اسلامی کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ - دفاعِ اہلِ سنت…

اسلامی کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

  حضرت مولانا علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ

صفحہ 2 از 5

باب الامر بقتال الناس حتىٰ يقولوا لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ۔

(مسلم کتاب الايمان)

ترجمہ: یعنی کافر لوگوں سے جنگ جاری رکھنے کا حکم جب تک کہ وہ لا اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ نہ کہہ لیں، اس باب کی مناسبت سے امام صاحب نے مذکورہ حدیث بھی ذکر فرمائی ہے۔

2: سیدنا عبد اللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: أُمِرْتُ أَنْ أَقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰى يَشْهَدُوا أَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ وَأَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللّٰه 

(بخاری، مسلم، مشكوٰۃ: كتاب الايمان)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے قتال جاری رکھوں حتٰی کہ وه لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ کی گواہی دے دیں۔

3: قَالَ رَسُولُ اللهﷺ لِمَعَاذِ بنْ جَبَلٌ حَيْن بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ، إِنَّكَ سَتَاتِي قَوْماً مِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰه وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهﷺ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرُهُمُ أَنَّ اللّٰه قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ و ليلة۔

(بخاري كتاب المغازي)

ترجمہ: جب حضور اکرمﷺ نے سیدنا معاذ بن جبلؓ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا (اے معاذ) تو اہلِ کتاب میں سے ایک قوم کے پاس جا رہا ہے۔ لہٰذا جب تو ان کے پاس پہنچے تو ان کو دعوت دے کہ وہ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ کی گواہی دیں۔ اگر وہ اس بات کی گواہی دے کر تیری بات مان لیں تو ان کو بتا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔

4: سیدہ جریرہؓ فرماتی ہیں:

بَايَعْتُ رَسُولَ اللهﷺ شَهَادَةً أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰه وَأَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللّٰه۔

ترجمہ: کہ میں نے لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ کی گواہی کے ساتھ حضور اکرمﷺ کی بیعت کی۔ (بخاری کتاب البیوع)

5: جب سیدنا عبد اللہ بن سلامؓ نے حضور اکرمﷺ کے سامنے توحید و رسالت کا اقرار کر کے اسلام قبول کر لیا تو عرض کیا: یا رسول اللہ یہودی ایک شرارتی قوم ہے، میرے اسلام کے ان پر ظاہر ہونے سے پہلے آپ ان سے میرے متعلق کچھ بات چیت کریں لہٰذا جب یہودی آپﷺ کی خدمت میں آئے تو آپ نے دریافت فرمایا کہ عبد اللہ بن سلام تمہارے اندر کیسے شخص ہیں؟ یہودی کہنے لگے وہ ہم میں سب سے بہترین انسان ہیں اور بہترین شخصیت کے فرزند ہیں، پھر حضور اکرمﷺ نے دریافت فرمایا اور اگر وہ مسلمان ہو جائیں تو پھر؟ یہودی کہنے لگے اللہ تعالیٰ ان کو اپنی پناہ میں رکھے، حضور اکرمﷺ نے پھر دریافت فرمایا کہ اگر وہ مسلمان ہو جائیں تو پھر؟ انہوں نے پھر کہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی پناہ میں رکھے، فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ عَبْدُ اللّٰهِ فَقَالَ اَشْهَدُ اَنْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ

اتنے میں حضرت عبد اللہؓ ان کی طرف آ نکلے اور فرمایا: میں لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ کی گواہی دیتا ہوں، یہ سن کر یہودی کہنے لگے یہ ہم میں سب سے برا آدمی ہے اور پھر طرح طرح کے عیب بیان کرنے لگے، عبد اللہ بن سلامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ کیا آپ نے دیکھا؟ یہودی کس طرح اپنی بات سے پھر گئے، مجھے اس بات کا خدشہ تھا۔ (بخاری کتاب المناقب) 

(6) سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بنی حنیفہ کے ایک شخص ثمامہ بن اثال کو گرفتار کر کے مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا نبی اکرمﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے اور دریافت فرمایا اے ثمامہ تیرا کیا ارادہ ہے؟ جواب میں عرض کیا یا رسول اللہ میرا نیک ارادہ ہے، آپ مجھے قتل فرمانا چاہیں تو کر دیں اور اگر جان بخشی کا احسان فرمائیں تو یہ آپ کا ایک احسان تسلیم کرنے والے پر احسان ہوگا، دوسرے دن حضور اکرمﷺ نے حکم فرمایا کہ ثمامہ کو رہا کر دو رہائی کے بعد ثمامہ مسجد نبوی کے قریب واقع باغ میں تشریف لے گئے وہاں غسل کیا پھر مسجد میں داخل ہوئے اور شہادت دی کہ:

اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ میں لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ کی گواہی دیتا ہوں۔  (صحیح بخاری)

7) بنو سلیم قبیلے کے ایک ہزار افراد نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کلمہ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ پڑھ کر دامن اسلام میں داخل ہو گئے۔

یہ درج بالا حصہ ایک طویل روایت کا حصہ ہے جس کا دلچسپ خلاصہ درج ذیل ہے۔

ایک گوہ کی شہادت پر ہزار افراد کا مسلمان ہونا:

سیدنا عمر بن خطابؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ اپنے اصحاب کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ اچانک بنی سلیم قبیلے کا ایک اعرابی ایک سوسمار یعنی گوہ اٹھائے ہوئے آیا اور حضور اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر یہ گوہ آپ کی نبوت کی گواہی دے دیں تو میں آپ پر ایمان لے آؤں گا، نبی اکرمﷺ نے گوہ سے مخاطب ہو کر دریافت فرمایا: اے گوہ میں کون ہوں؟ گوہ فصیح و شیریں عربی زبان میں گویا ہوئی:

أَنْتَ رَسُولُ رَبِّ الْعَلَمِينَ وَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ صَدَّقَكَ وَقَدْ خَابَ مَنْ كَذَّبَكَ فَقَالَ أَعْرَابِي أَشْهَدُ أَنْ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ أَنَّكَ رَسُولُ اللّٰهِ۔

ترجمہ: آپ رب العالمین کے رسول ہیں اور خاتم النبین ہیں، جس نے آپ کی تصدیق کی وہ کامیاب ہوا اور جس نے جھٹلایا وہ نامراد ہوا،(یہ سنتے ہی) اعرابی برجستہ بول اٹھا: لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ

صفحہ 2 از 5