سیرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 8

قلت فهذا قول في سبب الحرب الواقع بينهم. وقال جلة من أهل العلم : إن الوقعة بالبصرة بينهم كانت على غير عزيمة منهم على الحرب بل فجأة ، وعلى سبيل دفع كل واحد من الفريقين عن أنفسهم لظنه أن الفريق الآخر قد غدر به ، لأن الأمر كان قد انتظم بينهم ، وتم الصلح والتفرق على الرضا. فخاف قتلة عثمان رضي الله عنه من التمكين منهم والإحاطة بهم ، فاجتمعوا وتشاوروا واختلفوا ، ثم أتفقت آراؤهم على أن يفترقوا فريقين ، ويبدأوا بالحرب سحرة في العسكرين ، وتختلف السهام بينهم ، ويصيح الفريق الذي في عسكر علي : غدر طلحة والزبير. والفريق الذي في عسكر طلحة والزبير : غدر علي. فتم لهم ذلك على ما دبروه ، ونشبت الحرب ، فكان كل فريق دافعا لمكرته عند نفسه ، ومانعا من الإشاطة بدمه. وهذا صواب من الفريقين وطاعة لله تعالى، إذ وقع القتال والامتناع منهما على هذه السبيل. وهذا هو الصحيح المشهور. والله أعلم.

(تفسیر قرطبی: جلد، 16 صفحہ، 318/319)

اس کا مفہوم یہ ہے کہ بصرہ میں جنگ جمل کا جو واقعہ پیش آیا تھا وہ قتال کے ارادہ سے وقوع پذیر نہیں ہوا تھا بلکہ یہ صورتحال اچانک قائم کر دی گئی تھی، ایک فریق یہ گمان کرتے ہوئے کہ دوسرے فریق نے بد عہدی کی ہے اپنے دفاع کے لیے قتال کر رہا تھا کیونکہ ان کے درمیان صلح کی بات تو ہو چکی تھی وہ اپنی اپنی جگہ باہمی اعتماد اور رضا مندی سے ٹھہرے ہوئے تھے لیکن قاتلینِ عثمان کو خوف لاحق ہوا کہ یہ صلح ہو گئی تو ہماری خیر نہیں لہٰذا وہ جمع ہوئے اور مشورہ کرنے لگے، پہلے ان کا کچھ آپس میں اختلاف ہوا لیکن بعد میں اس امر پر متفق ہو گئے کہ

ہم دو جماعتوں میں تقسیم ہو جائیں کچھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جماعت میں شامل ہو جائیں اور کچھ دوسرے فریق میں گھس جائیں اور علی الصباح دونوں لشکروں میں لڑائی کی ابتداء کریں، ایک فریق کی جانب سے دوسرے فریق پر تیر اندازی کریں اور جو فریق حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں پہنچے وہ فریاد کرے کہ سیدنا طلحہؓ والوں نے عہد شکنی کی ہے اور جو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ والوں کے لشکر میں ہوں وہ فریاد کریں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ والوں نے عہد شکنی کی ہے۔

مختصر یہ ہے کہ یہ قتال اور دفاع دونوں فریق کی طرف سے مذکورہ نوعیت میں واقع ہوا تھا۔ یہی بات درست اور صحیح ہے۔

اس کو جنگ جمل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آخرکار اس لڑائی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جماعت غالب آگئی اور دوسرے فریق کے اکابر حضرت زبیرؓ اور حضرت طلحہؓ وغیرہم شہید ہو گئے اور یہ فریق مغلوب ہو گیا۔

اس کے بعد امیر المؤمنین کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکم سے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو حفاظتی انتظام کے ساتھ لایا گیا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سلام عرض کیے اور خیریت دریافت کی، حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں بخیریت ہوں، اس کے بعد چند ایام بصرہ میں گزارنے کے بعد جب حجاز کی طرف سفر کا ارادہ فرمایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ضروریاتِ سفر مہیا کر کے بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ روانہ فرمایا۔

چونکہ یہ واقعہ دشمنوں کی ناپاک حرکتوں کی وجہ سے سرزد ہوا اس لیے اس واقعہ پر دونوں فریقین کی طرف سے اظہارِ افسوس روایات بھی منقول ہیں۔

سیدنا علی رضی عنہ و سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان جنگ کی حقیقت اور پس منظر۔

جنگِ صفین:

بلادِ شام کی مشرق جانب میں ایک مقام ہے جس کا نام صفین ہے۔ وہاں فریقین کی جماعتوں کا اجتماع ہوا۔

یہ محرم 37 ہجری کا واقعہ ہے۔

فریقین کا مؤقف:

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اس مسئلہ میں موقف یہ تھا کہ فریق مقابل کے مطالبہ قصاصِ دمِ عثمان کی صورت یہ ہونی چاہیے کہ پہلے بیعت کریں، اس کے بعد اپنا قصاص عثمانی کا مطالبہ مجلس خلیفہ میں پیش کریں۔ بعد ازاں حکم شریعت کے مطابق اس مطالبہ کا شرعی فیصلہ کیا جائے گا۔

(البدایہ لابن کثیر: جلد، 8 صفحہ، 127 تحت ترجمہ معاویہ)

سیدہ امیر معاویہؓ اور ان کی جماعت میں متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے جو ملک شام میں رہتے تھے، ان کی رائے یہ تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ظلماً شہید کئے گئے ہیں اور ان کے قاتلین سیدنا علیؓ میں موجود ہیں، لہٰذا ان سے قصاص لیا جائے اور ہمارا مطالبہ صرف قصاص دم عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق ہے خلافت کے بارے میں ہمارا نزاع نہیں ہے۔

واما الخلافۃ فلسنا مطلبھا.

(الفتنۃ وقعۃ الصفین لنصرین تراجم المنقری الشیعی: صفحہ، 70)

حجۃ معاویۃ ومن معہ ماوقع معہ من قتل عثمان رضی اللہ عنہ مظلوماً ووجود قتلتہ باعیا نھم فی العسکر العراقی

(فتح الباری: جلد، 3 صفحہ، 246 کتاب الاعتصام بالکتاب و السنۃ)

ولیس المراد بما شجر بین علی رضی اللہ عنہ ومعاویۃ رضی اللہ عنہ المنازعۃ فی الامارۃ کما تو ھمہ بعضہم وانما المنان عنہ کانت بسبب تسلیم قتلۃ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ الیٰ عشیرتہ لیقتصوا منھم.

(کتاب الیواقیت والجواہر: جلد 2 صفحہ، 27 المسامرۃ للکمال بن ابی شریف صفحہ 158/159)

مندرجہ بالا حوالہ جات کی روشنی میں فریقین کے موقف سامنے آگئے ہیں۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مطالبہ پر حضرتؓ طرف سے جو رائے تھی وہ درج ذیل ہے

لان علیا کان رای ان تاخیر تسلیمھم اصوب اذ العبادۃ بالقبض علیہم مع کثرۃ عشائرھم واختلاطہم بالعسکر یودی الیٰ اضطراب امر الامارہ.

(کتاب الیواقیت والجواہر: جلد، 2 صفحہ، 77 الصواعق المحرقۃ مع تطہیر الجنان: صفحہ، 216)

لہٰذا تعجیل کی بجائے تاخیر کرنی چاہیے۔

فریقین کے مؤقف یہی تھے۔ اور دونوں اپنے اپنے نظریات پر شدت کے ساتھ قائم رہے تا آنکہ یہ واقعہ پیش آیا۔

شیعہ کا ایک اشکال:

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر عام اشکال یہ ہوتا ہے کہ مطالبہ کا حق وارث کو ہوتا ہے، سیدنا معاویہؓ نے مطالبہ کیوں کیا؟

جواب اس کا خود شیعہ کتب میں موجود ہے

ان معاویۃ یطلب بدم عثمان ومعہ ابان بن عثمان وولد عثمان رضی اللہ عنہ.

(کتاب سلیم بن قیس الکوفی الہلالی العامری الشیعی: صفحہ، 153 مطبوعہ نجف)

یعنی دمِ عثمان کے قصاص کے مطالبہ میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ابان بن عثمان اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دیگر فرزند شامل تھے۔

اختلاف کو ختم کرنے کی کوششیں:

صفحہ 3 از 8