سیرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 8

فریقین کے درمیان اس دور کے بعض اکابر حضرات کے ذریعے اس اختلاف کو ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں اور یہ کوشش کوفہ میں سیدنا علیؓ کے قیام گاہ سے سیدنا جریر بن عبداللہ البجلیؓ کی وساطت سے شروع ہوئی اور دیگر حضرات کے ذریعے تخلیہ اور صفین کے مقامات پر قیام کے دوران بھی یہ کوشش جاری رہی۔

(البدایہ: جلد، 7 صفحہ، 253/258 سیر اعلام النبلاء للذھبی: جلد، 3 صفحہ، 93)

لیکن فریقین اپنے موقف سے دستبردار نہ ہوئے آخر قتال کی صورت پیش آئی۔

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ لکھتے ہیں 

فتر اسلوا فلم یتم لھم امر فوقع القتال الیٰ ان قتل من الفریقین۔

(فتح الباری: جلد، 13 صفحہ، 73)

جانبین میں مر اسلت ہوئی لیکن کسی بات پر معاملہ طے نہ ہو سکا تو قتال واقع ہوا اور فریقین سے لوگ مقتول ہوئے۔

ان کی صحیح تعداد اللہ کو معلوم ہے۔

جیسے علامہ ابن کثیر رحمہ اللہؒ فرماتے ہیں:

فقتل فی ھذاالموطن خلق کثیر من الفریقین لا یعلم الا اللہ.

(البدایہ: جلد، 7 صفحہ، 271)

البتہ جن اکابر کی اس قتال میں شہادت ہوئی ہے ان میں حضرت عمار بن یاسرؓ، حضرت خزیمہ بن ثابتؓ، وغیرہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جماعت میں تھے اور حضرت عبیداللہ بن عمر بن الخطابؓ، حضرت ذوالکفلؓ اور حوشبؓ حضرت امیر معاویہؓ کی جماعت میں سے شہید ہوئے۔

انا للہ وانا الیہ راجعون

بعض مؤرخین کے قول کے مطابق بدھ، جمعرات، جمعہ اور ہفتہ کی رات ماہ صفر 37 ہجری کے اوقات اس جنگ میں مشکل ترین تھے اور ان ایام میں گھمسان کی لڑائی ہوئی۔

(البدایہ: جلد، 7 صفحہ، 261)

آخر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے صلح کی دعوت ہوئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو قبول کیا اور طے ہوا کہ ہر فریق کی طرف سے ایک ایک حکم اس مسئلے کے فیصلے کے لیے منتخب کیا جائے۔

پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فیصل تسلیم کیے گئے اور طے ہوا کہ ہر دو فریق کے یہ دونوں فیصل دومۃ الجندل کے مقام پر جمع ہو کر فیصلہ کریں گے۔

(تاریخ خلیفہ ابن خیاطِ: جلد، 1 صفحہ، 173/174)

(العبر للذھبی: جلد، 1 صفحہ، 43)

شیعہ اعتراض:

مخالفین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف سے ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کی جماعت کی طرف سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کی جماعت پر سب وشتم اور لعن طعن کیا جاتا تھا۔

الجواب اہلسنّت: 

اس اعتراض کے کئی جوابات ہیں، ان میں سے دو تین درج کیے جاتے ہیں

  1.  جن روایات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فریق مقابل کو سب و شتم کرنے کا ذکر ہے وہ سب روایات قواعد فن کی رو سے درست نہیں۔ ان کے راوی اور ناقلین مجروح اور مردود الروایۃ ہیں۔ مثال کے طور پر اس قسم کی روایات کے راوی ابو مخنف لوط، یحیی، ابو جناب یحییٰ بن ابی حی کلبی اور ہشام بن سائب کلبی ہیں اور یہ لوگ علماء رجال کے نزدیک کذاب، دجال، جھوٹے، مفتری، شیعہ امامیہ اور رافضی ہیں اور یہ لوگ روایات میں اپنی طرف سے ملاوٹ کرنے والے اور دروغ گوئی کرنے والے ہیں۔ اس لیے ان کی روایات ناقابل اعتبار اور متروک ہیں۔
  2.  بعض اوقات کلام میں الفاظ تو سختی اور تلخ قسم کے پائے جاتے ہیں لیکن ان سے مراد گالی گلوچ نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات باہمی درشت کلامی، سخت گوئی اور تلخ نوائی کو راوی سب و شتم سے تعبیر کر دیتے ہیں ایسے مواقع پر صرف فریق مخالف کے عیوب کی نشان دہی کرنا اور دوسرے کی رائے کو غلط اور اپنی رائے کو درست ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے، لعن طعن اور گالی مقصود نہیں ہوتی۔
  3.  اگر بالفرض کسی جگہ روایات میں سب و شتم اور لعن طعن پایا بھی جائے تو اس کے مقابل ان روایات پر بھی نظر ڈالنے کی اشد ضرورت ہے جن روایات میں سب و شتم اور لعن طعن سے منع کیا گیا ہے۔ پھر ان متقابل روایات میں قاعدہ والمحرم مقدم علی المبیح کے مطابق تطبیق دی جائے گی اور سب و شتم اور لعن و طعن سے منع کرنے والی روایات کو اباحت والی روایات پر ترجیح دی جائے گی۔

فضائل و مناقب:

آپؓ کے عظیم فضائل و مناقب سے متعلق کتب احادیث میں متعدد روایتیں موجود ہیں ان میں سے چند یہ ہیں اہلِ تشیع نے بہت سی من گھڑت اور موضوع روایات بھی آپ کے متعلق گھڑ کر پھیلائی ہوئی ہیں جن کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے لیکن سیدنا علیؓ کے فضائل و مناقب کسی من گھڑت روایات کے محتاج نہیں ہمیں صحیح روایات ہی لینی چاہیے۔

اہلسنّت اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں حضرت علیؓ سب سے افضل صحابی ہیں، اور وہی خلفائے راشدین میں چوتھے خلیفہ تھے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ الله اور اس کے رسولﷺ سے محبت کرتے تھے اور الله اور اس کے رسولﷺ کو ان سے محبت تھی۔

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللهﷺ نے خیبر کے دن ارشاد فرمایا تھا

(لااعطین ھذہ الراية غدا رجلا يفتح الله على يديه یحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله)

ترجمہ: کل میں ایک ایسے شخص کو جھنڈا دونگا جس کے ہاتھوں الله تعالیٰ فتح نصیب کرے گا، وہ الله اور اس کے رسولﷺ سے محبت کرتا ہے اور الله اور اس کے رسولﷺ اس سے محبت کرتے ہیں۔

(البخاری: 4210 مسلم، 2406)

پھر آپﷺ نے اگلے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا سونپ دیا۔

اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہی نبی کریمﷺ نے فرمایا

(انت منی وانا منک)

تم مجھ سے ہو اور میں تجھ سے ہوں۔

(البخاری: 4251)

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت ایمان اور ان سے بغض منافقت خود سیدنا علیؓ روایت کرتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جو دانے کو پھاڑ دیتا ہے (اور اس سے فصل وغیرہ اگاتا ہے اور انسان کو پیدا کرتا ہے)

نبی امیﷺ نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ صرف مؤمن ہی مجھ سے محبت کرے گا، اور وہ منافق ہی ہو گا جو مجھ سے بغض رکھے گا۔

(مسلم: 78)

حضرت علیؓ کو جنت کی بشارت:

نبی کریمﷺ نے عشرہ مبشرہ والی حدیث میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام لے کر انہیں جنتی قرار دیا۔

(مسند احمد: 188 باسناد صحیح)

ایک اور بشارت:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ احد پر تھے،

صفحہ 4 از 8