اسلامی کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ - دفاعِ اہلِ سنت…

اسلامی کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

  حضرت مولانا علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ

صفحہ 4 از 5

ترجمہ: علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب اللہ تعالیٰ کے قول: وَكَانَ تَحۡتَهٗ كَنۡزٌ لَّهُمَا(سورۃ الکہف: آیت 82) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ وہ ایک سونے کی تختی تھی جس پر لکھا ہوا تھا لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ اور یہ کہ تعجب ہے اس پر جس کو یاد ہے کہ موت برحق ہے پھر وہ کیسے خوش ہوتا ہے اور تعجب ہے اس پر جس کو یاد ہے کہ جہنم برحق ہے پھر وہ کیسے ہنستا ہے اور تعجب ہے اس پر جس کو یاد ہے تقدیر برحق ہے پھر وہ کیوں پریشان رہتا ہے اور تعجب ہے اس پر جو دیکھتا ہے دنیا کو اور (وقتاً فوقتاً) اہلِ دنیا کے ساتھ اس کی گردش کو وہ کیسے اس پر مطمئن ہو جاتا ہے۔

12: عَنْ ابْنِ عَبَاس رضی اللہ عنہ يَا أَيُّهَا لَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَتَبَيَّنُوا نَزَلَتْ فِي رَجُل مِنْ بَنِي مُرَّة بْنِ عَوْفِ بْنِ سَعْدِ بْنِ دِينَارٍ يُقَالُ لَهُ هِرْدَاسُ بْنُ نَهِيكٍ وَ كَانَ مِنْ أَهْلِ فَدَكَ وَ كَانَ مُسْلِماً لَمْ يُسْلِمُ کو مِنْ قَوْمِهِ غَيْرُهُ فَسَمِعُوا بِسَرِيَّةِ رَسُولِ اللّٰهِﷺ تُرِيدُ هُمْ فَنَزَلَ مِنَ الْجَبَلِ يَقُول لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰه فَتَغَشَّاهُ أُسَامَةٌ فَقَتَلَهُ وَاسْتَاقَ غَنَمَهُ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَة الآيَةُ فِيهِ۔ 

(معرفۃ الصحابہ لابی نعيم اصفهانی حدیث نمبر: 5610، باب من اسمہ مجمع)

ترجمہ: سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ آیت، يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَتَبَـيَّـنُوۡا (سورۃ النساء: آیت: 94) بنی مرہ بن عوف بن سعد بن دینار کے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جس کو ہرداس بن نہیک کہا جاتا تھا اور وہ اہلِ فدک میں سے تھا اور وہ اکیلا مسلمان ہوا تھا اور اس کی قوم سے دوسرا کوئی بھی مسلمان نہیں ہوا تھا، پس جب انہوں نے سنا کہ رسول اللہﷺ کا لشکر اس طرف آرہا ہے، تو وہ شخص پہاڑ سے اترا اور لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ پڑھتا ہوا آیا لیکن اسامہ نے حملہ کر کے قتل کر دیا اور اس کی بکریوں پر قبضہ کر لیا تو اس کے متعلق یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اے ایمان والو جب تم جہاد کے لیے جاؤ تو پوری تحقیق کر لو۔

13: مَكْتُوبٌ عَلَى الْعَرْشِ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ لَا أُعَذِّبُ مَنْ قَالَهَا۔

(الاحاديث القدسیہ حديث نمبر: 2، جامع الجوامع او الجامع الكبير للسيوطی حريف الميم، جامع الاحاديث حرف الى)

ترجمہ: عرش پر لکھا ہوا ہے لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ اخلاص سے اس کلمہ کے پڑھنے والے کو میں عذاب نہیں دوں گا۔

14: يَقُولُ اللّٰهُ قَرَبُوا أَهْلَ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ مِنْ ظِلَّ عَرْشِیْ فَإِنِّي أُحِبُّهُمْ-

(جامع الجوامع او الجامع الكبير للسيوطى حرف الياء جامع الاحاديث حديث 26981، باب ياء النداء مع الياء)

ترجمہ: لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ اخلاص سے پڑھنے والوں کو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ان کو میرے عرش کے سائے کے قریب کرو، یقیناً میں ان سے محبت کرتا ہوں (وہ مجھے محبوب ہیں)۔

15) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَائِطِ أَنَّ النَّبِيَّﷺ ضَحَى بِكَبْشَيْنِ امْلَحَيْنِ ذَبَحَ أَحَدَهُمَا عَنْ نَفْسِهِ وَالْآخَرَ عَمَّنْ قَالَ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ۔

(كتاب الآثار ويليہ الايثار: حدیث نمبر 790، صفحہ 175، باب الاضحیۃ والخصاء الفحل) 

ترجمہ: نبیﷺ نے دو مینڈھوں کی قربانی کر کے فرمایا کہ ایک میری طرف سے اور دوسرا ہر اس امتی کی طرف سے جس نے لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ پڑھا۔

16: عَنْ أَبِي دَرْدَاءِ رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِى لِي حَوْلَ الْعَرْشِ فَرِيدَةً خَضَرَاءَ مَكْتُوبٌ فِيهَا بِقَلَمٍ مِنْ نُورٍ أَبْيَضَ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ أَبُوبَكْرٍ الصديق۔

(كنز العمال فی سنن الاقوال والافعال حدیث نمبر 32579، الفصل الثانی في فضائل الخلفاء الاربعۃ رضوان الله عليهم اجمعين صفحہ 549، جلد 11)

ترجمہ: معراج والی رات کو میں نے ایک سبز موتی دیکھا جس پر نور کے سفید قلم سے لکھا ہوا تھا لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ ابوبکر صدیق ہیں۔

17: عَنْ سَلْمَان لَمَّا خَلَقَ اللّٰهُ الْعَرْشَ كَتَبَ عَلَيْهِ بِقَلَمٍ مِنْ نُورِ طُولُ الْقَلَمِ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ بِهِ أَخُذُ وَ بِهِ أعطى و امتُهُ أَفْضَلُ الْأُمَمِ وَأَفْضَلُهَا أَبُوبَكْرِنِ الصديق۔

(كنز العمال فی سنن الاقوال والافعال حدیث نمبر 32581، باب الفصل الثاني في فضائل الخلفاء الاربعۃ رضوان الله عليهم اجمعين صفحہ 550، جلد 11)

ترجمہ: جب اللہ تعالیٰ نے عرش کو پیدا فرمایا تو اس پر بھی مشرق و مغرب کے نور کے لمبے قلم سے لکھا لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ اس کے ذریعے لیتا اور دیتا ہوں اور اس کلمے والی امت سب امتوں میں سے بہتر ہوگی اور اس میں سب سے بہتر ابوبکر صدیق ہی ہوگا۔

مذکورہ تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ کلمہ صرف دو حصوں پر مشتمل ہے اور اہلِ تشیع کے اضافہ کردہ تین حصے ان کے من گھڑت ہیں، چونکہ کلمہ کے ان دو حصوں میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ اسلام کا دعویٰ کرنے والے سب لوگ پڑھتے ہیں اس لیے صرف نمونہ کے طور پر یہاں چند روایات پیش کی گئیں، ورنہ احادیث اور آثار کا بے انتہا ذخیرہ موجود ہے، جس سے بخوبی معلوم ہو جاتا ہے کہ اسلامی کلمہ کے صرف دو ہی حصے ہیں، زیادہ نہیں۔

ایک جاہلانہ اعتراض: 

ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ کلمہ توحید و رسالت میں عربی عبارت کبھی کبھی اَن یا اَنَّ کے ساتھ بھی آتی ہے اور کبھی شہادۃ کا لفظ بھی آتا ہے اور یہ صرف عربی گرائمر کی وجہ سے آتا ہے ورنہ کلمہ کے حصے صرف وہی دو ہیں یعنی لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ شیعہ اکثر ان پڑھ اور جاہل لوگوں کے سامنے یہ اعتراض کرتے ہیں:

سوال: اگر کلمہ صرف لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ ہے تو یہ دوسرے الفاظ اَنْ اور اَنّ وغیرہ کہاں سے آئے؟

صفحہ 4 از 5