سیرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 5 از 8

آپﷺ کے ساتھ ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ، طلحہؓ اور زبیرؓ بھی تھے۔ یہ سب حضرات جس چٹان پر کھڑے تھے اس نے حرکت کی، تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا

(اھدا فما عليك الا نبی او صدیق او شهيد)

آرام سے رہو کیونکہ تم پر نبی، صدیق اور شہید کے علاؤہ کوئی نہیں۔

(مسلم: 23)

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان بھائی چارگی قائم کی (آپس میں ایک کو دوسرے کا بھائی بنایا) تو حضرت علی رضی ﷲ روتے ہوئے آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ!آپ نے ہر ایک کو دوسرے کا بھائی بنا دیا ہے اور مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا تو رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تو میرا بھائی ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

(ترمذی: حدیث، 372)

حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حسنؓ اور حسینؓ جنتی جوانوں کے سردار ہیں اور ان کے والدین (یعنی حضرت علیؓ اور فاطمہؓ) اُن دونوں سے بھی بہتر ہیں۔

(ابن ماجہ: حدیث، 118)

خلافت:

آپ پوری زندگی اسلام کی خدمت کرتے رہے ۔سن 35 ہجری میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اصرار پر آپ نے خلافت کو قبول فرمایا اور پانچ سال یعنی 40 ہجری تک سخت دشواریوں اور مصیبتوں کے باوجود منہج نبوت پر کارِ خلافت انجام دینے کا شرف حاصل کیا۔

پس منظر غدیر خم:

اس کا پس منظر یہ تھا کہ حجۃ الوداع سے پہلے رسول اللہﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف والی عامل بنا کر بھیجا تھا، وہاں کے محصولات وغیرہ وصول کرکے ان کی تقسیم اور بیت المال کے حصے کی ادائیگی کے فوراً بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ حضورﷺ کے پاس حج کی ادائیگی کے لیے پہنچے۔ اس موقع پر محصولات کی تقسیم وغیرہ کے حوالے سے بعض حضرات نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر اعتراض کیا، اور یہ اعتراض براہِ راست نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر دوہرایا، آپﷺ نے انہیں اسی موقع پر انفرادی طور پر سمجھایا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تصویب فرمائی، بلکہ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ علی کا اس سے بھی زیادہ حق تھا، نیز آپﷺ نے انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا حکم دیا اور حضرت علیؓ کے بارے میں دل میں کدورت اور میل رکھنے سے منع فرمایا، چناں چہ ان حضرات کے دل حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بالکل صاف ہو گئے، وہ خود بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے اس ارشاد کے بعد ہمارے دلوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ محبوب ہو گئے۔ البتہ اسی حوالے سے کچھ باتیں سفرِ حج سے واپسی تک قافلے میں گردش کرتی رہیں، آپﷺ نے محسوس فرمایا کہ اس حوالے سے آپﷺ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت اور ان کا حق ہونا بیان فرمائیں، چناں چہ سفرِ حج سے واپسی پر مقام غدیرِ خم میں نبی کریمﷺ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں بلیغ حکیمانہ اسلوب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حق واضح فرمایا، اور جن لوگوں کے دل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کوئی شکوہ یا شبہ تھا اسے یوں ارشاد فرماکر دور فرما دیا 

اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالِاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ»، قَالَ: فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ! أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ یعنی اے اللہ! جو مجھے دوست رکھے گا وہ علی کو بھی دوست رکھے گا میں جس کا محبوب ہوں گا علی بھی اس کا محبوب ہو گا، اے اللہ! جو علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ، اور جو علی سے دشمنی رکھے تو اس کا دشمن ہو جا۔ آپﷺ کے اس ارشاد کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملے تو فرمایا اے ابن ابی طالب! آپ کو مبارک ہو! آپ صبح و شام ہر مؤمن مرد اور ہر مؤمنہ عورت کے محبوب بن گئے۔ حضراتِ شیخین سمیت تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت پہلے سے تھی، جن چند لوگوں کے دل میں کچھ شبہات تھے آپﷺ کے اس ارشاد کے بعد ان کے دل بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت سے سر شار ہو گئے۔ اس خطبہ سے آں حضرت محمدﷺ کا مقصود یہ بتلانا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ کے محبوب اور مقرب بندے ہیں، ان سے اور میرے اہلِ بیت سے تعلق رکھنا مقتضائے ایمان ہے، اوران سے بغض وعداوت یا نفرت و کدورت ایمان کے منافی ہے۔

مذکورہ پس منظر سے یہ بات بخوبی واضح ہے کہ آں حضرت محمدﷺ کا غدیر خم میں من کنت مولاه فعلي مولاه ارشاد فرمانا سیدنا علیؓ کی خلافت کے اعلان کے لیے نہیں، بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت بیان کرنے اور معترضین کے شکوک دور کرنے کے لیے تھا نیز سیدنا علیؓ کی محبت کو ایک فریضہ لازمہ کے طور پر امت کی ذمہ داری قرار دینے کے لیے تھا۔ اور الحمدللہ! اہلِ سنت والجماعت اتباعِ سنت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی محبت کو اپنے ایمان کا جزء سمجھتے ہیں، اور بلاشبہ حضرت علیؓ سے اہلِ ایمان ہی محبت رکھتے ہیں۔

مذکورہ خطبے اور ارشاد کی حقیقت یہی تھی جو بیان ہو چکی۔ باقی ایک گمراہ (شیعہ) فرقہ اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے خلافت بلافصل ثابت کرتا ہے، اور چوں کہ یہ خطبہ ماہ ذوالحجہ میں ہی ارشاد فرمایا تھا اس لیے ماہ ذوالحجہ کی اٹھارہ تاریخ کو اسی خطبہ کی مناسبت سے عید مناتا ہے، اور اسے عید غدیر کا نام دیا جاتا ہے اس دن عید کی ابتداء کرنے والا ایک حاکم معزالدولۃ گزرا ہے، اس شخص نے 18 ذوالحجہ 351 ہجری کو بغداد میں عید منانے کا حکم دیا تھا اور اس کا نامعید خم غدیر رکھا۔

اس سے پہلے ہم اس روایت کی تحقیق بیان کریں شیعہ کتابوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے متعلق حیرت انگیز تعجب خیز ایک کہانی پیش کرتے ہیں پڑھیں پھر اس روایت پر تحقیق ہو گی

(شیعہ کتاب احتجاج طبرسی کتاب: صفحہ، 70 اور طبع قدیم صفحہ، 33 پر مرقوم ہے)

صفحہ 5 از 8