اسلامی کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ - دفاعِ اہلِ سنت…

اسلامی کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

  حضرت مولانا علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ

صفحہ 5 از 5

جواب: یہ جاہلانہ اور بالکل لغو اعتراض ہے، عربی سے معمولی واقفیت رکھنے والا شخص بھی اس کے کھوکھلے پن کو خوب سمجھ سکتا ہے اور عربی جاننے والا ہر شیعہ سنی اس اعتراض کو بے جا اور غلط قرار دیتا ہے، لہٰذا ہم اس بات کے پیش نظر خود شیعہ علماء کی کچھ عبارتیں پیش کرتے ہیں، جن میں اَنْ یا اَنّ یا شہادۃ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، مگر انہوں نے بھی اس کا ترجمہ صرف لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ سے کیا ہے۔

1: قال رسول اللہﷺ اربع من کن فیه کان فی نور اللہ الاعظم من کانت عصمۃ امرہ شہادۃ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ وَاَنّی رَسُولُ اللّٰه

(خصال شیخ صدوق قمی :صفحہ 210، ایران)

تفسیر عیاشی اور الخصال میں اس کا ترجمہ یوں ہے کہ جناب رسول اللہﷺ سے یہ حدیث مروی ہے کہ جس شخص میں یہ چار خصلتیں ہوں گی اس کو خدا تعالیٰ کہ سب سے بڑے نور میں جگہ ملے گی پہلی چیز یہ ہے کہ اس کے ایمان کی ڈھال یہ کلمہ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ

(حاشیہ ترجمہ مقبول: شیعہ صفحہ 45)

2: اِنَّ اللّٰهَ یَامُرُ بِالعَدلِ وَ الاِحسَانِ الخ قال: العدل شہادۃ اَنْ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَان محمداً رَّسُولُ اللّٰه۔

(تفسیر قمی سورۃ نحل آیت: 90)

تفسیر قمی اور عیاشی میں جو حدیثیں اس آیت کی تفسیر میں منقول ہیں، ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ العدل سے مراد کلمہ شہادت لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ  ہے۔

(ترجمہ مقبول حاشیہ: صفحہ 155)

3: فَقَالَ لَھُم رَسُولُ اللّٰہﷺ تَشھَدُونَ اَنْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ۔

(تفسیر قمی: جلد 2، صفحہ 228 نجف)

جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا بس اتنا کہہ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ۔

(حاشیہ مقبول 904)

4: علی بن ابراہیم گفتہ کہ عدل گواہی لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ است۔

(حیات القلوب فارسی: جلد 3، صفحہ 184، ایران ملا محمد باقر مجلسی)

علی بن ابراہیم (مصنف تفسیر قمی) نے کہا ہے کہ عدل سے مراد لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ کی گواہی دینا ہے۔

(حیات القلوب اردو :جلد 3، صفحہ 361، ناشر امامیہ کتب خانہ لاہور)

5: عن عبد اللہ فی قول اللہ عزوجل (فکاتبوھم ان علمتم فیھم خیرا) قال الخیر ان یشہد لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ وَاَنّ مُحَمَّدا رَّسُوْلُ ﷲ۔ 

(من لا یحضرہ الفقیہ: جلد 3، صفحہ 178، ایران) 

تفسیر المتقن اردو صفحہ 459، تالیف سید امداد حسین کاظمی شہیدی:

سیدنا جعفر صادقؒ سے منقول ہے کہ خیر سے مراد کہ وہ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ کی شہادت دے۔

(تفسیر المتقن صفحہ 459، سورۃ نور سید امداد حسین کاظمی شہیدی)

6: من لا یحضرہ الفقیہ کی اسی عربی عبارت کا ترجمہ حاشیہ ترجمہ مقبول صفحہ 704 میں یوں کیا گیا ہے۔

الفقیہ میں سیدنا جعفر صادقؒ سے منقول ہے کہ خیر سے مراد ہے کہ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ کا قائل ہو۔

7: ثم بعث الله محمدﷺ و هو بمكة عشر سنين فلم يمت بمكة في تلك العشر سنين احد يشهد ان لا اله الله و ان محمداً رسول الله الا أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ بِاقْرَارِہ

(اصول کافی: جلد 2، صفحہ 29، کتاب الايمان و الكفر مطبوعه ايران)

کتاب الشافی ترجمه اصول کافی:

اس کے بعد اللہ نے حضرت محمدﷺ کو بھیجا وہ مکہ میں دس سال اس طرح رہے کہ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ کی گواہی دے کر مرنے والا کوئی نہ تھا، مگر خدا نے اس کو اس لمحہ کی وجہ سے جنت میں داخل فرما دیا۔  

(الشافی ترجمہ اصول کافی: جلد 2، صفحہ 43، حیات القلوب) 

8: اصول کافی:

وَ شَهِدُوا اَنْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اَنَّ مُحَمَّداً رَّسُولُ اللّٰه۔ 

(اصول کافی جلد 2 صفحہ 411 کتاب الايمان و الكفر، ایران) 

حیات القلوب: جلد 2، صفحہ 472، طبع ایران تالیف باقر مجلسی (المتوفی سنہ1111ھ)

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰه گفتند

سید بشارت حسین شیعہ نے حیات القلوب کی عبارت کا یہ ترجمہ کیا ہے اور لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰه کے قائل ہوئے۔

(مترجم حیات القلوب: جلد 2، صفحہ 717)

9: من لا يحضره الفقيہ:

قال شهادة اَنْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّداً رَّسُولُ اللّٰه- 

(من لا يحضره الفقيہ صفحہ 131) 

رساله اثبات علی ولی الله صفحہ 45، تالیف عبد الوہاب

حیدری لاڑکانہ:

آپ نے فرمایا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰه کی گواہی ہے۔

10: تفسیر صافی:

قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قِيلَ نَزَلَتْ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي اسدٍ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فِي سَنَةٍ جَدْبَةٍ وَ أَظْهَرُوا الشَّهَادَتَيْنِ۔ 

(تفسیر صافی: جلد 2، صفحہ 595، سورة حجرات)

ترجمہ مقبول:

قَالَتِ الأَعْرَابُ آمَنَّا تفسیر صافی میں ہے کہ یہ آیت بنی اسد کے ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی جو قحط سالی کے زمانے میں مدینہ منورہ آگئے تھے اور اظہار كلمہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰه کرتے تھے۔ 

(ترجمہ مقبول حاشیہ: 1030)

 تنبیہ: 

قارئین کرام! آپ کو معلوم ہوا کہ شیعہ مجتہد علماء کے ہاں بھی ان عربی عبارتوں میں سے صرف کلمہ کے دو حصے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰهُ اور مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰه مراد ہیں، اہلِ سنّت مناظر حضرات کو مندرجہ بالا عبارات ذہن نشین رکھنا ضروری ہیں۔


صفحہ 5 از 5