اسلامی کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ - دفاعِ اہلِ سنت…

اسلامی کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

  حضرت مولانا علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ

صفحہ 1 از 5

اسلامی کلمہ

لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ

برادرانِ اسلامی: اسلام اور ایمان کا دارو مدار کلمہ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ پر ہے، لہٰذا جو شخص دل میں اس کلمہ کی تصدیق رکھے اور زبان سے اس کلمہ کا اقرار کرے وہ مسلمان اور مؤمن کہلائے گا۔

اس اسلامی کلمے کے دو حصے ہیں۔

پہلا حصہ: لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ہے یعنی اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس پہلے حصے میں توحید الٰہی کا اقرار ہے۔

دوسرا حصہ: مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ ہے یعنی محمدﷺ اللہ کے رسولﷺ ہیں۔

اس حصے میں سرکارِ دو جہاں، فخر کون و مکاں خاتم النبیین سید الرسل حضرت محمدﷺ کی رسالت و پیغمبری کا اقرار ہے، انہی دو باتوں کا اقرار کرنا اور دل میں یقین رکھنا ایمان لانے کے لیے اولین شرط ہے۔ کوئی بھی شخص جو دونوں حصوں میں سے کسی ایک کا بھی منکر ہو وہ مسلمان نہیں ہوسکتا۔

پھر جس شخص نے کلمہ کا اقرار کر لیا اس پر دیگر اسلامی احکام نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ وغیرہ لازم ہو جاتے ہیں۔

سب سے پہلے اسلام کا بنیادی کلمہ یہی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضور اکرمﷺ کی رسالت کا ذکر ہے اور اس کلمہ کے دونوں حصے جدا جدا طور پر قرآن کریم میں سورۃ محمد میں موجود ہے۔

فَاعۡلَمۡ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ  (سورۃ محمد :آیت، 19)

ترجمہ: لہٰذا (اے پیغمبر) یقین جانو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔

اس سورة کے متصل بعد سورۃ فتح میں کلمہ کا دوسرا حصہ بھی موجود ہے۔

مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ 

(سورۃ الفتح: آیت نمبر 29)

ترجمہ: محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔

پہلی آیت لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کے الفاظ بالکل ظاہر ہیں اور یہی کلمہ کا پہلا حصہ ہے اور دوسری آیت میں مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ کے الفاظ بھی صاف ظاہر ہیں، جو کلمہ کا دوسرا حصہ ہے۔

یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ تمام مسلمان اہلِ سنت جو کلمہ پڑھتے ہیں، اس میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ اہلِ سنت کے ساتھ تمام اہلِ تشیع بھی ان دونوں حصوں پر متفق ہیں، البتہ اہلِ تشیع کی طرف سے اس کے بعد بھی تین حصے مزید بڑھائے جاتے ہیں، اہلِ سنت اس کو نا جائز ہی نہیں بلکہ کفر قرار دیتے ہیں اور اہلِ سنّت و اہلِ تشیع کے درمیان اختلاف صرف اسی زیادتی میں ہے۔

اہلِ تشیع کے کلمہ کے پانچ حصے ہیں:

  1. لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ 
  2. مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ 
  3. عَلِیٌّ وَلِیٌّ اللّٰه 
  4. وَصِیُّ رَسُوْلُ اللّٰه 
  5. وَ خَلِیْفَتَهٌ بِلاَ فَصْلِ

اہل تشیع کے پانچ حصوں والے کلمہ کے حوالے سے شیعہ کتابوں سے

  1. رسالہ علی ولی اللہ صفحہ 204، تالیف عبد الکریم مشتاق شیعہ
  2. اصول الشریعہ فی عقائد الشیعہ صفحہ 422، م: حجتہ الااسلام سرکار علامہ محمد حسین قبلہ مجتہد العصر سرگودھا
  3. نمازِ امامیہ صفحہ 4، م: سید منظور حسین نقوی، ناشر امامیہ کتب خانہ لاہور
  4. نماز شیعہ خیر البریہ صفحہ 6، م: حجۃ الاسلام ابو القاسم الخوئی، مجتہد اعظم نجف
  5. احکام نماز صفحہ 22، م: حجۃ الاسلام علامہ حسنین نجفی دار المعارف الامامیہ
  6. شیعہ نماز صفحہ 1، ناشر شیعہ آرگنائزیشن شکارپور سندھ
  7. نماز اہلِ بیت صفحہ 3، مفتی سید عنایت اللہ شاہ نقوی، ناشر محلہ شیعان لاہور
  8. پیغامِ نجات صفحہ 13، تالیف سید سعید اختر
  9. امامیہ دینیات درجۂ اطفال صفحہ 3، ادارہ تنظیم مکاتب کراچی
  10. دینیات کی پہلی کتاب صفحہ 10، سید فرمان علی ناشر امامیہ کتب خانہ
  11. نماز امامیہ صفحہ 3، علامہ حسین بخش جاڑا
  12. شیعت کا تعارف (اردو) صفحہ 359، تالیف: محمد بخش مگسی خیرپور سندھ۔
  13. رسالہ اثبات علی ولی اللہ فی کلمۃ طیبہ صفحہ 23، عبد الوہاب حیدری لاڑکانہ۔
  14. ولایت علی بنص جلی صفحہ 119، آغا عبد الحسین سرحدی، ناشر: مبلغ اعظم اکیڈمی فیصل آباد
  15. دینیات کی دوسری کتاب صفحہ 34، مرزا اشک ہمدانی، ناشر: امامیہ لاہور

مذکورہ تمام حوالہ جات میں شیعوں کے کلمہ کے پانچ حصے ہیں اور وہ اسلامی کلمہ کے دو حصوں کے بعد مزید تین حصوں کا اضافہ کرتے ہیں اور اضافہ شدہ تین حصے درج ذیل ہیں:

  1.  عَلِيٌّ وَلِيُّ اللّٰه
  2. وَصِيٌّ رَسُولُ اللّٰهِ
  3. خَلِيفَتُهُ بِلَا فَصْلِ

برادرانِ اسلام کلمہ میں شیعوں کے اضافہ شدہ تینوں حصے قرآن کریم میں کہیں موجود نہیں ہیں اور نہ ہی سرور کائنات حضور اقدسﷺ کی تمام حیات مبارکہ میں شیعوں والا کلمہ پڑھا گیا اور نہ کبھی کسی کو مسلمان کرتے وقت شیعوں والا یہ کلمہ پڑھایا گیا،

خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ساری زندگی میں اس کلمہ کو تلاش کر لیں؟ مگر حدیث کی کسی معتبر کتاب میں کسی صحیح سند کے ساتھ کوئی شخص ثابت نہیں کر سکتا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یا کسی بھی دوسرے امام نے یہ کلمہ خود پڑھا ہو یا کسی کو مسلمان کرتے وقت پڑھایا ہو، معلوم ہوا کہ یہ سراسر اپنی طرف سے گھڑا ہوا کلمہ ہے اور شیعہ لوگ اس کلمہ کو پڑھنے کے بعد ساری دنیائے اسلام سے کٹ جاتے ہیں۔

اسلامی کلمہ اور احادیث مبارکہ:

دین اسلام میں قرآن مجید کے بعد سب سے بڑی حجت اور دلیل سرکار دو عالمﷺ کی حدیث شریف ہے،

اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم سے کلمہ کے دونوں حصے ثابت ہو چکے ہیں، اب حضور اکرمﷺ کی احادیث مبارکہ میں سے ان دونوں حصوں کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا جاتا ہے، جاننا چاہیے کہ حضور اکرمﷺ جب بھی کسی کو دائرہ اسلام میں داخل فرماتے سب سے پہلے اس سے صرف توحید و رسالت دو چیزوں کی گواہی لیتے اور یہ چیزیں کلمہ میں آجاتی ہیں توحید لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ، رسالت مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ اور ان کے علاوہ کلمہ میں کبھی بھی کسی سے کسی کی امامت یا خلافت یا ولایت کا اقرار نہ کرواتے، مثال کے طور پر چند احادیث پیش کی جاتی ہیں:

1: سیدنا عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکرمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا

جو شخص (زبان اور دل سے لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ کی گواہی دے، اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کی آگ حرام فرما دیتے ہیں۔  (مسلم و مشکوٰۃ: کتاب الایمان)

مسلم شریف میں ایک باب اس عنوان سے ہے:

صفحہ 1 از 5