سیرت سیدہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیرت سیدہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا

  محقق کبیر مولانا نافع رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 4

پھر رسولﷺ نے سابقہ خطاؤں اور عداوتوں کے پیش نظر کوئی سرزنش اور تحدید نہیں فرمائی بلکہ ہندؓ بنت عتبہ اور ان کے خاوند سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ دونوں کے ساتھ رسولﷺ نے کمال شفقت کی بناء پر اخلاص اور دوستی و محبت کا اظہار فرمایا اور آپ کا یہ مشفقانہ رویہ ان کے ساتھ ہمیشہ قائم رہا۔

اس چیز کو علماء نے مندرجہ ذیل الفاظ میں نقل فرمایا ہے:

فان ابا سفيان وامراته لما اسلما لم يكن رسول اللهﷺ يخيفهما بل اظهر الصفاء والود لهما وكذلك كان الامر من جانبه عليه السلام لهما (رضي الله تعالى عنه)

(تفسیر ابن کثیر الجزء الرابع: صفحہ، 354 تحت الآیۃ النساء، آخر سورہ ممتحنہ)

ان تصریحات کی روشنی میں یہ چیز واضح ہو گئی کہ ان دونوں زوجین کو جب رسولﷺ نے کمال شفقت و عنایات سے نوازا ہے تو ان کے حق میں ہتک آمیز جملے اور نازیبا کلمات استعمال کرنا مناسب نہیں ہے۔

موقع ہذا کی گفتگو اور اظہارِ مودت:

اس کے بعد بخاری شریف کی روایت اور اس کے شروح کے مطابق مندرجہ ذیل گفتگو اس موقعہ پر ہوئی۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ فتح مکہ کے روز ہندؓ بن عتبہ آئیں اور عرض کرنے لگی یا رسولﷺ آج سے پہلے زمین پر کوئی ایسا گھرانہ نہیں تھا جو میرے نزدیک رسولﷺ کے گھر سے زیادہ ذلیل اور ناپسند ہو مگر آج صفحہ ہستی پر کوئی ایسا گھرانہ نہیں جو میرے نزدیک رسولﷺ کے خاندان اور گھرانے سے زیادہ محبوب اور معزز ہو تو اس کے جواب میں رسولﷺ نے سیدہ ہند رضی اللہ عنہا کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا اور حلف کے ساتھ اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا تو ابھی اس بات میں بڑھے گی یعنی تیرے قلب میں ایمان و یقین جا گزیں ہو گا۔ اور تیری محبت اللہ اور رسولﷺ کے حق میں مزید ہو گی۔ اور ان کے ساتھ بغض رکھنے سے تو پوری طرح اعراض کرے گی اور نفرت و عداوت سے تو رجوع کر لے گی۔

قال وأيضًا والذي نفسي بيده۔

یہاں سے معلوم ہوا کہ سیدہ ہندؓ راست گو خاتون تھیں اور نیز واضح ہوا کہ ان کو آنجنابﷺ کے ساتھ قلبی محبت تھی اور آنجنابﷺ بھی ان کے ساتھ شفقت و محبت کا سلوک فرماتے تھے۔

واقعہ بیعت النساء اور سیدہ ہند رضی اللہ عنہا بنت عتبہ کی معروضات:

جب فتح مکہ ہو چکی تو رسولﷺ کی خدمت اقدس میں اسلام لانے کے بعد قریش مکہ کی عورتیں متعدد بار بیعت کے لیے یکے بعد دیگرے حاضر ہوئیں اور قرآن مجید کی آیت جو سورہ ممتحنہ کے آخر میں ہے ان ایام میں نازل ہو چکی تھی۔

يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ اِذَا جَآءَكَ الۡمُؤۡمِنٰتُ يُبَايِعۡنَكَ عَلٰٓى اَنۡ لَّا يُشۡرِكۡنَ بِاللّٰهِ شَيۡـئًا وَّلَا يَسۡرِقۡنَ وَلَا يَزۡنِيۡنَ وَلَا يَقۡتُلۡنَ اَوۡلَادَهُنَّ وَلَا يَاۡتِيۡنَ بِبُهۡتَانٍ يَّفۡتَرِيۡنَهٗ بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِنَّ وَاَرۡجُلِهِنَّ وَلَا يَعۡصِيۡنَكَ فِىۡ مَعۡرُوۡفٍ‌ فَبَايِعۡهُنَّ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُنَّ اللّٰهَ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏ ۞

(سورۃ الممتحنہ: آیت نمبر 12)

ترجمہ: اے نبی جب آئیں تیرے پاس مسلمان عورتیں بیعت کرنے کو اس بات پر کہ شریک نہ ٹھہرائیں اللہ کا کسی کو اور چوری نہ کریں اور بدکاری نہ کریں اور اپنی اولاد کو نہ مار ڈالیں اور طوفان نہ لائیں باندھ کر اپنے ہاتھوں اور پاؤں میں اور تیری نافرمانی نہ کریں کسی بھلے کام میں تو تو ان کو بیعت کرلے اور معافی مانگ ان کے واسطے اللہ سے بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اس موقع پر دیگر خواتین کے ساتھ سیدہ ہندؓ بنت عتبہ بھی حاضر خدمت ہوئیں اور قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت کریمہ کے مطابق بیعت کی شرائط ان کے سامنے آئیں تو پہلی شرط یہ تھی کہ ان لا يـشـر كـن بـالـلـه شـيـئـا اللہ کے ساتھ وہ کسی چیز کو شریک نہیں بنائیں گی۔

اس وقت سیدہ ہند رضی اللہ عنہا بنت عتبہ نے عرض کیا کہ (كـيـف نطـمـع ان تـقبـل مـنـا مـالـم تقبله من الرجال) ہم اس بات کا کس طرح طمع کر سکتی ہیں۔ جو چیز آپ نے مردوں سے قبول نہیں کی وہ ہم سے قبول کر لی جائے گی یعنی جب شرک کرنا مردوں کے لیے جائز نہیں رکھا گیا تو ہمیں اس بات کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے؟ یعنی ہم شرک کے نزدیک نہیں جائیں گی اور اس سے دور رہیں گی۔

پھر رسولﷺ نے سرقہ (چوری) نہ کرنے کی دوسری شرط جب پیش فرمائی تو سیدہ ہندؓ بنت عتبہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے خاوند ابو سفیان رضی اللہ عنہ مال کو روک رکھنے والے ہیں اور جو کچھ وہ دیتے ہیں وہ میرے لیے اور میری اولاد کے لیے کفایت نہیں کرتا۔ تو کیا مجھے اپنے خاوند کے مال سے بقدر ضرورت لے لینا حلال ہے؟ سیدنا ابو سفیانؓ پاس موجود تھے، یہ بات سن کر انہوں نے جنابﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ جو کچھ مال اس نے سابقاً لیا ہے یا اب لے گی تو اس کے لیے حلال ہے، اس کی اسے اجازت ہے۔ رسولﷺ نے ان دونوں کا کلام سماعت فرما کر تبسم فرمایا اور بعض روایات کے اعتبار سے ہندؓ بنت عتبہ کے اس مطالبہ پر خود رسولﷺ نے بقدر کفایت مال لینے کی ہندؓ کو خصوصی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔

پھر یہ شرط پیش ہوئی کہ عورتیں بدکاری نہیں کریں گی تو اس پر سیدہ ہند رضی اللہ عنہا نے بطور استعجاب عرض کیا کہ آیا آزاد شریف عورت بھی ایسا کام کرتی ہے؟ اس کے بعد یہ شرط پیش فرمائی گئی کہ اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی تو ہند رضی اللہ عنہا نے عجیب و ملیح کلام کے ساتھ عرض خدمت اقدس کیا کہ ہم نے اپنی چھوٹی اولاد کو پرورش کر کے بڑا کیا۔ جب وہ بڑے ہو گئے تو آپ لوگوں نے ان کو میدان بدر میں قتل کر ڈالا۔ (حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کا لڑکا حنظلہ بدر کے دن مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا)

ربـيـنـاهـم صغارا وقتلتهم كبارا يوم بدر.

یہ نمکین کلام سن کر سیدنا عمرؓ جو پاس ہی موجود تھے وہ بھی اور رسولﷺ ہنس پڑے اور تبسم فرمانے لگے۔

اس موقعہ پر آخری چیز عورتوں کے سامنے یہ رکھی گئی تھی کہ معروف یعنی بہتر بات میں نافرمانی نہیں کریں گی یعنی اچھے اور مشروع کام میں اطاعت کرنی ہو گی۔ بعض روایات کی بناء پر اس وقت سیدہ ہند رضی اللہ عنہا نے رسالت مآبﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم اس مجلس میں اطاعت و فرمانبرداری کے لیے ہی حاضر ہوئی ہیں ہمارے دل میں نافرمانی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

صفحہ 2 از 4