدس میں شیعہ مؤرخین نے بھی نقل کیا ہے۔ اختصار کے پیش نظر اس کا حوالہ پیش کر دینا کافی ہے۔ اہلِ علم رجوع فرما کر تسلی کر سکتے ہیں ہے۔

(دو تصنیف محمدبن علی بن طباطبائی: ابن طقطقی الشیعی تالیف ہذا، 1071 ہجری)

ضروری تنبیہ: چہار دہم صدی کے بعض مشہور مصنفین اس مقام کے مکالمہ بالا کی تفصیلات میں مؤرخ طبری کی روایت کے پیش نظر بعض نازیبا کلمات درج کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہندؓ بنت عتبہ نے اس موقعہ پر آنجنابﷺ کی خدمت میں بے باکی سے بڑا گستاخانہ کلام کیا۔ پھر اس مکالمے میں بے ادبی کی عبارت ذکر کی ہے۔

حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے اور بناء الفاسد علی الفاسد کا نمونہ ہے اور شیعہ کا پھیلایا ہوا جھوٹ اور بہتان ہے۔

ہم نے مندرجہ روایات میں صحیح واقعہ باحوالہ پیش کیا ہے جس میں کوئی گستاخانہ چیز مذکور نہیں۔ مندرجہ حوالہ جات کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔ طبری پر اعتماد نہ کریں بلکہ خود کچھ عقلمندی سے کام لینا چاہیے۔ یہ مقام (فتح مکہ) بڑائی اور تکبر کا مظاہرہ کرنے کا موقع نہیں تھا بلکہ یہ تو صلح کا موقعہ ہے۔ اس مقام پر کوئی مرد بھی گستاخی اور کج کلامی نہیں کر سکتا تھا چہ جائیکہ ایک عورت جو معافی کی امید لے کر حاضر ہو رہی ہو ، وہ بے باکی کے لہجہ میں کلام کرے۔ (غور کا مقام ہے) (فافہم)

مقولہ مشہور ہے کہ: یک مـن عـلـم راده مـن عـقـل بـايـد

اس کے مطابق ہوش مندی سے کام لیتے ہوئے اس موقعہ کے نشیب و فراز کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔

جنگ یرموک میں شرکت 13ہجری:

عورتوں کے مجاہدانہ کارنامے اور سیدہ ہند رضی اللہ عنہا کا قول جنگِ یرموک میں جس طرح مسلمان مجاہدوں نے اس جنگ عظیم میں اپنے کارنامے پیش کیے اسی طرح اہلِ اسلام کی خواتین نے اس میں پوری طرح قربانیاں پیش کیں۔ سیدنا ابو سفیانؓ کا پورا گھرانہ اس میدان کارزار میں حاضر تھا۔ خود حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ حاضر تھے۔ سیدنا ابو سفیانؓ کے دونوں فرزند سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ اور سیدنا معاویہؓ بن ابی سفیانؓ ان کی زوجہ ہندؓ بنت عتبہ ان کی لڑکی جویریہؓ بنت ابی سفیانؓ اور پھر اس جویریہؓ کا زوج (حضرت ابو سفیان کا داماد) یہ تمام حضرات اس میدان میں اسلام کی خاطر قربانی پیش کرنے کے لیے حاضر تھے۔

اس موقع کا قلیل سا تذکرہ حضرت ہندؓ بنت عقبہ کے متعلق یہاں بیان کیا جاتا ہے:

مؤرخین نے لکھا ہے کہ اہلِ اسلام کی عورتیں جنگ یرموک میں شریک ہوئیں اور ان اضطراری حالات میں قتال شدید میں حصہ لیا۔ حضرت ہندؓ مخالفین اسلام رومیوں کے قتال کے لیے مسلمانوں کو قال پر ترغیب دلاتی تھیں اور دشمنوں کے خلاف تحریض کرتی تھیں۔ بعض ہنگامی حالات میں جوش دلاتے ہوئے۔

سیدہ ہندؓ فرماتی تھیں کہ اے مسلمانو! ان غیر مختونوں کو اپنی تیغوں سے ٹکڑے کر ڈالو۔

تـقـول عـضـد والـغـلـفـان بـسـيـوفـكـم

اسلام میں ان کی نہایت شاندار خدمات ہیں جو انہوں نے عمر رسیدہ ہونے کے باوجود سر انجام دیں اور میدان کارزار میں اپنے زوج سمیت شریک ہوئیں۔ یہ سب کچھ اعلاء کلمتہ الحق کی خاطر اور دین متین کی اشاعت کے لیے تھا۔

روایت حدیث: 

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں یہ چیز مروج تھی کہ سید الکونینﷺ کے فرامین و اقوال اور آپ کے اعمال کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک دو سرے سے نقل فرمایا کرتے تھے اور اس کو ایک نیکی اور سعادت سمجھ کر سر انجام دیا کرتے تھے۔ یہی چیز آگے امت مسلمہ تک دین کے پہنچنے کا ذریعہ ثابت ہوئی۔ اس سلسلہ میں حضرت ہندؓ بنت عقبہ سے بھی نقل روایت کا سلسلہ محدثین کے نزدیک ثابت ہے۔

محدثین لکھتے ہیں کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سیدہ ہند رضی اللہ عنہا سے روایت نقل فرمائی ہے اور ان کے فرزند سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی ماں (سیدہ ہندؓ بنت عتبہ) سے حدیث نقل کی ہے۔

وفات:

سیدہ ہند رضی اللہ عنہا بنت عتبہ جنگ یرموک سے واپسی پر مدینہ طیبہ میں تشریف لائیں اور پہلے سے مدینہ طیبہ ہی میں ان کا قیام تھا اور ان کے زوج سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ بھی مدینہ منورہ میں ہی مقیم ہو چکے تھے۔ عمر کا آخری حصہ اسی مقدس شہر میں پورا کیا اور اپنے خاوند سے پہلے ان کا مدینہ منورہ ہی میں 14 ہجری میں انتقال ہوا۔ (اگرچہ ان کی وفات کے سلسلہ میں بعض دیگر اقوال بھی پائے جاتے ہیں مگر مشہور قول کے مطابق 14 ہجری ہی ہے) ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ جس روز سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد شریف حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اس روز حضرت ہندؓ بنت عتبہ کا بھی انتقال ہوا۔

ومـاتـت يـوم مـات ابوقحافه" في سنه اربع عشره وهي ام معاوية بن ابي سفيانؓ

چند اہم گزارشات:

سیدہ ہندؓ بنت عتبہ کے متعلق مختصر طور پر ذیل میں چند چیزیں ذکر کی جاتی ہیں جو سابقہ عنوانات کے خلاصہ کے طور پر حاضرِ خدمت ہیں۔

صفحہ 3 از 4