اسلامی کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ - دفاعِ اہلِ سنت…

اسلامی کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

  حضرت مولانا علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ

صفحہ 3 از 5

جب اعرابی رسول اللہﷺ کی خدمت سے نکلا تو راستے میں ایک ہزار افراد سے ملاقات ہوئی جو سب تیر و تلوار اور نیزوں کے ساتھ مسلح تھے۔ اعرابی نے ان سے پوچھا کس ارادے سے نکلے ہو؟ وہ بولے ہم اس شخص کے قتل کے ارادے سے نکلے ہیں جو اپنے آپ کو نبی کہلواتا ہے۔ اعرابی نے کہا میں تو لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ کی گواہی دیتا ہوں انہوں نے کہا: اچھا تو تو اتنے میں بد دین ہو گیا؟ لیکن پھر اعرابی نے مذکورہ گوہ والا قصہ بیان کیا تو سب کے سب بول اٹھے لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ

فَبَلَغَ ذلكَ النَّبِيَّﷺ فَتَلْقَاهُمْ فِي رِدَاءٍ فَتَزَلُوا عَنْ ركبهم يُقبلُونَ مَا وَلُوا مِنْهُ وَهُمْ يَقُولُونَ، لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ مُرُنَا بِأَمْرِكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَقَالَ تدخُلُو تَحْتَ رَايَةِ خَالِدِ بْنِ وَلِيدٍ قَالَ فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ الْعَرَبِ أَمَنَ مِنْهُمُ الْفِ جَمِيعًا إِلَّا بَنُو سُلَيْمٍ۔

ترجمہ: پھر یہ ماجرا حضور اکرمﷺ کی خدمت میں پہنچا تو آپ چادر زیب تن فرما کر ان سے ملاقات اور استقبال کے ارادے سے نکلے وہ (آپ کو دیکھ کر) سواریوں سے نیچے اتر گئے اور حضورﷺ کو بوسے دیتے ہوئے کہتے جاتے تھے، لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ پھر انہوں نے پوچھا کہ ہمیں کوئی حکم دیجیئے حضورﷺ نے فرمایا کہ خالد بن ولید کے جھنڈے کے نیچے لشکر اسلام میں داخل ہو جاؤ۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بنی سلیم کے علاوہ کوئی قبیلہ ایسا نہیں ہے جس کے ایک ہزار افراد ایک ہی وقت میں اکٹھے مسلمان ہوئے ہوں۔

(المعجم الصغير للطبرانی : جلد 2 صفحہ 66، طبع بیروت)

8) عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قَالَ أَوْحَى اللّٰهُ إِلَى عِيسَىؑ یَا عِيسَى أَمِنْ بِمُحَمَّدٍ وَ أَمُرُ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْ أُمَّتِكَ أَنْ يُؤْمِنُوا بِهِ فَلَوْ لا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ آدَمَ وَلَوْ لَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ الْجَنَّةَ وَلَا النَّارَ وَ قَدْ خَلَقْتُ آدَمَ الْعَرْشَ عَلَى الْمَاءِ فَاضْطَرَبَ فَكَتَبْتُ عَلَيْهِ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ فَسَكَن هذا حديث صحيح الاسناد۔

(المستدرك على الصحيحين للحاكم: حديث نمبر 4193 باب من كتاب آیات رسول اللہ المستدرك على الصحيحين للحاكم مع تعليقات الذهبي حدیث نمبر: 4227 باب و من کتاب آیات رسول اللہ)

ترجمہ: ابنِ عباسؓ نے فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ پر وحی فرمائی کہ اے عیسیٰ محمدﷺ پر ایمان لے آؤ اور حکم دو کہ آپ کی امت میں سے جو ان کو پائے وہ ان پر (یعنی حضرت محمدﷺ) ایمان لے آئے پس اگر محمد ﷺ نہ ہوتے تو میں نے آدم کو پیدا نہ کیا ہوتا اور اگر محمدﷺ نہ ہوتے تو میں نہ جنت پیدا کرتا اور نہ جہنم اور تحقیق میں نے عرش کو پیدا کر کے پانی پر رکھا تو ہلنے لگا پھر میں نے اس پر لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ لکھا تو سکون میں آگیا۔

9) عَنْ أَبِي ذَرٍ رَفَعَهُ قَالَ إِنَّ الْكَنْزَ الَّذِي ذَكَرَ اللّٰهُ فِي كِتَابِهِ لَو مِنْ ذَهَبٍ مُصَمَّتٍ عَجِبْتُ لِمَنْ أَيْقن بِالْقَدْرِ لِمَ نَصَبَ وَ عَجِبْتُ لِمَنْ ذَكَرَ النَّارَ لِمَ ضَحِكَ؟ وَ عَجِبْتُ لِمَنْ ذَكَرَ الْمَوْتَ لِمَ غَفَلَ؟ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رسُولُ اللّٰه۔

(البحر الزخار مسند البزار : حديث نمبر 3437 باب ان الكنز الذی ذكر الله فی)

ترجمہ: سیدنا ابوذرؓ نے رسول اللہﷺ سے نقل فرمایا: کہ تحقیق (دو یتیموں) کا وہ خزانہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں (خضر علیہ السلام کے قصہ کے درمیان سورۃ کہف میں) ذکر فرمایا ہے، وہ سونے کی ایک محفوظ تختی ہے (جس میں لکھا ہوا ہے) کہ مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو تقدیر پر یقین رکھتا ہے (پھر کسی چیز کے نہ ملنے پر) کیوں غمگین ہوتا ہے اور تعجب ہے اس شخص پر جس کو جہنم یاد ہے پھر وہ کیوں ہنستا ہے، اور تعجب ہے اس شخص پر جس کو موت یاد ہے پھر وہ اس سے کیوں غفلت کرتا ہے لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ۔

10: عَنْ ابْنِ عَبَّاس رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ مَا فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ أَو مَا فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ شَكٍّ عَلِيُّ بْنُ جَمِيلِ مَا عَلَيْهَا وَ رَقَةٌ إِلَّا مَكْتُوبٌ عَلَيْهَا لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ أَبُوبَكْرِنِ الصِّدِيقُ عُمَرُ الْقَارُوقُ، عُثْمَانُ ذُوْ النُّوْرِیْن۔

(المعجم الكبير للطبرانی حدیث: 1093 باب 3)

ترجمہ: جنت میں کوئی بھی درخت ایسا نہیں جس کے ہر پتے پر یہ نہ لکھا ہوا ہو کہ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ، ابوبکر صدیق ہیں، عمر فاروق ہیں، عثمان دو نور والے ہیں۔

11: عَنْ عَلِي بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ عز وجل (وَكَانَ تَحۡتَهٗ كَنۡزٌ لَّهُمَا، قَالَ لَوْمٌ مِنْ نَهَبٍ مَكْتُوبٌ فِيهِ. لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰه عَجَبًا لِمَنْ يَذْكُرُ أَنَّ الْمَوْتَ حَقٌّ كَيْفَ يَفْرَحُ، وَ عَجَبًا لِمَنْ يَذْكُرُ أَنَّ النَّارَ حَقٌّ كَيْفَ يَضْحَكُ، وَ عَجَبًا لِمَنْ يَذْكُرُ أَنَّ الْقَدْرَ حَقُّ كَيْفَ يَحْزُنُ، وَ عَجَبًا لِمَنْ يَرَى الدُّنْيَا وَ تَصَرُّفَهَا بِأَهْلِهَا حَالاً بَعْدَ حَالٍ كَيْفَ يَطْمَئِنُّ إِلَيْهَا۔

(شعب الايمان للبيہقى حديث نمبر 212، باب وكان تحته كنز لهما، جامع الاحاديث حديث نمبر 33843، باب مسند علی بن ابی طالب)

صفحہ 3 از 5