سیرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 7 از 8

یہ الفاظ بالکل اسی طرح ہیں اور واضح کرنا ہے کہ اس روایت میں مولیٰ کے معنیٰ دوست اور محب کے ہیں جس کی بناء پر روایت کے معنیٰ میں یہ ہے کہ جس کا میں دوست ہوں اس کا علی دوست ہے اس فرمان نبویؐ میں اس شخص کو تنبیہ مقصود تھی جس کی علی رضی اللہ عنہ سے کچھ رنجش ہو گئی تھی اس رنجش کا رسول اللہﷺ کو اسی جنگل کے غدیر تالاب پر علم ہوا جس کا وہیں یہ فیصلہ فرمایا ورنہ اگر خلافت بلا فصل کا اعلان مقصود ہوتا تو عرفات کے میدان میں جہاں تمام لوگ ہزاروں کی تعداد میں جمع تھے وہاں اعلان فرماتے عقلمند اور دیانتدار باشعور اور منصف مزاج حضرات غور فرمائیں اگر سیدنا علیؓ کی خلافت بلا فصل کا مسئلہ اصول دین میں توحید رسالت کی طرح تھا جیسے شیعہ کہتے ہیں تو اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ اس کا اعلان و بیان نہ ہی قرآن مجید میں نہ صریح حدیث متواتر میں نہ مکہ میں نہ مدینہ میں نہ بیت اللہ میں نہ مسجد نبویؐ میں نہ عرفات و منیٰ و مزدلفہ میں جہاں تمام مسلمان ہزاروں کی تعداد میں جمع تھے بلکہ ایسا ضروری اور اہم اعلان غدیر خم جنگل کے تالاب پر وہ بھی گول مول الفاظ میں جن کے معنیٰ خلافت بلا فصل قطعاََ نہیں ہو سکتے بلکہ اس روایت میں کوئی ادنیٰ سا اشارہ بھی خلافت علی بلا فصل کا نہیں کیونکہ اس میں تو دوامی حکم ہے کسی خاص وقت کے متعلق حضورﷺ کی زندگی یا آپﷺ کی رحلت کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی تک کا حکم نہیں بلکہ حضورﷺ کی امت کیلئے قیامت تک یہ حکم ہے کہ جس شخص کے لیے رسولﷺ مولا ہیں اس کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی مولا ہیں تو یہ تو دوامی حکم محبت و دوستی کا تو صحیح ہو سکتا ہے لیکن خلافتِ بلا فصل کا صحیح نہیں ہو سکتا ہے البتہ اس میں شک نہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلفاء ثلاثہؓ کے بعد چوتھے خلیفہ راشد ہیں۔

قاتل کے بارے میں وصیت:

سیدنا علیؓ نے سیدنا حسنؓ کو قاتل کے مثلہ سے منع فرمایا اور پھر فرمایا اے بنی عبدالمطلب کہیں تم میری وجہ سے مسلمانوں کے خون نہ بہا دینا اور یہ کہتے پھرو کے امیر المؤمنین قتل کر دیئے گئے ہیں۔ سوائے میرے قاتل کے کسی کو قتل نہ کرنا۔ اے حسنؓ! اگر میں اس کے وار سے مر جاؤں تو تُو بھی قاتل کو ایک ہی وار سے ختم کرنا کیوں کہ ایک وار کے بدلے ایک وار ہونا چاہیے اور اس شخص کا مثلہ نہ کرنا کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ تم لوگ مثلہ سے احتراز کرو خواہ وہ باؤلے کتے کا ہی کیوں نہ ہو۔

(تاریخِ طبری: جلد، 6 صفحہ، 63)

شہادت اور تجہیز و تکفین:

اس کے بعد آپ لا الہ الا اللہ پڑھنے میں مشغول رہے حتیٰ کے طائر روح عالم بالا کو پرواز کر گیا آپ کی شہادت رمضان 40 ہجری میں ہوئی۔ آپ کو آپ کے بیٹوں حسنؓ، حسینؓ اور عبداللہؓ بن جعفر نے غسل دیا۔تین کپڑوں میں آپ کو کفن دیا گیا جس میں قمیص نہ تھی۔ حضرت حسنؓ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور جنازہ میں علامہ ابن سعدؒ کی روایت کے مطابق چار تکبیرات کہیں۔

(البدایہ و النہایہ: جلد، 7 صفحہ، 331 المستدرک لحاکم: جلد، 3 صفحہ، 143)

حضرت علیؓ کوفہ کی مسجد جامع کے نزدیک اس میدان کے قریب جو ابواب کندہ کے متصل ہے لوگوں کے نماز فجر سے واپس ہونے سے پہلے دفن کر دیے گئے۔ سیدنا حسن بن علیؓ ان کے دفن سے واپس ہوئے تو لوگوں کو اپنی بیعت کی دعوت دی، لوگوں نے ان سے بیعت کر لی ۔حضرت علیؓ کی خلافت چار سال اور نو مہینے رہی ۔ابو اسحاق سے مروی ہے کہ جس روز حضرت علیؓ کی وفات ہوئی وہ 63 برس کے تھے۔ 

آپؓ کی قبر مبارک: 

سیدنا علیؓ کو غسل حضرت حسنؓ، حضرت حسینؓ حضرت عبداللہ بن جعفرالطیارؓ نے دیا حضرت حسنؓ نے نماز جنازہ پڑھائی جس میں چار تکبیریں کہیں۔ 

(المستدرک للحاکم: جلد، 3 صفحہ، 143)

جنازہ سے فراغت کے بعد دفن کا مسئلہ پیش آیا تو آپ کو جامعہ مسجد کوفہ کے قریب رحبہ (جو ابوابِ کندہ کے ساتھ ہے) کے مقام پر نماز فجر سے پہلے رات ہی کو دفن کیا گیا۔ سیدنا علیؓ کو 40 ہجری میں 63 سال کی عمر میں شہید کیا گیا اور دارالامارت میں جامع مسجد کوفہ کے قریب دفن کیا گیا مشہور روایت کے مطابق دار الامارات ہی میں شب کو دفن کئے گئے۔

(فضائل صحابہؓ و اہلبیتؓ: صفحہ، 161)

مورخ اسلام علامہ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ دفن بدار الامارة بالکوفة ھذا ھو المشھور ومن قال انه حمل علی راحلته فقد اخطا وما یعتقدہ کثیرون جھلة الروافض من ان قبرہ بمشھد النجف لا اصل له

(البدایہ و النہایہ: جلد، 7 صفحہ، 369)

کوفہ کے دارالامارت میں ہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا، عام قبرستان میں دفن نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ خارجیوں کی طرف سے خطرہ تھا کہ کہیں وہ آپ کی نعش مبارک کی توہین اور بے حرمتی نہ کریں۔ یہی قول مشہور ہے اور جو لوگ آپ کی نعش مبارک کو ایک سواری کے ذریعے نامعلوم جگہ بھیج دینے کے قائل ہیں یا نجف اشرف میں روضہ علیؓ کے قائل ہیں ان کا یہ قول نقلاً درست ہے اور نہ شرعاً درست ہے۔ علامہ ابن کثیرؒ نے جو روایات نقل کی ہیں انکے مطابق 11 مقامات پر حضرت علیؓ کے جسد مبارک کی تدفین کے دعوے کیے گئے ہیں۔

سیدنا علیؓ کے خون سے اشعث بن قیسؓ کی برات

سیدنا علیؓ کے قتل کے ضمن میں شیعہ لوگوں نے اشعت بن قیس رضی اللہ عنہ پر سہولت کاری کی تہمت لگائی ہے۔ چنانچہ شیعہ مؤرخ یعقوبی کا کہنا ہے کہ عبد الرحمٰن بن ملجم اشعث بن قیس کے یہاں مہمان بنا اور ان کے پاس ایک مہینہ قیام کر کے اپنی تلوار تیز کرتا رہا۔

(تاریخِ یعقوبی: جلد، 2 صفحہ، 222)

علامہ ابن سعدؒ لکھتے ہیں کہ عبد الرحمٰن بن ملجم نے جس رات کی صبح سیدنا علیؓ کو قتل کرنے کا عزم کیا تھا وہ رات اس نے اشعث بن قیسؓ کے یہاں گزاری تھی ان کی مسجد میں فجر طلوع ہونے کے قریب تک ان سے سرگوشی کرتا رہا تو اشعث رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا جلدی کر صبح نے تجھے رسوا کیا ۔تب عبد الرحمٰن بن ملجم اور شبیب بن بجرہ اٹھے اور دونوں نے اپنی تلواریں لیں، پھر آ کر اس دروازہ کے برابر بیٹھ گئے جہاں سے سیدنا علیؓ نکلتے تھے۔

(الطبقات: جلد، 3 صفحہ، 36)

صفحہ 7 از 8