سیرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 8

تو ان دو حضرات حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما نے عمرہ کی غرض سے مکہ کا سفر شروع کیا، جب مکہ پہنچے تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے علاؤہ اور امہات المؤمنین بھی عمرہ کی غرض سے مکہ پہنچ چکی تھیں۔ بعد میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات مکہ تشریف لے گئے۔ یوں مکہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، امہات المؤمنین رضی اللہ عنہا اور دیگر حضرات کا اجتماع ہوا، ان تمام کا مقصد ایک ہی تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا خون ناحق اور ظلما گرا دیا گیا ہے اس لیے ان کے قصاص کا مسئلہ سب سے پہلے طے ہونا چاہیے اور مجرموں کو جلد سے جلد سزا ملنی چاہیے۔ اس سلسلے میں مختلف آراء سامنے آئیں۔

بالآخر طے ہوا کہ اس سلسلے میں بصرہ پہنچنا چاہیے۔

منشاء یہ تھا کہ مسلمانوں کی ایک کثیر جماعت اگر مطالبہ پر جمع ہو جائے تو امید ہے کہ فریق ثانی بھی اس کی طرف توجہ کرے گا اور باہمی موافقت کی صورت پیدا ہو جائے گی۔ اس سفر میں حضرت عائشہؓ کو بھی شامل رہنے کی درخواست کی گئی تا کہ اصلاح کی کوئی صورت پیدا ہو جائے۔

چنانچہ علامہ آلوسیؒ فرماتے ہیں

فسارت معہم بقصد الاصلاح وانتظام الامور۔

(تفسیر روح المعانی: جلد، 22 صفحہ، 10 تحت آیت وقرن فی بیوتکن)

اس کے بعد بہت سارے حضرات ان اکابر (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم وغیرہ) کے ساتھ شریک ہو گئے اور بصرہ کی طرف سفر شروع کیا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب اطلاع ملی تو انہوں نے بھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بصرہ کی طرف سفر شروع کیا۔ بصرہ کے قریب جب دونوں جماعتیں اپنے اپنے مقام پر پہنچیں تو بعض معتمد حضرات کے ذریعے مصالحت کی گفتگو جاری ہوئی۔ اسی موقعہ پر

حضرت قعقاع بن عمرالتمیمیؓ سیدہ عائشہؓ اور ان کی جماعت کے پاس آئے اور عرض کیا

ای اُمُّہ ما اشخصک وما اقدمک ھذہ البلدۃ قالت: ای بنی! اصلاح بین الناس.

(روح المعانی: جلد، 22 صفحہ، 9/10 وقرن فی بیوتکن)

حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ فرمانے لگے

اے ام المؤمنین!

اس شہر میں آپ کا تشریف لے آنا کسی مقصد کے لیے ہے؟ تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا

اے بیٹے! لوگوں کے درمیان اصلاح کی صورت پیدا کرنے کے لیے۔

اس پر حضرت قعقاعؓ نے فرمایا اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ آپ سیدنا علیؓ کے ہاتھ پر بیعت کریں تا کہ مسلمانوں میں انتشار کی یہ فضا ختم ہو جائے اور اتفاق پیدا ہو جائے تا کہ سیدنا عثمانؓ کا بدلہ لینا آسان ہو جائے۔

افہام و تفہیم کے اس بیان کے بعد سیدنا طلحہؓ، سیدنا زبیرؓ اور سیدہ عائشہؓ نے ارشاد فرمایا

اصبت واحسنت فارجع الخ

یعنی آپ کی بات درست ہے ہم اس پر آمادہ ہیں۔ آپ جائیں (اور فریق ثانی کو اطلاع دیں)

فرجع الی علی فاخبرہ فاعجبہ ذالک واشرف القوم علی الصلح کرہ ذالک من کرہہ ورضیہ من رضیہ وارسلت عائشۃ الی علی تعلمہ انہا انما جاءت للصلح ففرح ھولاء وھولاء.

(البدایہ لابن کثیر: جلد، 7 صفحہ، 239 روح المعانی جلد، 22 صفحہ، 9/10)

مختصر یہ کہ جب یہ اطلاع حضرت علیؓ کو ملی تو بہت خوش ہوئے اور باقی لوگ بھی صلح پر متوجہ ہوئے۔ البتہ بعض لوگوں کو یہ چیز ناگوار گزری اور بعض کو پسند آئی۔ بہرحال فریقین نے صلح و مصالحت پر اتفاق ظاہر کیا۔

اس موقعہ پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک تاریخی خطبہ دیا اور اس میں یہ بھی اعلان فرمایا کہ

الا وانی راحل غدا فارتحلوا الا ولا یرتحلن غدا احد اعان علی عثمان بشئی فی شئی من امور الناس.

(الفتنۃ وقعۃ الجمل لسیف بن عمر الضی: صفحہ، 147 البدایہ لابن کثیر: جلد، 7 صفحہ، 237)

ہم کل یہاں سے روانہ ہوں گے (اور دوسرے فریق کے پاس جائیں گے) اور خبردار جس نے بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل پر اعانت کی ہے وہ ہم سے الگ ہو جائے، ہمارے ساتھ نہ رہے۔

جب یہ اعلان ہوا تو فتنہ انگیز سبائی شیعہ پارٹی کے سربراہ شریح بن اوفیٰ، علباء بن الہیثم، سالم بن ثعلبہ العبسی، عبداللہ بن سبا المعروف با بن السوداء وغیرہ سخت پریشان ہوئے اور انہیں اپنا انجام تاریک نظر آنے لگا۔

قابل غور بات یہ تھی کہ اس پارٹی میں ایک بھی صحابی نہ تھا۔

علامہ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں:

ولیس فیہم صحابی وللہ الحمد.

(البدایہ لابن کثیر: جلد 7 صفحہ، 238)

اس پارٹی نے ایک خفیہ مشورہ کے تحت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا لیکن باہم اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے یہ منصوبہ ناکام رہا۔

چنانچہ شیخ عبدالوہاب شعرانیؒ لکھتے ہیں:

فان بعضہم کان عزم علی الخروج علی الامام علی رضی اللہ عنہ وعلی قتلہ لما نادیٰ یوم الجمل بان یخرج عن قتلۃ عثمان الخ۔

(کتاب الیواقیت والجواہر: جلد، 2 صفحہ، 77)

بہرحال یہ دشمن تو اپنے اس مذموم عمل میں نا کام رہے، ادھر دونوں جماعتیں دو مقام پر جمع ہوئیں۔

سیدنا طلحہؓ، سیدنا زبیرؓ اور سیدہ عائشہؓ اپنے ساتھیوں کے ساتھ زابوقہ کے مقام پر پہنچے اور سیدنا علیؓ اپنی جماعت کے ساتھ ذاقار کے مقام پر تشریف لائے۔ قعقاع کے میدان میں فریقین کی صلح ہوئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ قاتلین کو شرعی سزا دینے پر راضی ہو گئے اور دوسری جماعت (حضرت طلحہؓ وغیرہ) بیعت پر راضی ہو گئے اور اس صلح پر کوئی شک نہ رہا۔

وہم لا یشکون فی الصلح

(الفتنۃ وقعۃ الجمل: صفحہ، 155 روح المعانی: جلد، 22 صفحہ، 9/10)

ان حالات میں تمام حضرات نے خیر اور سلامتی سے رات گذاری لیکن مفسدین اور قاتلین عثمان پوری رات فتنہ کھڑا کرنے کی تدابیر میں مصروف رہے آخر کار تاریکی میں دفعۃ لڑائی کرا دینے پر ان کا اتفاق ہو گیا۔

اس واقعہ جمل کو علامہ قرطبیؒ نے اپنی مشہور تفسیر احکام القرآن میں سورۃ الحجرات کی آیات کے تحت اس طرح بیان فرمایا ہے

صفحہ 2 از 8