سیرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 6 از 8

حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حج کے روز عرفات میں آکر اللہ تعالی کا یہ حکم پہنچایا کہ علی کی خلافت کا اعلان کر دو تو رسولﷺ نے لوگوں کے ڈر سے اللہ کے حکم کو ٹال دیا وہاں سے واپس ہوئے جب مسجد خیف پہنچے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام دوسری بار نازل ہوئے اور پھر یہ حکم دیا کہ علیؓ کی خلافت کا اعلان کر دو پھر بھی ڈر کی وجہ سے رسولﷺ نے اعلان نہ کیا پھر وہاں سے چلتے چلتے کراع غمیم نامی مقام پر پہنچے جو کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے رسولﷺ نے فرمایا مجھے اپنی قوم سے ڈر ہے اللہ تعالیٰ سے میرے لیے حفاظت کی کوئی آیت لاؤ تب میں یہ حکم لوگوں میں پہنچاؤں گا حضرت جبرائیل علیہ السلام واپس بارگاہِ الہٰی میں سارا ماجرہ عرض کیا اور رسولﷺ چلتے چلتے غدیر خم پر پہنچے تو چوتھی بار جب جبرائیل علیہ السلام آئے اس وقت جبکہ دن کی پانچ گھڑیاں گزر رہی تھی جبرائیل علیہ السلام رسولﷺ کے پاس آئے اور سخت زجر و توبیخ سے کہا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ علیؓ کی خلافت کا اعلان کر دو میں تمہیں لوگوں سے محفوظ رکھوں گا اگر تم نے اب بھی علیؓ کی خلافت کا اعلان نہ کیا تو تم نے رسالت کا فریضہ ادا نہ کیا تو پھر اس زجر و توبیخ کے بعد رسولﷺ (نے صریح اور صاف اعلان خلافت بلافصل کے بجائے) من کنت مولا فہذا علی مولاہ کے الفاظ سے اعلان فرمایا جو کہ خلافت مطلقہ کا بھی معنیٰ نہیں دے سکتی چہ جائیکہ خلافت بلا فصل پر دلالت کرے۔

(لفظ مولا کے معنیٰ کی وسعت کو دیکھ کر شیعہ مجتہد علامہ نوری طبرسی نے فیصلہ کن بات کہہ دی)

کیا تو نہیں دیکھتا کہ حضورﷺ نے غدیر کے دن اپنے بعد خلافت بلا فصل کی ہرگز وصیت نہیں فرمائی (فصل الخطاب، 182)

شیعوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل کے لیے تو یہ کہانی گھڑ لیں لیکن بیچاروں کو یہ نہیں خیال رہا کہ اس کہانی سے رسولﷺ کی رسالت پر کیا ضرب پڑے گی حضورﷺ ساری کائنات کے بہادروں سے زیادہ بہادر تھے اور جو مکہ اور طائف احد واحزاب میں کسی سے خوفزدہ نہ ہوئے ان کے بارے میں یہ کہانی بہتان اور خلافِ قرآن ہے

اۨلَّذِيۡنَ يُبَـلِّـغُوۡنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَيَخۡشَوۡنَهٗ وَلَا يَخۡشَوۡنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ 

ترجمہ: وہ لوگ جو پہنچاتے ہیں پیغام اللہ کے اور ڈرتے ہیں اس سے اور نہیں ڈرتے کسی سے سوائے اللہ کے

(سورۃ الاحزاب: آیت نمبر، 39)

اگر رسول اللہﷺ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل کا اعلان کر چکے ہوتے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کیوں کرتے؟ جیسا کہ شیعہ کتاب احتجاج طبرسی صفحہ، 56 پر لکھا ہے۔

اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کی شہادت کے بعد جب آپ لوگوں نے ان کو خلیفہ بننے کے لیے کہا تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا

 مجھے چھوڑو کسی اور کو بنا لو اگر تم مجھ کو چھوڑ دو تو میں باقی مسلمانوں کی طرح رہوں گا اور جس کو تم امیر بناؤ گے میں تم سے زیادہ اس کی اطاعت و فرمانبرداری کروں گا اور میرا وزیر ہونا میرے خلیفہ ہونے سے تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے 

(نہج البلاغہ: صفحہ، 182 جلد، 1)

غور کیجئے گا سیدنا علیؓ کی خلافت بلافصل منصوص من اللہ تھی تو وہ کس طرح کہتے کہ کسی اور کو خلیفہ بنا لو میں اس کی فرمانبرداری تم سے زیادہ کرونگا جو چیز توحید و رسالت کی طرح اصول دین میں سے ہے اس کے خلاف حضرت علیؓ جیسے کامل الایمان کیسے کر سکتے تھے؟

نیز سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مہاجرین و انصار کے اجتماع اور شوریٰ سے منتخب شدہ امام کو امام برحق اور رضائے الہٰی کے موافق بیان فرمایا

(نہج البلاغہ: جلد، 3 صفحہ، 8)

اگر بالفرض خلافت علی رضی اللہ عنہ منصوص من اللہ یعنی کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتخب شدہ) ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے خلاف یہ کیسے فرماتے کہ مہاجرین انصار کا منتخب شدہ امام اللہ کا پسندیدہ امام ہو گا بلکہ آپ تو یوں فرماتے نص خلافت کے بعد دوسرے کو امام بنانا کفر ہے۔ 

مذکورہ امور کے بعد اب اس روایت کے معنیٰ پر غور کرتے ہیں

تحقیق لفظ مولیٰ:

واضح رہے کہ مولیٰ فصیح عربی زبان کا لفظ ہے جس کا استعمال قرآن مجید، احادیث مبارکہ اور کلام عرب میں موجود ہے علماء عربیت نے اس کے پچاس سے زائد معانی بیان کیے ہیں عام لغات میں بھی اس کے پندرہ سترہ معانی بآسانی دستیاب ہیں۔ اسی لفظ کے ساتھ نا ضمیر بطور مضاف الیہ استعمال کی جاتی ہے۔ جہاں تک اس کے سب سے پہلے استعمال کی بات ہے تو خود اللہ جل شانہ نے قرآن مجید میں رسولﷺ کی طرف نسبت کر کے اپنے، جبرائیل امین اور نیک مسلمانوں کے لیے یہ لفظ استعمال فرمایا ہے

چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: 

 فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰٮهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌

(سورۃ التحریم: آیت نمبر، 4)

ترجمہ: یعنی بے شک اللہ تعالیٰ اور جبرائیل اور نیک اہل ایمان آپ ﷺ کے مولیٰ ہیں۔ 

یہاں ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے بھی، فرشتے کے لیے بھی اور خواص اہلِ ایمان (یعنی نیکو کاروں) کے لیے بھی یہ لفظ استعمال فرمایا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ جبرائیلؑ امین اور تمام نیکو کار اہلِ ایمان رسولﷺ کے مولیٰ ہیں، اور یہ لقب انہیں خود بارگاہ الہٰی سے عطا ہوا ہے۔ اس سے آگے چلیں تو خود رسولﷺ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو فرمایا یا زید انت مولانا۔ معلوم ہوا کہ حضرت زیدؓ رسولﷺ کے مولیٰ ہیں۔ نیز آپﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق فرمایا کہ من کنت مولاہ فعلی مولاہ

جس طرح شیعہ لفظ مولا سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت ثابت کرنا چاہتے ہیں اس طرح کیا حضرت زید بھی رسولﷺ کے خلیفہ بلا فصل تھے؟ 

شیعہ حضرات جو اپنے مولوی صاحبان کو فلاں مولانا، فلاں مولانا کہا کرتے ہیں تو کیا وہ بھی خلیفہ بلا فصل ہوتے ہیں؟

ان مذکورہ بالا متعدد معانی میں سے اس روایت کے معنیٰ خود اس روایت کے آخری الفاظ أَللّهُمَّ والِ مَنْ والاهُ، وَ عادِ مَنْ عاداهُ متعین کرتے ہیں کیونکہ ان کے معنیٰ ہر شخص کے نزدیک یہی ہیں کہ 

یا اللہ تو اس شخص کو دوست رکھ جو علی رضی اللہ عنہ کو دوست رکھے اور دشمن رکھ اس شخص کو جو علی رضی ﷲ عنہ کو دشمن رکھے۔

صفحہ 6 از 8